صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ان بازیگروں کو ملنا چاہیے جو اتنی صفائی سے بندہ غائب کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔ معروف صحافی وسعت اللہ جان نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بڑی بات کہہ ڈالی

کراچی (ویب ڈیسک) غلطی حیات بلوچ کی بھی ہے۔ وہ غلط مقام پر درست لوگوں کے ہاتھوں جان سے گیا۔ لہذا مجھے چھوڑ کوئی بھی محبِ وطن قلم کار چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔میں تو سندھ کے سرکردہ دانشور اور لکھاری تاج جویو سے بھی اظہارِ یکجہتی کرنا چاہتا ہوں۔

نامور کالم نگار وسعت اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ان کے بیٹے سارنگ جویو کو اس کے گھر کا دروازہ توڑ کر اس کے بچوں کے سامنے اٹھا لیا گیا اور بلاوارنٹ گھر تلپٹ کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے دو روز بعد ریاستِ پاکستان نے تاج جویو کی ادبی و ثقافتی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہِ حسن کارکردگی عطا کرنے کا اعلان کیا، مگر جویو صاحب نے احتجاجاً یہ تمغہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ میں دراصل یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ صدارتی تمغہِ حسن کارکردگی دراصل ان بازیگروں کو ملنا چاہیے جو اتنی صفائی سے بندہ غائب کرتے ہیں کہ خود ریاست ٹاپتی رہ جاتی ہے کہ کدھر سے آیا کدھر گیا وہ۔ مگر میں یہ سب نہیں لکھ سکتا کیونکہ اس سے میرا ملک مُنی کی طرح بدنام ہو جائے گا اور میں اس بدنامی میں حصہ دار نہیں بننا چاہتا۔کاش جویو صاحب کا بیٹا اور دیگر سینکڑوں بیٹے مصر، ایران یا وسطی ایشیا کے کسی ملک میں غائب ہو جاتے تو مجھے ان ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی کا بلاجھجھک ماتم کرنے میں کتنی آسانی ہو جاتی۔ہم صحافی، سیاستداں، شاعر، منصف اور دانشور تو آج بھی اپنا قلم و دہن انسانیت کے لیے دان کرنے کو تیار ہیں مگر مرنے والے یا غائب ہونے والے بھی تو ہمارا کچھ خیال کریں۔ ہم صحافی، سیاستداں، شاعر، منصف اور دانشور تو آج بھی اپنا قلم و دہن انسانیت کے لیے دان کرنے کو تیار ہیں مگر مرنے والے یا غائب ہونے والے بھی تو ہمارا کچھ خیال کریں۔