ڈونکی کنگ کو اقتدار میں لانے والوں سے پنجہ آزمائی بوڑھے شیر سمیت کوئی بھی نہیں چاہتا ، لیکن مولانا کو سیاسی اتحاد کا سربراہ بنانے کے پیچھے نواز شریف کی کیا چال ہے؟ ایک معنی خیز تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) کوا جسے پنجابی اور سرائیکی میں ’’کاں‘‘ کہا جاتا ہے، محبت بھرے جذبات و احساسات کا پیامبر ہے مگر اس مادہ پرستانہ دور کی محبوبائیں جو اپنا عکس میزان زر میں تولتی ہیں، اپنے محبوب کی آمد کی خبر سنے بغیر ’’کاں‘‘ کو چوری ڈالنے کی روادار بھی نہیں اور

گھر کی دہلیز سے اُڑنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض پنجابی شعرا نے تو مبالغہ آرائی کی سب حدیں پار کرکے بیچارے ’’کاگے‘‘ یعنی کوے کو مردوں کا جسم نوچنے والا سفاک پرندہ قرار دیدیا ہے۔ ’’کاگا سب تن کھائیو، چن چن کھائیو ماس۔ دو نیناں مت کھائیو انہیں پیا ملن کی آس‘‘۔ آپ محبوب کے وصال کی تمنا اور اپنی بیتابی کا اظہار ضرور کریں مگر اس کی آڑ میں بیچارے کوئوں کی کردار کشی تو نہ کریں۔اردو شاعری میں بھی کوے کو رگیدنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا گیا، مثال کے طور پر حضرت علامہ اقبال اپنے شاہینوں کو لعن طعن کرنے کے بجائے کوئوں کو یہ کہہ کر کوسنے دینے لگے کہ ’’زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن‘‘۔ہمارے ہاں کوئوں کی رنگت کو ان کی پہچان بنا دیا گیا ہے اور جب کوئی شخص ڈھٹائی کی سب حدیں عبور کر جائے تو یہ کہہ کر جان چھڑائی جاتی ہے کہ ’’اس کا کوا سفید ہے‘‘۔ بہر حال ناپسندیدگی کے باوجود ایک بات تو سب مانتے ہیں کہ کوے دوراندیش اور سیانے ہوتے ہیں۔کوئوں کی نگاہ بہت تیز ہوتی ہے ،یہ دیگر جانوروں کے مقابلے میں بہت پہلے بھانپ لیتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے؟اسلئے میں معلومات کے حصول کے لئے کوئوں پر انحصار کرتا ہے۔چند روز قبل گھر کی چھت پر کوے کی تشریف آوری ہوئی تو میں نے سوچاکیوں نہ جنگل کی تازہ ترین خبروں اور حالات سے آگہی حاصل کی جائے۔ کوے کا کہنا ہے کہ جنگل

میں مور ناچنے کے دن ہوا ہوئے ،اب جنگل میں منگل کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ڈونکی کنگ کے خلاف نئی صف بندی کے باعث حالات کشیدہ ہیں۔شیروں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک باشندہ جس کے حریف قبیلے سے اچھے تعلقات ہیں ،اس نے جنگل کے ہاتھیوں کے سردار کے خلاف بات کر کے شیروں اور ہاتھیوں کے اتحاد کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی مگر بوڑھے شیر نے بروقت مداخلت کرکے صورتحال سنبھال لی۔بوڑھے شیر کے بعض ساتھی اب بھی ان منہ زور جانوروں سے کھلی لڑائی نہیں چاہتے جو ڈونکی کنگ کو اقتدار میں لائے مگر ان میں سے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ بوڑھے شیر کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دے سکے۔بوڑھے شیر نے ایک اور زبردست چال یہ چلی ہے کہ سیاہ اور سفید دھاریوں والے زیبروں کے سردار کو نئے اتحا دکاسربراہ بنوادیاہے۔زیبرے بظاہر بہت بھلے مانس اور خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔زیبرا جینیاتی اعتبار سے گھوڑے اور گدھے کا بہت قریبی رشتہ دار ہے مگر ان دونوں کی عادات و اطوار اور خصوصیات میں بہت فرق ہے۔گھوڑے کی طنابیں ہاتھ میں لیکر کوئی بھی سواری کر سکتا ہے اور گدھا اتنا کام نہیں کرتا جتنی ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا ہے۔مگر زیبرا دونوں سے بہت مختلف ہے ۔اس کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اسے سُدھایا نہیں جا سکتا ۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگ کتا ،بلی ،یہاں تک کہ شیر پال لیتے ہیں مگرآپ نے کبھی کسی زیبرے کو بطور پالتو جانور نہیں دیکھا ہوگا۔اسی طرح گدھے کے قریبی عزیز زیبرے کو آپ نے کبھی مال برداری کرتے یا سامان ڈھوتے نہیں دیکھا ہوگا۔ماہرین حیاتیات کے مطابق زیبر اجارحانہ رویئے کا حامل ہے ۔اگر اس کا سامنا کسی درندے سے ہو جائے تو یہ اپنے دفاعی طریقہ کار کے تحت پچھلی ٹانگوں سے ایسی زبردست دولتی مارتا ہے کہ ضرب کاری لگے تو خونخوار جانورکی جان بھی جا سکتی ہے۔کم و بیش 45برس قبل جب روس کے برفانی ریچھ نے جارحیت کی تو ان زیبروں نے اسکا کیا حال کیا ،اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں۔