اللہ کسی کو خود لاٹھیوں سے نہیں مارتا بلکہ اسکی عقل میں فتور پیدا کردیتا ہے ۔۔۔ شریف برادران کے ساتھ کیا ہوا ، یہ تو آپ جانتے ہیں ، مگر جہانگیر ترین کی کہانی کیا ہے ؟ ایک غیر جانبدار صحافی کی زبردست تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہرسکینڈل کہانی میں عبرت کا سامان ہوتاہے لیکن کوئی بھی اس سے سبق نہیں سیکھتا نواز شریف خاندان سے جہانگیرترین تک آلودہ دولت کے انبار لگانے والوں کا جوحشرہوا ہے اوراب تک ہورہا ہے کوئی ا س سے عبرت پکڑنے

کو تیار نہیں ہے اوران دونوں گوٹالوں میں تین نام مشترک ہیں پاناما کیس جناب نواز شریف اورجہانگیرترین کے ساتھ ساتھ جناب واجد ضیاء کا نام نامی بھی منظرعام پرآیا پولیس گروپ کے 16ویں کامن سے تعلق رکھنے والے واجد ضیا آج ایک بار پھر سنگ الزام اوردھمکیوں کی زد میں ہیں کہ انہوں نے چینی سکینڈل کے مرکزی کردار جہانگیر ترین کوبے نقاب کردیا ہے وہی جہانگیر ترین جس نے اپنے جہازاوربے پناہ دولت کے سہارے کپتان خان کے لیے اقتدار کی راہیں کشادہ کیں لاتعداد ارکان قومی اسمبلی کو عمران خان کی بیعت پر آمادہ کیا۔ وہ کل تک “بادشاہ گر”تھے جس نے تحریک انصاف جیسی فلاحی اورانقلابی جماعت کی بنیادی ساخت تبدیل کرکے رکھ دی اوراسے مروجہ سیاست کی آلودگی میں غرق کرکے رکھ دیا شب گذشتہ جادوئی سرمئی سکرین پر بیٹھ کر جناب ترین عمران خان پر اپنے احسانات گنوارہے تھے کہ کیسے 2013 کی عبرت ناک انتخابی شکست کے بعد میں نے عمران خان کو سیاسی خانوادوں کی اہمیت اور (electable) کی سیاست کرنے پر آمادہ کیا کس طرح 2018 میں ہم 67 نشستیں جیت گئے لیکن وہ اس حقیقت کوچھپاگئے کہ وسطی پنجاب سے قومی اسمبلی کی 42نشستوں پر منڈی بہاوالدین سے ساہیوال تک تحریک انصاف کو بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑاتھا۔لیکن انہوں نے ارباب شہزاد کے ذریعے رپورٹ سے اپنا نام مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جس رپورٹ اعظم خان وزیر اعظم کو مسلسل پہنچاتے رہے ۔ آٹاچینی سکینڈل کی پس پردہ کہانیاں ہمارے شاہ جی، جناب نصرت جاوید سے بہتر کون مائی کا لال بیان کرسکتاہے

یہ کالم نگار آپ کو چینی سے جڑی بھولی بسر ی پاناما کہانی سناناچاہتاہے۔ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دورعروج پر باسل سوئٹزرلینڈسے ایک معاشی غارت گر اسلام آباد پہنچا اور اس نے دعوی کیا کہ وہ شریف خاندان کی کالی دولت کی بیرون ملک سرمایہ کاری کا مشیررہا ہے اسے چھپائے گئے 300ملین ڈالر کی تمام تفصیلات کا علم ہے اگر حکومت پاکستان آمادہ ہوجائے تو یہ رقم برآمدکرائی جاسکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری اس کے ذریعے کی جائے جنرل مشرف کے کورگروپ نے اسے نوسربازاورفراڈیاکہہ کر گھاس نہ ڈالی اوروہ شخص واپس سوئیٹزرلینڈ چلاگیا۔اپنی کمشن کی رقم ڈوبنے پر تلملاتاوہ “سوئس ماہر سرمایہ کاری”کسی نہ کسی طرح براہ راست جنرل مشرف تک رسائی حاصل کرلیتا ہے دوبارہ اسلام آباد پہنچتاہے تو اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف،جنرل حامد جاوید مرحوم اسے جنرل مشرف سے ملواتے ہیں لیکن غیرسنجیدہ اورنوسربازقراردیتے ہیں جنرل مشرف بڑے رسان لہجے میں کہتے ہیں کہ اس کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں اس لیے گورنر سٹیٹ بنک کوبلا کر معاملہ ان کے سپرد کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے اور جناب عشرت حسین منظرنامے میں داخل ہوتے ہیں یہ وائٹ کالر کرائم کے ماہر عامر عزیز سے ابتدائی گفتگوکرتے ہیں جو انہیں 6ہفتوں میں تحقیقات کرکے بتاتے ہیں کہ “سوئس ماہر”بالکل درست کہتا ہے اوراس طرح جناب عشرت حسین معالہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کرتے ہیں اورسٹیج پر واجد ضیا نمودار ہوتے ہیں ۔ جنرل مشرف کو وکلا تحریک کے نتیجے میں گھر جانا پڑتا ہے

2013 کے عام انتخابات کے بعد نوازشریف تیسری مرتبہ طاقتور وزیراعظم بن نمودار ہوتے ہیں اور تقدیر مسکراتی ہے اور پھر پاناما دھماکہ ہوتا ہے قدرت کاملہ ایسے اسباب پیداکرتی ہے کہ حسین نواز، مریم نواز کے متضاد اور طوطے کی طرح رٹائے انٹرویوز جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں تو وزیراعظم نواز شریف کی ایوان میں تقریر اور دیگر بیانات لطیفہ گوئی اور مزاحیہ سٹیج ڈراموں کی نذر ہو جاتے ہیں جس سے سیاست میں منفرد کردار ادا کرنے والے کڑاکے کڈ دیاں فیم مشاہد حسین سب سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں بار بار فرماتے ہیں …؎رب ناں ڈانگیں مار دا۔۔مت کوّلی دیندا پا۔۔۔اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ‘‘اللہ تعالی لاٹھیوں کے ساتھ کسی کو نہیں مارتا بلکہ اس کی عقل میں فتور پیدا کردیتا ہے’’قہقہے لگاتے اس کالم نگار کو بتاتے کہ کیسے ہمیں ظالم مشرف کی قید میں چھوڑ کر سارے خاندان کو باورچیوں کے طائفہ سمیت نواز شریف کمانڈو جرنیل سے معافی تلافی کرکے جدہ فرار ہو گئے تھے تقدیر اس وقت بھی مسکرا رہی تھی کہ ابھی مشاہد حسین سید نے مریم بی بی کو چکر دے کر ‘‘ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا نعرہ ایجاد کرکے رفو چکر ہونا تھا ۔16 ویں کامن گروپ سے تعلق رکھنے والے واجد ضیا کا سٹاف کالج کا ساتھی فواد حسن فوادنوازشریف کاکارخاص اورپرنسپل سیکریٹری نوازشریف کو یقین دلاتاہے کہ وہ واجد ضیا کو ہینڈل کرلے گا لیکن راست گو اورمسلمہ دیانتدارواجد ضیا کوموصوف سمجھ نہ پائے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر جناب عشرت حسین ورلڈاکنامک فورم ڈیوس ،سوئٹزرلینڈ میں اس کالم نگار کے ساتھ رہے ہیں

کل انہیں فون پر واجد ضیا اور تحقیقاتی پاناماسکینڈل کی تفصیلات بارے گپ شپ کی توانہیں نے کہا کہ 15برس پرانی بات ہے مجھے اب کچھ یاد نہیں ہم نے ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملہ ایف آئی اے کو بھجوادیا تھا۔اب ذکرچینی سکینڈل کا جس میں واجد ضیا کو ایک بارپھر دھمکیوں کا سامنا کررہے کہاجارہا ہے کہ 70فیصدچینی برآمد ہی نہیں کی گئی اسے صرف کاغذات میں افغانستان بھجوایا گیا ہے طورخم تجارت کیسی ہوتی ہے اس پر ہمارے دوست ببلی شیخ ضرورت سے زیادہ روشنی ڈال چکے ہیں چینی سکینڈل کی زدمیں صرف جہانگیرترین نہیں دیگر بھی آئیں گے۔ایک بات طے ہے کہ جس جس کا نام بھی آیا وہ ماراجائے گا وہ کابینہ میں ہو یاباہر ، کوئی بھی بچ نہ پائے گا عمران ایک حدتک سادہ ہوسکتے ہیں لیکن جس شخص نے اوائل جوانی سے زندگی کے آغاز سے (party crowd boy) رہا ہو اتنا سادہ بھی نہیں ہوسکتا۔ویسے عمران خان کی زندگی کا نادیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ اسے کچھ روحانی بزرگوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔کروناکی ہلاکت خیز وبا پاکستان کے لیے زندگی کا پیغام لائی ہے ۔ مافیاز کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے 25اپریل کے بعد کرونا پسپاہوگا اور 72سال سے پاکستان کے اعصاب پر قابضین مافیا آخری ہچکیاں لے رہے ہوں گے۔ یکم مئی کے بعد روشن صبح طلوع ہوگی اورپاکستان قائداعظم کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑے گا۔یہ پر شکوہ واجد ضیا کی داستان حیات ہے جو راستے بدل بدل کر ہشت پا مافیاز کا راستہ روک لیتا ہے ۔(ش س م)