وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب ایک دوسرے کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اس لیے ۔۔۔۔۔ کالم نگار آصف عفان نے انصاف سرکار کے پول کھول کر رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم کا تازہ ترین اور حالیہ دورہ لاہور بھی پہلے جیسا ہی تھا۔ اس بار بھی وہ خطرے کا نیا نشان لگا کر واپس چلے گئے۔ گویا عوام کو اسی گورننس پر گزارہ کرنا پڑے گا۔ گورننس سے یاد آیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں مثالی گورننس

قائم کرنے کے لیے ”گڈ گورننس کونسل‘‘ تشکیل دے کر خود کو اُس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعجب ہے انہیں گورننس کونسل کی تشکیل کی ضرورت کیوں آن پڑی جبکہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو نہ صرف انتظامی سربراہ ہوتا ہے بلکہ گورننس کی براہِ راست ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ اس اقدام سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کونسل کی تشکیل سے قبل گورننس کے معاملات کہیں اور دیکھے جا رہے تھے یا انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا تھا۔ خیر وہ بحیثیت وزیر اعلیٰ کچھ کر دِکھائیں یا گڈ گورننس کونسل کے سربراہ بن کر… اب گا، گے، گی کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔کالم کے آغاز میں خطرے کے نئے نشان کا ذکر ہوا‘ اس کی وضاحت کرتا چلوں۔ ایک گاؤں میں سیلاب کا شدید خطرہ تھا۔ سرکار کی طرف سے منادی کروائی گئی کہ بڑے صاحب (اعلیٰ افسر) آ رہے ہیں۔ گاؤں کے تمام لوگ اپنی ہر قسم کی مصروفیت ترک کر کے پنڈال میں اکٹھے ہو جائیں تاکہ متوقع سیلاب سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی مناسب لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔ خیر سارا گاؤں پنڈال میں اکٹھا ہو گیا۔ وقت مقررہ پر بڑے صاحب تشریف لائے اور گاؤں والوں سے مخاطب ہوئے کہ میں آپ لوگوں کو ”وارننگ‘‘ دینے آیا ہوں کہ ایک بے رحم سیلابی ریلا آپ کے گاؤں کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ دریا کی لہریں خطرے کے نشان کو چھونے کے قریب ہیں۔

اگر بر وقت آپ لوگوں نے گاؤں نہ چھوڑا تو بہت بڑی تباہی ہو سکتی ہے‘ لہٰذا کل صبح سورج نکلنے سے پہلے آپ سب کو گاؤں چھوڑنا ہو گا۔ آپ کی نقل مکانی کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کر دئیے گئے ہیں۔ گاؤں والے بڑے صاحب کی بات سنتے ہی بھڑک اُٹھے کہ آپ اچانک ہمیں بتانے آ گئے ہیں کہ ہمیں گاؤں چھوڑنا ہو گا۔ ہم اپنا مال اسباب چھوڑ چھاڑ کر کیسے نکل مکانی کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں کہ ہم گاؤں چھوڑنے سے پہلے اپنا مال اسباب اکٹھا کر لیں۔ گاؤں والوں کا جواب سن کر بڑے صاحب سوچ میں پڑ گئے اور کافی گہرا سانس لینے کے بعد بولے کہ آپ کم سے کم وقت میں اپنا قیمتی سامان اکٹھا کر لیں۔ میں آپ کے لیے زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتا ہوں کہ دریا میں سیلابی خطرے کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے نشان کے اُوپر ایک نیا نشان لگوا دیتا ہوں‘ آپ پرانے نشان کو نظر انداز کر کے نئے نشان پر نظر رکھیں اور نئے نشان تک پانی پہنچنے سے پہلے پہلے گاؤں چھوڑ دیں۔ افسر نے گاؤں کے لوگوں کی جان و مال و محفوظ کرنے کے لیے نہ تو پانی کا رُخ موڑا‘ نہ ہی کوئی حفاظتی بند باندھا‘ بس خطرے کا نشان تبدیل کیا اور گاؤں والوں کو بہت بڑا ریلیف دے کر چلے گئے۔ میری نظر میں بلی کو دیکھ کر کبوتر کا آنکھیں بند کر لینا یا سیلابی ریلے کی نشاندہی کرنے والے نشان کا اُوپر کر دینا بات ایک ہی ہے۔

بڑے صاحب خطرے کا نیا نشان لگا کر ”تام جھام‘‘ کے ساتھ واپس چلے گئے اور نیا نشان لگنے کے بعد گاؤں کے مکین بھی اُن کے شکر گزار تھے کہ ان کی وجہ سے خطرہ ٹل گیا۔ گاؤں کے بے چارے لوگوں کو کیا معلوم کہ سیلابی ریلے کسی نشان کی تبدیلی کو کب مانتے ہیں؟ پھر وہی ہوا جو ہو کر رہنا تھا۔ گاؤں کے عوام نیا نشان لگنے کے بعد مطمئن ہو کر سو گئے اور رات کے کسی پہر بے رحم سیلابی ریلا خوابِ خرگوش میں مست سارے گاؤں کو بہا لے گیا۔ حکمران ماضی کے ہوں یا موجودہ سبھی کا طرزِ حکمرانی بڑے صاحب والا ہی ہے۔ اپنا اپنا مقامِ طمانیت ہے، خود فریبی پر آمادہ حکمران تو زمینی حقائق سے نابلد ہی کہے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم ہر دورہ لاہور کے دوران وزیر اعلیٰ پر اظہار اعتماد اور عوام کو ایک نئی آس دِلا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ دور کی کوڑی لانے والے تو کہتے ہیں کہ عوام کے لیے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار حکمرانوں نے تو دِن میں ہی تارے دِکھا ڈالے ہیں۔ مردم شناسی ایک ایسا ہنر اور صلاحیت ہے جو انسان کی سو خامیوں پر پردہ ڈال سکتی ہے۔ کسی حکمران میں اگر سو خوبیاں ہوں لیکن مردم شناسی نہ ہو تو ساری خوبیاں کس کام کی؟ کسی لیڈر یا حکمران کا اصل کام اہداف کے حصول کے لیے موزوں ترین شخص کا انتخاب ہے‘ یعنی ”رائٹ مین فار رائٹ جاب‘‘ کے تصور کو قائم رکھنا ہی کسی لیڈر کی

کامیاب حکمتِ عملی ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی شخص‘ چاہے وہ حکمران ہو یا لیڈر‘ سارے کام خود نہیں کر سکتا۔ ہر کام میں اس کی مہارت ممکن نہیں۔ اس کی اصل کامیابی اُس ٹیم کی تشکیل ہے جو اپنے لیڈر کے وژن اور ایجنڈے کی عملی تصویر بن کر آسکے۔ بدقسمتی سے مملکتِ خداداد کو کوئی ایسا حکمران نصیب ہی نہیں ہوا جو مردم شناسی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ سرکاری وسائل پر کہیں بندہ پروری ہے، تو کہیں کنبہ پروری‘ کہیں اقربا پروری ہے، تو کہیں شکم پروری۔ سب کو ایک سے بڑھ کر ایک پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود وعدے اور دعوے کیے جا رہے ہیں۔ زبانی جمع خرچ کے ساتھ الفاظ کا گورکھ دھندا بھی جاری ہے۔ گورننس اور میرٹ کے حشرنشر کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور اخلاقی قدریں بھی نظر انداز ہوتی دیتی ہیں۔ اتحادی تو اتحادی تحریک کے انصاف کے بعض وزرا اور ارکان اسمبلی کی باہمی چپقلش کی خبریں بھی زبان زدِ عام ہیں۔ اس کے باوجود سب اچھا کی رپورٹ مرتب کی جاتی ہے اور جناب وزیر اعظم بھی اس کارکردگی کو بدستور قابلِ تعریف قرار دئیے چلے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا پر وزیر اعظم سے وزیر اعلیٰ بزدار کی ملاقات کی ایک تصویر پر کیپشن جمانے والے نے مجبور کر دیا ہے کہ یہ آپ سے شیئر ضرور کروں جو کچھ اس طرح ہے ”وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ایک دوسرے کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان کر رہے ہیں‘‘۔انصاف سرکار روزِ اوّل سے ہی نجانے کیوں میڈیا سے نالاں

اور ناخوش دِکھائی دیتی ہے۔ صورتحال کی وضاحت کے لیے ماضی کا ایک پُرانا واقعہ شیئر کرتا چلوں جو مجھے ایک سینئر بیوروکریٹ دوست شیخ ظہورالحق مرحوم نے خود سنایا تھا۔ شیخ ظہورالحق ان دنوں سیکرٹری اطلاعات پنجاب کے عہدے پر تعینات تھے۔ سردار عارف نکئی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا قلمدان سنبھالنے کے بعد انہیں طلب کیا اور کہا: سیکرٹری صاحب مجھے اخبارات میں ہر روز لیڈ (سرخی) چاہیے۔ سیکرٹری اطلاعات شیخ ظہورالحق نے کہا: جی ضرور کیوں نہیں؟ اس کے لیے آپ کو بھی میرے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔ جواباً وزیر اعلیٰ بولے کہ وزارتِ اطلاعات اور تعلقات عامہ کے تمام وسائل تمہارے لیے دستیاب ہیں، پھر میں نے کیا کرنا ہے؟ شیخ ظہور نے جواب دیا کہ آپ روز کوئی ایسا بڑا کام کر دیا کریں جس کی بنیاد پر میں اخبار میں روزانہ سرخی لگوا سکوں۔ وزیر اعلیٰ نے حیرانی سے پوچھا: یہ روز کیسے ممکن ہے؟ اس پر سیکرٹری اطلاعات نے صاف کہہ دیا کہ پھر میں لیڈ بھی روزانہ نہیں لگوا سکتا۔ گورننس اچھی ہو یا بری‘ اس کی ذمہ داری بہرحال وزیراعلیٰ پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وہ بحیثیت وزیر اعلیٰ کچھ ڈلیور کریں یا گڈ گورننس کونسل کے سربراہ بن کر، عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ میڈیا تو گورننس کا آئینہ ہے، جو دیکھے گا وہی دِکھائے گا۔ ایسے میں کام کیے بغیر کردار سازی اور تشہیر کی توقع ایسے ہی ہے جیسے ”چارہ‘‘ بو کر ”گندم‘‘ کی توقع کی جائے۔ صورتحال کی عکاسی کے لیے یہ اشعار بطور استعارہ پیش خدمت ہیں: ؎یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا ۔۔۔اور اس پہ چھاؤں تلاش کرنا ۔۔کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں پہ۔۔پھر اپنے پاؤں تلاش کرنا۔