جنرل ضیاء کی لگائی گئی سیاسی پنیری گھنا جنگل بن گئی ، ملک و قوم کا کیا حشر نشر ہو گیا ؟ کالم نگار آصف عفان نے جھلک دکھا دی

لاہور (ویب ڈیسک) جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے ہی کیے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لاعلم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور یہ کیسے کیسے مسائل اور انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔

انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ اکثر فیصلوں اور اقدامات کے پسِ پردہ عزائم بھی کمر کے اُس تِل کی طرح ہی اوجھل ہوتے ہیں‘ جلد یا بدیر جن کے نتائج بہرحال حکمرانوں کو ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تو ”تتر بتر‘‘ ہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزل کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔ حکومت کے اکثر شرکا سابق حکمرانوں کے مشیر اور فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں‘ جو اپنی آنکھ کا شہتیر بھول کر سابق ادوار کے حکمرانوں کی آنکھ میں تنکے کا واویلا زور و شور سے کر رہے ہیں۔کیا وزیر کیا مشیر‘ سرکاری بابو یا رفقا اور مصاحبین‘ کیسی کیسی واردات کس مہارت سے کرتے نظر آتے ہیں کہ بند آنکھ سے بھی سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہے۔اگر نظر نہیں آتا تو بس حکام کو نظرنہیں آتا۔ یہ منظرنامہ قطعی نیا نہیں‘ ہر دور میں ہر حکمران کے اردگرد ایسے کردار کثرت سے نظر آتے رہے ہیں اور ان میں سے اکثر چہرے تو ہر دور میں اگلی نشستوں پر براجمان دکھائی دیتے ہیں۔ ضیا الحق کے دور میں لگائی گئی سیاسی و انتظامی پنیری اب گھنا جنگل بن چکی ہے‘ جن میں سے اکثر کردار خاردار بیل ثابت ہو چکے ہیں۔ ہر دور میں اقتدار کے جھولے لینے والے عہدِ حاضر میں بھی پکنک مناتے نظر آتے ہیں۔ جنہیں نجات دہندہ سمجھتے رہے‘ وہ نجانے کہاں کہاں نادہندہ نکلے

اور پھر انہی سے نجات کے لیے کیسی کیسی دعائیں مانگنا پڑیں۔ جنہیں بے پناہ چاہا‘ پھر انہی سے پناہ مانگتے نظر آئے۔ یہ سبھی وہی کردار ہیں جو ہردور میں حکمرانوں کے پیروں کی بیڑی اور گلے کا طوق بنتے چلے گئے۔ روٹی‘ کپڑا‘ مکان کا جھانسہ ہو یا نظامِ مصطفی کا خواب‘ لانگ مارچ ہو یا تحریکِ نجات‘تبدیلی کا دھرنا ہو یا آزادی مارچ‘یہ سارے معاملات‘ یہ سارے تماشے حصولِ اقتدار سے شروع ہو کر طولِ اقتدار تک عوام کو کیسے کیسے عذابوں سے دوچار رکھے ہوئے ہیں۔ حکمران عہدِ ماضی کے ہوں یا دورِ حاضر کے‘ نہ تو انہیں عوام کا کوئی درد ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے وقار اور استحکام سے کوئی سروکار‘ سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور کلیدی عہدوں کی بندر بانٹ اور کنبہ پروری کے ساتھ ساتھ بندہ پروری کا رواج کوئی نیا نہیں‘ صرف چہرے بدل رہے ہیں‘ کردار نہیں۔ عوام کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ جس معاشرے میں سب کچھ چلتا ہے‘ وہاں کچھ بھی نہیں چل سکتا۔ جس ملک کے حکمران طبقے کی دیانت اور اہلیت پر آئے روز سوال اُٹھتے ہوں تو پھر کیسی قیادتیں اور کہاں کی گورننس؟ہوسِ زرکے مارے حکمرانوں نے عوام کے سروں پر مسلط رہنے کے لیے کون سا شارٹ کٹ نہیں استعمال کیا۔ ایسا ایسا شارٹ کٹ کہ پورا سسٹم ہی شارٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ سسٹم شارٹ کیا ہوا پھر ان کے ہاتھ سے کچھ نہیں بچا۔ اخلاقی قدروں سے لے کر عوام کو تواتر سے دکھائے گئے سہانے خوابوں تک سبھی کچھ تو چکنا چور ہو چکا ہے۔

ٹریفک سگنل سے لے کر آئین اور قانون تک‘ توڑنے والوں نے کیا کچھ نہیں توڑا؟ ماضی کے حکمرانوں نے اس ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کیا سو کیا‘ کسر تو موجودہ حکمران طبقے نے بھی کوئی نہیں چھوڑی دو سالوں سے ان کی اہلیت اور قابلیت پر اٹھنے والے سوالات معمہ بن چکے ہیں۔ انتہائی اہم اور کٹھن فیصلوں کا بار اٹھانے سے قاصر یہ حکمران بس زبانی جمع خرچ سے الفاظ کا گورکھ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کوئی سیاسی دباؤ اور مصلحتوں کا شکار ہو گیا تو کوئی رنگ میں رنگا گیا‘ گویا سبھی کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملاح کو جہاز اُڑانے کے لیے کاک پٹ میں بٹھا دیا گیا ہو۔ طرزِ حکمرانی سے لے کر من مانی تک‘ سڑکوں اور گلیوں کی صفائی ستھرائی سے لے کر ہاتھ کی صفائی تک‘ کورونا سے لے کر حالات کے رونے تک‘قانون سے لے کرسماجی انصاف تک‘ سماجی اقدار سے لے کر اخلاقی قدروں تک‘سبکی سے لے کر پسپائی تک‘رخ سے لے کر پیکر تک‘خود نمائی سے لے کر خود پرستی تک‘ موقع پرستی سے لے کر شخصیت پرستی تک‘گورننس سے لے کر میرٹ تک‘اداؤں سے لے کر خطاؤں تک‘ خیال سے لے کر تکمیل تک‘ خواب سے لے کر تعبیر تک‘ یوٹیلٹی بلوں سے لے کر عوام کی بلبلاہٹ تک‘ وسوسوں سے لے کر خوف و ہراس تک‘ عوام سے لے کر حکام تک‘ سبھی موضوعات ایسے ہیں جن پر جتنا بھی رونا رویا جائے کم ہے۔ سبکی اور جگ ہنسائی سے بے نیاز حکومتی

ساکھ سمیت نجانے کیا کچھ داؤ پہ لگانے کے بعد ہاتھ کی صفائی کو نصب العین بنانے والے چیمپئنز کس دیدہ دلیری سے وہ سبھی کچھ کیے چلے جارہے ہیں جن پر وہ کنٹینر پہ کھڑے ہوکر تنقید کے نشتر برسایا کرتے تھے۔ محکمہ مال ہو یا شہری سہولتیں‘ پرزن ریفارمز ہوں یا پولیس ریفارمز‘ پرائس کنٹرول ہو یا انسدادِ ملاوٹ‘ صحتِ عامہ ہو یا مفادِ عامہ‘ فروغِ تعلیم سے لے کر علم و ہنر تک سبھی شعبے ریفارمز کو ترستے ہوئے اب ڈیفارمز کا انبار دکھائی دیتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر جو کھلواڑ اور واردات منظر عام پر آئی ہے‘ وہ الگ کہانی ہے۔ سکولوں کو اَپ گریڈ کرنے اور لائبریریز کے قیام کے لیے برطانیہ سے ملنے والی گرانٹ کا کیابنا؟ من پسند اور چہیتے ناشرین کی تجوریاں بھرنامحکمہ تعلیم کے بعض ذمہ داران کا ایجنڈا ہے یا کسی کے حکم اور اشارے پر یہ سب کیا جا رہا ہے۔ شعبہ تعلیم کے ساتھ یہ کھلواڑ ان بچوں کے ساتھ ظلم ہے جن کی اَپ گریڈیشن کے لیے برطانوی ادارے نے ایک خطیر رقم کی گرانٹ جاری کی تھی۔ معاملات اب لاکھوں اور کروڑوں سے نکل کر اربوں تک آپہنچے ہیں اور ستم یہ کہ پہلے سے ہی بنجر تعلیم کے شعبے کو کوڑھ زدہ کرنے کا ایجنڈا جاری ہے۔ اس واردات پر سر پیٹنے والے بے بس اور سر دھننے والے بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں کہ وہ فروغ تعلیم کے لیے کس قدر کوشاں ہیں۔ 3ارب کی یہ گرانٹ کتنے سکولوں کی اپ گریڈیشن اور کتنی لائبریریوں کے قیام کے علاوہ اُن بچوں کو بھی سکول لانے کا موجب بن سکتی تھی جنہوں نے کبھی سکول کی شکل بھی نہ دیکھی‘ لیکن یہ واردات تو پہلے سے موجود سکولوں اور ان میں پڑھنے والے بچوں کے لیے بھی کھلا اعلانِ جنگ ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ محکمہ تعلیم بچوں کو سکولوں سے بھگانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ تبدیلی کا سونامی تو برسرِ اقتدار آگیا‘ لیکن عوام کی مشکلات جوں کی توں ہیں‘ تعلیم جیسے شعبے کے ساتھ اگر اتنی بڑی واردات سرکا رکو ہضم ہو چکی ہے تو باقی شعبوں کی حالتِ زار پر گریہ زاری عوام کا مقدر کیوں نہ ہو؟خدارا!اپنے بچوں سے سوتیلوں والا سلوک ہرگز نہ کریں۔ سماجی اقدار سے لے کر اخلاقی قدروں تک‘رخ سے لے کر پیکر تک‘خود نمائی سے لے کر خود پرستی تک‘ گورننس سے لے کر میرٹ تک‘اداؤں سے لے کر خطاؤں تک‘ خیال سے لے کر تکمیل تک‘ خواب سے لے کر تعبیر تک‘ یوٹیلٹی بلوں سے لے کر عوام کی بلبلاہٹ تک‘ وسوسوں سے لے کر خوف و ہراس تک‘ عوام سے لے کر حکام تک‘ سبھی موضوعات ایسے ہیں جن پر جتنا بھی رونا رویا جائے کم ہے۔