’’دھنک‘‘ دنوں کی یادیں

1971ء یا شاید 72ء کی بات ہے جب میں دوستوں کے ساتھ ’’حلقۂ ارباب ذوق‘‘ کے اجلاس،YMCAہال سے نظم پڑھ کے نکلا جس کا عنوان تھا ’’میں اور گوتم نیلمبہ‘۔ ایک انتہائی خوش شکل، خوش لباس اور خوش زبان شخص نے نظم کی تعریف کی تو مجھے وہ صاحب اس تعریف سے کہیں زیادہ اچھے لگے۔

نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی انہوں نے مجھے اپنا وزٹینگ کارڈ دیتے ہوئے ملاقات کی دعوت دی۔ وہ چلے گئے تو میں نے کارڈ کو ذرا غور سے دیکھا جس پر ’’دھنک‘‘ کی پیشانی تھی۔ شور، بھیڑ کے باعث میں نام نہیں سن سکا تھا۔ پڑھا تو پتہ چلا ’’سرور سکھیرا‘‘ تھے جن کا آفس مین مارکیٹ گلبرگ میں تھا۔ دوستوں نے کہا بندہ بہت چارمنگ ہے، ملنا چاہئے۔ پھر کارڈ گم گیا اور میں کچھ بھول سا بھی گیا کہ چند روز بعد ہم کچھ دوست حسب معمول اپنے ایک فیورٹ سنیک بار ’’ہائیڈ آئوٹ‘‘ گئے جس کے سینڈ وچ ہمیں بہت پسند تھے۔سنیک بار سے نکلے تو شام ڈھل چکی تھی اور اک مشہور بیکری کے ساتھ والی بلڈنگ کے باہر اک پلاسٹک سائن چمکتا دیکھا تو طارق سجاد جان (مرحوم) چیخا۔’’وہ دیکھ ’’دھنک‘‘ کا دفتر‘‘ کیونکہ YMCAمیں طارق بھی میرے ساتھ تھا اور سکھیرا صاحب اسے بہت پسند آئے تھے۔ تب میں نہیں جانتا تھا کہ طارق کا یہ جملہ میری زندگی کا ناقابل فراموش سنگ میل ثابت ہو گا۔ ہم سب سیڑھیاں چڑھ گئے۔سرور سکھیرا صاحب سے ملاقات ہوئی اور ایسی ہوئی کہ آج تک جاری ہے اور طاری بھی۔میں نے ’’دھنک‘‘ جوائن کر لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ سکھیرا صاحب سے سرور بھائی ہو گئے اور چشم بدور آج تک ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے کہ آج تک میرے لئے سورس آف انسپائریشن ہیں۔ پھر جو ہوا وہ ہسٹری ہے۔ ’’دھنک‘‘ مقبول ترین ماہنامہ بن کے ابھرا اور ہم جیسوں کی بھی جیسے لاٹری نکل آئی۔

تنخواہ اس زمانے کے حساب سے بہت معقول تھی لیکن عادتیں بگڑی ہوئی تھیں اس لئے آمدنی اور اخراجات بلکہ فضول اخراجات کی خلیج پاٹنے کے لئے ریڈیو پاکستان کے لئے کام شروع کر دیا جو اک خاص قسم کی تربیت کا ذریعہ ثابت ہوا کہ تب ریڈیو کسی اکیڈیمی سے کم نہ تھا۔اشفاق صاحب سے لے کر ڈاکٹر انور سجاد تک کیسے کیسے لوگوں کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ سلیم ناصر اور عابد علی سے لے کر پرویز مہدی اور رجب علی تک جیسے بے پناہ فنکاروں سے دوستیاں بھی یہیں ہوئیں اور ان سب کا کریڈٹ بھی ’’دھنک‘‘ کی بے تحاشہ مقبولیت کو جاتا ہے ورنہ ہم جیسے اناڑیوں کو تو کوئی ریڈیو سٹیشن میں گھسنے بھی نہ دیتا۔میں ریڈیو کے لئے مختلف سکرپٹس اور شاعری کرتا۔ انہی دنوں میری لکھی یہ ’’دعا‘‘ بہت مقبول ہوئی شہروں کو خوشحالی دےکھیتوں کو ہریالی دےسب چہروں کو چاند بناسب ہونٹوں کو لالی دےصرف تجھی سے مانگیں جوایسے ہاتھ سوالی دے’’رہائش‘‘ دھنک کے دفتر کی چھت پر ایک کمرے میں تھی جس میں ایک قالین، ایک فرشی بستر، کپڑوں کی الماری اور کتابوں کے علاوہ کچھ نہ تھا لیکن میں یہ نہیں بتائوں گا کہ کمرے کی صفائی کون کون کرتا۔گرمیوں کی راتوں کو کمرے کے سامنے وسیع و عریض صحن میں چھڑکائو کے بعد پیڈسٹل فینز لگ جاتے، چارپائیاں، کرسیاں بچھ جاتیں تو رات گئے تک میلے کا سماں ہوتا۔ ذاتی دوستوں کے علاوہ فلم کے کچھ لوگ ریگولر وزیٹرز تھے جن میں ناقابل فراموش کامیڈین لہری سرفہرست اور جان محل۔

یہ کمرہ آج بھی اسی طرح موجود ہے اور میں اکثر اس کے درشن کرنے جاتا رہتا ہوں۔ اسی کمرے کی ایک تصویر میری لائبریری کی زینت ہے تاکہ بچے جان سکیں کہ اس شہر میں ہاسٹل کے بعد ان کے بابا کی پہلی ’’رہائش گاہ‘‘ کیسی تھی۔مین مارکیٹ گلبرگ سے کینال پارک کی طرف جائیں تو نکر پر آج بھی وہ عمارت کھڑی ہے جس کا سرتاج یہ کمرا ہے جو کبھی میرا تھا۔مستنصر جاوید سے لے کر فوزیہ رفیق اور صبیحہ رحمٰن تک ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر تھا لیکن حسد نام کی کسی شے کا کوئی وجود نہ تھا۔سرور بھائی کا اپنا کالم ’’ان اینڈ آئوٹ‘‘ مقبول ترین اور ’’دھنک‘‘ کا دل تھا۔ کارٹونسٹ جاوید اقبال کے کارٹون تہلکہ خیز ہوتے۔ فلمی حصہ کا عنوان تھا ’’روپ نگر بہروپ نگر‘‘۔ اداکارہ آسیہ کے ساتھ معرکہ بھی خوب رہا۔ غلام محی الدین کو ہم نے ’’کالو مکرانی‘‘ ڈیکلیئر کر دیا۔انہی شرارتوں کے نتیجہ میں فلم سٹوڈیوز کے اندر ’’دھنک‘‘ کا داخلہ بند کر دیا گیا اور نوبت دھمکیوں، حملوں تک جا پہنچی۔ منیر نیازی، ظفر اقبال اور نذیر ناجی صاحبان جیسے لوگ کالم لکھا کرتے اور بڑے سے بڑے سیاستدان کی خواہش ہوتی کہ ’’دھنک‘‘ میں اس پر چند سطریں ہی شائع ہو جائیں۔ ایک بار اس دور کے سپر سٹارز محمد علی زیبا سے انٹرویو کر کے سرخی جمائی ’’کوچہ کوچہ گلی گلی، زیبا زیبا، علی علی‘‘ زندگی بھر علی بھائی کو یہ سرخی نہیں بھولی۔ادریس تھا تو گونگا لیکن اس کی پنسل اور برش اس طرح ’’بولتے‘‘ کہ لوگ دنگ رہ جاتے، غضب کا مصور تھا۔ ’’دھنک‘‘ کا سرورق فوٹو گرافر ظفر کی تکنیک اور سرور بھائی کی تخلیق کا مسحور کن امتزاج ہوتا۔ ایک بار سرور بھائی نے کسی خانہ بدوش لڑکی سے ’’ماڈل‘‘ کا کام لیا تو دھوم مچ گئی۔ بعد ازاں طفیل اختر، ندیم سلیمی، پرویز حمید جیسے لوگ بھی ’’دھنک‘‘ کا حصہ رہے اور اس کے رنگوں کی خوشنمائی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔یہیں ارشاد حسین کاظمی سے بھی دوستی ہوئی جو اپنی قسم کا اکلوتا آدمی تھا۔ جانے کیا جلدی تھی کہ جوانی میں ہی رخصت ہو گیا۔ عظیم مصور صادقین سے لے کر ریشماں اور رنگیلا تک لاتعداد انٹرویوز جو بہت پسند کئے گئے۔ ’’دھنک‘‘ وہ واحد رسالہ ہے جس کی نقلوں کا شمار ممکن نہیں اور آج تک لوگ اس کے آئیڈیاز سے انسپائریشن حاصل کرتے ہیں لیکن…..