رحمان ملک کو بینظیر بھٹو نے وزیرداخلہ کیوں بنایا تھا ؟ صف اول کے کالم نگار نے دلچسپ کہانی بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) ملک عزیز میں اور کوئی کام ہو یا نہ ہو تبدیلی ایسی دھڑا دھڑ آرہی ہے کہ تبدیلی کا حقیقی مفہوم سمجھ میں آگیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں جتنے افسروں کے تبادلے ہوئے ہیں اتنے ماضی کے دس سالوں میں بھی بمشکل ہوئے ہوں گے۔ ظاہر ہے تبادلوں سے ہی تبدیلی آتی ہے

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور اس سے زیادہ اور تبدیلی کیا لائی جا سکتی ہے؟ میں نے ایک دوست سے عرصہ پہلے دریافت کیاکہ پروٹیکٹوریٹ آف امیگریشن میں نچلے درجے کی کسی پوسٹ پر چوہدری صاحبان کی سفارش پر بھرتی ہونے والے رحمان ملک بذریعہ ڈیپوٹیشن یا اللہ جانے کس چکر میں ایف آئی اے میں آ گئے‘ پھر ایڈیشنل ڈی جی سے چھلانگ لگاکر لندن چلے گئے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد وہ ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔ انہوں نے یہ محیرالعقول ترقی کا سفر کیسے اتنی جلدی اور پھرتی سے طے کیا؟ اس دوست نے کہاکہ دراصل اپنے ملک صاحب نے دوران نوکری اپنے افسران کے اتنے بچے سکول میں داخل کروائے کہ پورے اسلام آباد میں ان سے زیادہ داخلوں کا کسی کو تجربہ نہیں تھا‘ اس تجربے کی بنیاد پر بی بی نے انہیں ملک کا وزیر داخلہ لگا دیا۔بالکل اسی نوعیت کی تبدیلی آئی ہے۔ حکمرانوں نے ملک میں تبادلوں کا وہ جمعہ بازار لگایا ہے کہ ہر طرف تبدیلی تبدیلی ہوگئی ہے۔ اس دھڑا دھڑ ہونے والے تبادلوں سے مال پانی اکٹھا کرنے میں جو افراتفری مچی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی۔ میرے خیال میں تبادلوں کا سب سے بہترین ریکارڈ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب نے بنایا ہے اور دو سالوں میں اس پوسٹ پر بارہ خوش نصیبوں کا قرعہ نکلا۔ صرف محکمہ ہائر ایجوکیشن میں اتنے تیزرفتار تبادلوں سے آپ کو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ ملکی تعلیم میں تبدیلیوں کی

رفتار کتنے سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس خود جس طرح روزانہ واسکٹیں تبدیل کرکے آتے ہیں اس سے بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اوپر سے نیچے تک تعلیمی معاملات میں تبدیلی کے لیے یہ حکومت جتنا زور لگا رہی ہے ایسے نہ کبھی سننے میں آیا تھا اور نہ دیکھنے میں۔ان تیز رفتار تبادلوں سے ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ جس طرح نیک اور پرہیزگار لوگ اس دنیا کو فانی سمجھتے ہوئے تھوڑے وقت میں زیادہ نیکیاں کمانے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اسی طرح اب سرکاری افسران اپنی تعیناتی کو مختصر اور ناپائیدار سمجھتے ہوئے اس قلیل عرصے کو غنیمت جانتے ہیں اور اتنی پھرتی اورتیز رفتاری سے ہاتھ پائوں مارکر دنیاوی اسباب اکٹھے کرتے ہیں کہ نوکریوں کی بے ثباتی پر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ ملتان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران چار یا پانچ تو کمشنر تبدیل ہوئے ہیں۔ چار یا پانچ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کسی کو پکا پتا نہیں کہ یہ تعداد کتنی تھی۔ کوئی چار بتاتا ہے اور کوئی پانچ۔ صرف ایک پولیس افسر ہے جو گزشتہ دوسال سے ملتان میں بیٹھا ہوا ہے‘ اور میرے ”خیال‘‘ میں یہ پنجاب میں فی الوقت شاید سب سے طویل المدت تعیناتی ہے۔ ویسے تو اس لمبے عرصے کے بارے میں بھی لوگ کافی فضول فضول قسم کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن اب ایسی کہانیوں میں نہ کوئی نیا پن رہا ہے اور نہ ہی انہیں بیان کرنے کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے۔اس تعیناتی کو بھی میں نے اپنے ”خیال میں‘‘ لمبی ترین تعیناتی اس لیے کہا ہے کہ

کیا پتا اس قسم کے دو چار ہیرے کہیں اور بھی اپنی کارکردگی کے طفیل میری آنکھوں اور علم سے بچ بچا کر خدمتِ خلق میں مصروف ہوں۔ میں خواہ مخواہ غلط دعویٰ کرکے پھنس جائوں اور کسی ایسے قاری کے ”اڑیکے‘‘ چڑھ جائوں جن کاکام صرف اور صرف چھوٹی چھوٹی زبان کی، گرائمر کی، سن و سال کی اور نام کی غلطیاں نکال کر کالم نگاروں کو تنگ و پریشان کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی بلکہ صرف خیال ظاہرکیا ہے کہ موصوف کی ملتان میں تعیناتی غالباً پنجاب بھر میں سب سے لمبا عرصہ یعنی دو سال ہے۔ ظاہر ہے جتنا لمبا عرصہ ہے اتنی ہی لمبی کہانیاں ہیں‘ لیکن اسے آپ Exceptional یعنی استثنائی مثال کہہ سکتے ہیں۔ملتان کے ایک اخبار میں اسی قسم کی ایک خبر لگی ہوئی ہے کہ ایک بہت بڑے انتظامی افسر نے اپنی تعیناتی کو مختصر اور بے ثباتی کو حقیقت جانتے ہوئے مختلف محکموں کے فنڈز کو اسی طرح بھنبھوڑا جس طرح ہلاکو خان نے بغداد کو تاراج کرکے رکھ دیا تھا۔ اب نام کیا لکھیں؟ نام لکھنے میں نہ کوئی مروت کا مسئلہ ہے اور نہ خوف کا؛ تاہم احتیاط صرف اس لیے کرنا ضروری ہے کہ معاملہ آن پڑے تو آپ کوگواہ کوئی نہیں ملتا۔ ویسے یہ وائٹ کالر کرائم اتنی کمبخت شے ہے کہ اسے ثابت کرنا ایک مشکل تر کام ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے (سوائے پارٹی ورکرز کے) زرداری صاحب کتنے ایماندار ہیں اور میاں صاحبان کتنے پاک صاف ہیں‘ لیکن ابھی تک ان کے خلاف کچھ

ثابت نہیں ہو پا رہا حالانکہ حکومت بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے وہاں ایسی کام کرنے والوں پرائیویٹ فرموں کو لاکھوں ڈالر ادا کر چکی ہے مگر اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ خرچہ زیادہ ہو گیا ہے اور آمدن صفر بٹا صفر ہے۔ایک افسر کا بھائی زمینوں کے معاملات میں زور زبردستی سے لیکر چکر بازی تک سارے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں خاصی شہرت رکھتا ہے مگر کوئی فریاد کرے تو کس سے کرے؟ وہ ایک اردو محاورہ ہے کہ ”سیّاں بھئے کوتوال، اب ڈر کاہے کا؟‘‘ سو عالم یہ ہے کہ جن کی تعیناتی مختصر ہے ان کی پھرتیاں قابل دید ہیں۔ لمبی تعیناتی والے تو دو چار ہیں اور پھرتیوں میں مصروف افسروں کی تعداد اتنی ہے کہ گنتی مشکل ہے۔ مزید یہ کہ دو چار مہینوں کیلئے اگر کوئی افسر اپنی حیثیت کے مطابق ہاتھ مار بھی لے تولوگ اب دو چار ماہ والے افسر کا تو نام بھی یاد نہیں رکھتے۔ دورکیا جائیں؟ مجھے خود ملتان میں دھڑا دھڑ آنے اور جانے والے افسروں کا نہ تو نام یاد ہے اور نہ تعداد۔ جیسے میں نے اوپر لکھا ہے‘ مجھے تو یہ بھی پتا نہیں گزشتہ دو برسوں میں ملتان کے چار کمشنر تبدیل ہوئے ہیں یا پانچ؟ شاید اب یہ چیزیں بے معنی ہوگئی ہیں۔ ویسے بھی تبدیلی ایسی ہونی چاہیے کہ نظر آئے لیکن یاد نہ رہے۔دو برسوں میں بارہ عدد سیکرٹری ہائر ایجوکیشن۔ اب آپ خود سوچیں کہ تعلیمی پالیسیوں میں کیا تسلسل ہوگا اور کیا منصوبہ بندی ہوگی؟ وزیر تعلیم کی ساری صلاحیتیں تو کئی ماہ تک صرف اس امر میں صرف ہو گئیں کہ پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے معاملات کس طرح اپنے کنٹرول میں کرنے ہیں اور ایم ڈی کوکس طرح فارغ کرنا ہے۔ اب وہ پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کی انتظامیہ میں بھی تبدیلی لا چکے ہیں اور گیارہواں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ دیکھیں اتنے تبادلوں سے ہماری تعلیم اور نظام تعلیم میں کیا تبدیلی آتی ہے۔