جاوید چوہدری کی حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) انگریز کے دور میں گھوڑے پولیس کی ٹرانسپورٹ ہوتی تھی‘ سرکاری گھوڑا اس زمانے میں بہت قیمتی ہوتا تھا‘اس کی چوری کا مطلب جہاز کی چوری ہوتی تھی چناں چہ حکومت سرکاری گھوڑوں کے معاملے میں بڑی حساس ہوتی تھی‘ اس زمانے میں کوئی تھانے دار علاقے کے گشت پر نکلا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ راستے میں رات پڑ گئی‘ وہ نمبر دار کا مہمان بن گیا‘ نمبر دار کے چھ بیٹے تھے‘وہ کھیتی باڑی اور پہلوانی کرتے تھے‘ تھانے دار نے اپنا گھوڑا ان کے حوالے کیا اور تاکید کی ’’یہ سرکاری گھوڑا ہے۔اس کی خصوصی حفاظت کرنا‘ یہ کہیں چوری نہ ہو جائے‘‘ نمبر دار تھانے دار کے سامنے کھڑا ہوا اور سینے پر ہاتھ مار کر بولا ’’جناب آپ فکر نہ کریں‘ میرے چھ پہلوان بیٹے ہیں‘ ہم علاقے کے نمبر دار ہیں‘ اگر ہمارے اصطبل سے گھوڑا کھل (چوری) گیا تو فٹے منہ ہو ہم پر‘‘ فٹے منہ اس زمانے میں مردانگی کی انتہائی توہین ہوتی تھی‘ تھانے دار مطمئن ہو کر سو گیا‘ سردیوں کی رات تھی‘ صبح فجر کے وقت تھانے دار کا دروازہ بجنے لگا‘ وہ ہڑبڑا کر اٹھا‘ دروازہ کھولا تو نمبر دار اپنے چھ بیٹوں کے ساتھ باہر کھڑا تھا‘ تھانے دار نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا‘ نمبردار شرمندہ سی آواز میں بولا ’’جناب ہم نے بڑی حفاظت کی مگر آپ کا گھوڑا کھل گیا ہے‘ آپ اب مہربانی فرما کر ہمیں جلدی سے فٹے منہ کہہ دیں‘ ہم نے کھیتوں کو پانی دینے جانا ہے‘‘۔اگر پولیس چیف ہی مظلوموں کو یہ کہنا شروع کر دے تو پھر بات ختم ہو جاتی ہے‘ اس سے آگے پھر عدالتیں بچتی ہیں اور یہ صورت حال اگر اسی طرح جاری رہی تو پھر کسی نہ کسی دن جج حضرات بھی مدعی کو کہہ دیں گے ’’آپ کو اپنے گھر میں قیمتی چیزیں رکھنے کی کیا

ضرورت تھی؟ آپ نہیں جانتے ملک میں کتنی چوریاں ہو رہی ہیں یا پھر یہ مقتول کی ماں کو یہ کہہ دیں گے آپ کو ملکی حالات کا علم تھا‘ آپ نے اس کے باوجود بچہ بھی پیدا کر دیا اور اسے جوان بھی کر دیا چناں چہ اصل مجرم آپ ہیں۔کیوں نہ آپ کو تختہ دار کی سزا دے دی جائے‘‘ اور یہ سن کر جب لوگ شور کریں تو وزیراعظم فرما دیں ’’کیا ہوا‘ جج صاحب ٹھیک ہی تو فرما رہے ہیں‘ یہ خاتون اگر بچہ پیدا نہ کرتی تو یہ آج یہ نہ ہوتا‘‘ کیا ہم ملک کو وہاں تک لے جانا چاہتے ہیں؟۔میں واپس وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی طرف آتا ہوں‘ ہماری نظر میں اگر ملزم کا پیدل بھاگ جانا بھی کارنامہ ہے‘ ہم اگر اس پر بھی پریس کانفرنس کر سکتے ہیںتو پھر ہمیں یہ ڈکلیئر کر دینا چاہیے ملزم بزدل تھا‘وہ عام گاڑی میں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کو دیکھ کر بھاگ گیا اور پولیس بہادر اور چالاک تھی‘ یہ اسے روک نہیں سکی‘یہ انتہائی ذہین بھی تھی‘ اس نے وقار الحسن کو مجرم بھی ڈکلیئر کر دیا لہٰذا ہم پولیس کو اعلیٰ ترین اعزاز سے نواز رہے ہیں۔اگر یہ کارکردگی ہے توکیا پھر اگلی بار وزیراعلیٰ یہ اعلان کریں گے ’’ پولیس تین دن کی بھاگ دوڑ کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے خاتون کی آبرو ریزی کسی مرد نے کی تھی‘‘ یا پھر ہم پریس کانفرنس بلا کر قوم کو یہ بتائیں گے ’’آپ اگر خاتون ہیں تو پھر ذہنی طور پر تیار رہیں‘ آپ کے ساتھ بھی کبھی نہ کبھی ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے‘‘ یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے‘ یہ کون لوگ ہیں اور یہ روز چاند چڑھا کر تھک بھی نہیں رہے اور کیا ہمارے فٹے منہ کا وقت اب بھی نہیں آیا؟چناں چہ آپ کی مہربانی آپ ہمیں جلدی جلدی فٹے منہ کہیں تاکہ ہم کام دھندا کر سکیں‘ ہم کم از کم روزانہ کی اس بک بک سے تو نکل سکیں۔