’’FACTS‘‘ یعنی حقائق اور یہ زندگی

سچ تو یہ ہے کہ مجھے ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ پر تبصرے، تجزیے سے چڑ بلکہ نفرت ہے کیونکہ مجھے یہ ایکسرسائز کلرکوں اور قصائیوں کے کام جیسی لگتی ہے جسے پنجابی میں کالیاں چٹیاں وکھو وکھ کرنا کہتے ہیں یعنی کالی اور سفید کو علیحدہ علیحدہ کرنا یا قصائیوں کی طرح گردن،

چانپ، پُٹھ، دستی وغیرہ کی علیحدہ علیحدہ بوٹیاں تیار کرنا لیکن کیا کریں کہ یہ سب ’’پارٹ آف دی پیکج‘‘ یعنی ہمارے کام کا حصہ ہے سو میں بھی اس میں ’’ملوث‘‘ ہوں۔ ہر اتوار ’’میرے مطابق‘‘ میں یہی کچھ کرتا ہوں لیکن بھلا ہو ان ذہین ناظرین کا جو اکثر ذرا مختلف قسم کے سوال بھی بھیج دیتے ہیں مثلاًذہانت اور دانش میں کیا فرق ہے؟گھر اور مکان میں کیا فرق ہے؟ خوف اور بہادری کیا ہے؟زندگی میں ڈسپلن کا کیا رول ہے؟مقدر اور محنت میں فوقیت؟مستقبل کیا چیز ہے؟تعلیم اور تربیت میں زیادہ اہمیت کسے حاصل ہے؟قیادت کیا ہوتی ہے، کیسی ہونی چاہئے؟معاشرہ میں قانون اور انصاف کا کیا مقام ہے؟محبت کیا ہے؟زندگی میں ’’تیاری‘‘ کا کیا کردار ہے؟کامیابی اہم ہے یا خوشی؟دعا کی اہمیت؟ وغیر ہ وغیرہ وغیرہ ایسے سوالات مجھے بہت انسپائر اور ٹریگر کرتے ہیں، صحیح معنوں میں انہیں انجوائے کرتا ہوں۔ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ بظاہر سادہ سے ان بیحد ’’لوڈڈ‘‘ سوالوں کے ساتھ کس قدر انصاف کر پاتا ہوں لیکن خوشی بہت ہوتی ہے اور رسپانس بھی زبردست ہوتا ہے اس لئے سوچا کہ کیوں نہ انہیں کالموں میں بھی شامل کر لیا جائے۔غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لونشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں گزشتہ اتوار ’’میرے مطابق‘‘ میں ایک سوال تھا کہ زندگی میں ʼʼFACTSʼʼیعنی حقیقتوں کی کیا حیثیت ہے؟ اس سوال کا اصل جواب تو یہ ہے کہ یہ سوال ہماری اجتماعی زندگی کا اہم ترین سوال اور ایک زندہ المیہ ہے کیونکہ ہم حقائق سے بہت دور خیالوں، خوابوں،

خواہشوں، سرابوں، وہموں، مفروضوں، ٹوٹکوں، تعویذ گنڈوں، نیک و بدشگونوں پر زندہ رہنے والے لوگ ہیں کیونکہ یا ہم میں FACTS کا سامنا کرنے کی سکت نہیں یا زندگی میں ان کے اہمیت کا شعور نہیں۔ وجہ یا وجوہات جو بھی ہوں یہ بات طے ہے کہ FACT یعنی حقیقت زندگی کی سفاک ترین حقیقت ہوتا ہے کیونکہ آپ حقائق کو نظر انداز یا بائی پاس کر کے انہیں تبدیل نہیں کر سکتے اور ایک وقت آتا ہے جب حقائق ہر شے کو روند کے رکھ دیتے ہیں۔ گھسی پٹی مثال ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کے آنکھیں موند لینے سے بلی غائب نہیں ہو جاتی اور بالآخر معصوم کبوتر کو اپنی اس معصومیت یا جہالت کی قیمت اپنی جان دے کر چکانا پڑتی ہے۔ FACTS یعنی حقائق کے حوالہ سے ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ حقائق تک پہنچنے کے لئے گہری کھدائی بہت ضروری ہے کیونکہ کچ پکے، نامکمل، ادھورے حقائق پورس کے ہاتھی بن کر فائدہ مند ہونے کی بجائے خطرناک حد تک نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے جبکہ اس کے لئے صبر و استقامت کی ضرورت ہے جو ہمارے اندر نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ہم بہت جلد باز اور عجلت پسند لوگ ہیں۔ ذاتی رائے، پسند نا پسند اور حقائق میں تمیز کرنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا اور ʼʼFACTSʼʼکے حوالہ سے اک اہم بات یہ ہے کہ

انہیں بہادری اور کشادگی سے فیس کرنا اہم ترین مرحلہ ہے اور اس طرح کے جملے جماندرو قسم کے احمقوں کو ہی زیب دیتے ہیں کہ ’’پلیز! میں نے فیصلہ کر لیا ہے اس لئے حقائق بتا کر مجھے کنفیوژ کرنے کی کوشش مت کرو‘‘۔ اک عربی مقولہ کا فری سٹائل سا ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ ’’جب تم زبان کا نیزہ چلائو تو پہلے اس کی انی حقائق کے زہر میں ڈبو لو‘‘ جبکہ ہمارے کلچر میں ہوائیاں چھوڑنے کا رواج بہت مقبول ہے۔ منہ پھاڑ کے بےتکے الزام لگا دیتے ہیں اور پھر جھوٹے ثابت ہونے پر معذرت تک کرنے کا تردد بھی ضروری نہیں سمجھتے جس کے نتیجہ میں اس طرح کے محاورے جنم لیتے ہیں کہ ’’کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلے گزر جاتے ہیں‘‘۔ انتہائی گرما گرم بحث کو ختم کرنے کا اک بہترین طریقہ یہ ہے کہ موضوع کو ٹھنڈے ترین پانی میں چند غوطے دے دیے جائیں۔ عدالت میں بھی واقعاتی شہادت، عینی شہادت پر اس لئے بھاری پڑتی ہے کہ آدمی تو جھوٹ بھی بول سکتا ہے جبکہ واقعات جھوٹ نہیں بول سکتے اور آخری بات یہ کہ جب FACTS یعنی حقائق اوریجنل اور تخلیقی قسم کے آئیڈیاز کے ساتھ مل جائیں تو اک نئی تاریخ جنم لیتی ہے۔ انہی اوریجنل آئیڈیاز کو آئوٹ آف بوکس تھنکنگ بھی کہا جاتا ہے لیکن جہاں ’’تھنکنگ‘‘ ہی مر چکی ہو وہاں آئوٹ آف بوکس تھنکنگ کہاں سے آئے گی۔