مریم نواز سے عمران اینڈ کمپنی خائف کیوں ہے ؟ اگر نواز شریف کی صاحبزادی لوگوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر حالات کیا ہونگے ؟ بڑے کام کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے دوست رانا ہمایوں اسلم نے گوجرانوالہ سے خبر دی ہے کہ شہر پی ڈی ایم کے جلسے کی وجہ سے سیاسی حوالے سے پوری طرح دہک رہا ہے۔ گوجرانوالہ کے عوام زندہ دِل ہیں، خوش خوراک ہیں، خوش باش ہیں،اِس لئے انہیں پہلوانوں کے دنگل ہوں یا سیاسی اکھاڑے کے

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔موج میلے، بہت پسند ہیں۔ایک عام سا جلسہ بہت خاص جلسہ بن گیا ہے،جیسے ایک جلسے کے بعد میدان پلٹنے والا ہو، حالانکہ وزیراعظم کا کلہ اب بھی مضبوط ہے،مگر نجانے کیوں حکومتی کیمپوں میں گوجرانوالہ کے جلسے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ رانا ہمایوں اسلم کے مطابق آج کے جلسے میں حکومت مخالف لوگ تو جائیں گے ہی،وہ بھی جائیں گے،جو حکومت کے مخالف نہیں، تاہم وہ اس تاریخی جلسے کی رونق کو مس نہیں کرنا چاہتے۔یوں ایک بڑا سیاسی شو متوقع ہے۔ گوجرانوالہ نے بھی بڑے بڑے جلسے دیکھے ہیں،خود پی ٹی آئی نے اس سٹیڈیم میں ایک بہت بڑا جلسہ کیا تھا۔البتہ اس جلسے کی اہمیت خود حکومت نے اپنے اقدامات اور ردعمل سے بڑھا دی ہے۔اب اگر یہ جلسہ بہت کامیاب رہتا ہے تو اس کے اثرات پی ڈی ایم کے آئندہ جلسوں پر پھر بھی پڑیں گے، حکومت مخالف تحریک کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا۔وزیراعظم عمران خان آج بھی پی ڈی ایم کی تحریک کو این آر او لینے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔انہوں نے کل بھی کہا ہے کہ این آر او دے دوں تو تحریک فوراً ختم ہو جائے گی،لیکن مَیں یہ کام کسی صورت نہیں کروں گا۔کیا واقعی وزیراعظم کا یہ بیانیہ اس تحریک کو عوام کی نظروں میں بے اثر بنا سکتا ہے یا بہت سے اور ایسے عوامل ہیں،جن کی وجہ سے عوام حکومت کی بجائے اپوزیشن کی طرف دیکھنے لگے ہیں؟دو سال کے عرصے میں سوائے زبانی تسلیوں کے عوام کو کچھ نہیں دیا جا سکا۔

یہ امر قابل ِ غور ہے کہ جب حکومت کے آغاز میں اپوزیشن نے احتجاج شروع کیا تھا، تو عوام کی طرف سے اسے پذیرائی نہیں ملی تھی،اس کی وجہ یہ تھی کہ عوام عمران خان کو حکومت کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔ اب اگر وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن دو سال سے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی کوشش کر رہی ہے،مگر اُسے کامیابی نہیں ہوئی تو انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ پہلے اپوزیشن کی ہر تحریک کو وہ فری ہینڈ دیتے رہے ہیں،اِس بار اتنا اضطراب کیوں ہے اور کیوں ایک جلسے کو روکنے یا ناکام بنانے کے لئے اتنے سخت اور متنازعہ اقدامات کئے جا رہے ہیں؟ ظاہر ہے اب خراب کارکردگی کی وجہ سے حکومت پر دباؤ موجود ہے اور پورے ملک میں مہنگائی کے باعث ہا ہا کار مچی ہوئی ہے،ہر طبقہ پریشان ہے اور حکومت سوائے وعدہئ فردا کے اور کچھ نہیں کر پا رہی۔جب کابینہ کے اندر سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہوں کہ عوام کا سامنا کرنا مشکل ہو رہا ہے تو وزیراعظم اس حقیقت کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ تپش کہاں کہاں پہنچ رہی ہے،اِس لئے اپوزیشن کی موجودہ تحریک کو اُس کے ماضی کی حکومت مخالف سرگرمیوں سے نہیں جوڑا جا سکتا۔یہ حقیقت بھی پیش ِ نظر رہنی چاہئے کہ حکومت کے آغاز میں ملک سے اپوزیشن تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ حالات یہ ہو چکے تھے کہ اکیلے مولانا فضل الرحمن کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے،باقی کسی میں کوئی دم خم نہیں تھا،لیکن صرف دو برس کے عرصے میں حالات صفر سے سو تک پہنچ گئے ہیں،اب اپوزیشن ایک حقیقت بن گئی ہے اور اُس کی

تحریک بھی بے جان نہیں رہی۔حکومت کے لئے پریشانی کا باعث شاید یہ حقیقت بھی ہے کہ پہلی بار اپوزیشن متحد کھڑی ہے اور اُس میں کوئی دراڑ پیدا نہیں ہو رہی۔اس سے پہلے یہی اپوزیشن صرف اجلاسوں تک متحد ہوتی تھی، اُس کے بعد سب اپنی اپنی راہ لیتے تھے، حتیٰ کہ اس تسلسل کے ساتھ ہونے والی بے یقینی کے باعث مولانا فضل الرحمن بھی تقریباً بددل ہو گئے تھے اور انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ مَیں اکیلا ہی حکومت مخالف تحریک چلاؤں گا،مگر اِس بار ایسا نہیں ہو رہا۔ پی ڈی ایم میں اتفاق و اتحاد موجود ہے اور مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں یہ اتحاد پوری طرح متحد نظر آ رہا ہے۔اس کی کیا وجہ ہو سکتی تھی؟ظاہر ہے اس حال تک اپوزیشن کو حکومت نے خود پہنچایا ہے۔اب اُسے عوامی سپورٹ بھی مل رہی ہے اور عوام کی بے زاری اُسے حوصلہ دے رہی ہے۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اس بار نواز شریف پوری طرح اس تحریک کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں سے کہہ دیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔اُدھر مریم نواز بھی پوری طرح متحرک ہو چکی ہیں۔یہ دو بڑے عوامل ہیں،جنہوں نے دو سال پہلے اور آج کی صورتِ حال کو تبدیل کیا ہے۔ شہباز شریف کے منظر سے ہٹنے کے باعث اب مسلم لیگ (ن) میں ایک ہی بیانیہ آ گیا ہے اور وہ نواز شریف کا بیانیہ ہے۔اُدھر پیپلزپارٹی بھی اب یہ سوچنے لگی ہے کہ

تحریک کا ٹمپو تیز ہوا ہے،تو اسے پیچھے نہیں رہنا چاہئے،وگرنہ ملک میں صرف دو پارٹیاں رہ جائیں گی……تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن)……ویسے بھی پنجاب کی حد تک اس تحریک کی کامیابی کے لئے مسلم لیگ(ن) کی عملی شرکت اور سپورٹ ہی کافی ہے، خاص طور پر اپر پنجاب میں مسلم لیگ(ن) آج بھی ایک مقبول جماعت ہے اور عوام کو باہر نکالنے پر بھی قادر ہے۔یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے پہلے جلسے کا اعلان کوئٹہ میں کرنے کا کیا تھا، لیکن پھر غالباً نواز شریف کے کہنے پر حکمت ِ عملی تبدیل کی گئی اور پہلا جلسہ پنجاب اور وہ بھی گوجرانوالہ میں کرنے کا اعلان کیا۔یہ حکمت ِ عملی کامیاب رہی۔کوئٹہ میں جلسہ ہوتا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے اُسے ناکام بنانے کے لئے وہ ہتھکنڈے اختیار نہیں کرنے تھے، جو گوجرانوالہ کے جلسے کو ناکام بنانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا مرکز ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک کسی تحریک کا ڈنکا پنجاب میں نہ بجے اُس کی کامیابی کے امکانات مشکوک ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں حکومت بلاوجہ ٹریپ ہو گئی۔وہ گوجرانوالہ کے جلسے کی بابت اتنی سنجیدہ نہ ہوتی تو یہ جلسہ بھی صرف ایک جلسہ بن کر گذر جاتا،لیکن اسے ناکام بنانے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر کے حکومت نے خود ملک میں سیاسی کشیدگی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔پورے پنجاب میں گرفتاریاں اور گوجرانوالہ میں ایمرجنسی جیسی صورتِ حال نے اس ٹھہراؤ کو ختم کر دیا ہے،جو اس تحریک کے اعلان سے پہلے موجود تھا۔ایسی صورتِ حال میں اپوزیشن جو دعویٰ بھی کرے، سچ لگنے لگتا ہے،مثلاً مولانا فضل الرحمن کہہ رہے ہیں کہ حکومت دسمبر تک رخصت ہو جائے گی، حالانکہ بظاہر اس کے حالات نظر نہیں آتے۔ بہرحال آج گوجرانوالہ میں میدان لگے گا۔اس جلسے میں تقریروں کا لب و لہجہ کیا ہوتا ہے،خاص طور پر نواز شریف اور مریم نواز کا……اُس سے اندازہ ہو گا کہ بات کس طرف جا رہی ہے۔اس وقت کا ماحول تو یہی بتاتا ہے کہ معاملات اب پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف جا رہے ہیں۔