دیکھا ، کیسا ڈیفنڈ کیا میں نے گنجوں کو ۔۔۔۔۔ شریف برادران کا کونسا قریبی ساتھی کیمرہ بند ہوتے ہی الٹی سیدھی بولنے لگتا ۔۔۔۔۔ عظمیٰ کاردار کی آڈیو لیک کے تناظر میں حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) میں پاکستان تحریک انصاف کی پرانی اور مشہور کارکن عظمیٰ کاردار کی بات کر رہا ہوں۔ یہ نہیں کہ میں انہیں بہر صورت تنقید کا نشانہ بنانا چاہتا ہوں۔وہ میرے شہر کی ایک بہترین سیاسی کارکن ہیں۔ وہ اپنے لیڈر کے لئے ہر وقت لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتی ہیں۔

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جب ہم بے وفائی اور مفادپرستی کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں تو ایسے سیاسی کارکن اثاثہ ہیں۔عظمیٰ کاردار کے مقدمے میں سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ انہوں نے آڈیو لیک والی باتیں کسی پبلک پلیٹ فارم پر نہیں کیں مگر اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے واقعی کی ہیں۔ مجھے مسلم لیگ نون کے ایک جذباتی رہنما یاد آ گئے۔ وہ میرے پروگرام میں آیا کرتے تھے اور خوب جوش و خروش سے میاں صاحبان کا دفاع کیا کرتے تھے مگر ان کی عادت تھی کہ جیسے ہی بریک ہوتی ، وہ مسکراتے،داد طلب نظرو ںسے دیکھتے اور کہتے، دیکھا کیسا ڈیفنڈ کیا گنجوں کو، اب بندہ اس سے زیادہ ان کے لئے کیا کرے۔پھر یوں ہوا کہ میاں برادران کے قریب ہونے کے کسی خواہشمند نے ان کی باتیں ان کی قیادت تک پہنچا دیں۔ وہ وزیر بھی بنے مگر وہ دودھ ایسا تھا جس میں انہیں مینگنیاںنظر آتی تھیں اور شائد موجود بھی تھیں۔ عظمیٰ کاردارنے وزیراعظم ، خاتون اول، وزیراعلیٰ، وزیر دفاع اور سرکاری عہدے پر موجود ایک دوسری خاتون کوموضوع بناتے ہوئے جو گفتگوکی ہے وہ واقعی قابل اعتراض ہے جس کا پارٹی کے اعلیٰ ترین فورم سے اس طرح نوٹس لیا گیا کہ زلفی بخاری نے فوری ٹوئیٹ کر کے ایسی تیسی کر دی اور فیاض الحسن چوہان نے انہیں فوری طور پر ترجمانی کی تمام ذمے داریوں سے فارغ کر دیا۔ فوری طور پر سب ہونا ظاہر کر رہا ہے کہ حکم کہاں سے آیا ہو گا۔

سوال یہ بھی ہے کہ عظمیٰ کاردار تو ایک عام کارکن ہے، بلدیہ عظمیٰ لاہور میں کونسلر رہی ہے اور اس کے بعد مخصوص نشستوں پر ایم پی اے بنی،کیا یہی باتیں ازراہ تفنن پارٹی میں اے ٹی ایم سمجھا جانے والا کوئی سرمایہ داریا جاگیردارکرتا تو کیا اسے بھی اسی طرح عبرت کا نشان بنایا جاتا۔ میرا جواب ففٹی ففٹی ہے۔ گمان یہ ہے کہ دل میں رنجش ضرور رکھ لی جاتی مگر ذلیل نہ کیا جاتااور اس کی باتوں کو اسی طرح ’ ان نوٹسڈ‘ ہی چھوڑ دیا جاتا جیسے ریحام خان کی کتاب کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ پارٹی یہ سب کرتے ہوئے اس لئے بھی کمفرٹیبل ہے کیونکہ وہ مخصوص نشستوں پرمنتخب خاتون ہے۔ اگر اس کی جگہ کوئی ایسا ایم پی اے ہوتا جس کی جگہہ عام انتخابات کروانے پڑجاتے تو پارٹی کے ہاتھ پاوں پھول جاتے۔اب یہ آسان کام ہے کہ عظمیٰ کاردار کو سزا دے کر دوسروں کو کان کر دئیے جائیں کہ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو، اگر تم پارٹی کے کارکن ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیں جو گند پارٹی کے مخالفین پر اچھالنے کی آزادی ہے وہی اپنی ہی پارٹی قیادت پر بھی اچھالتے رہو چاہے وہ پرسنل لیول پر ہی کیوں نہ ہو۔وہ پارٹی کی ترجمانی کے بعداب تمام پارلیمانی عہدوں بلکہ رکنیت تک سے محروم کی جا چکی ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپیل کا حق استعمال کررہی ہیں مگر ان کو ریلیف ملنے کے بہت زیادہ امکانات موجود نہیں ہیں کیونکہ اوپر سے فیصلہ آنے پر ہی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ وہ معافیاں مانگ رہی ہیں، روپیٹ رہی ہیں، ترلے کر اور سفارشیں کروا رہی ہیں کہ شائد دل میں رحم پیدا ہوجائے۔

عظمیٰ کاردار ، پارٹی قائد جناب عمران خان سے چند برس ہی چھوٹی ہیں،کوئی تین سے چار برس، مگروہ پارٹی قائد نہیں ہیں لہذا انہیں جو بات کرنی چاہئے وہ سوچ سمجھ کر ہی کرنی چاہئے۔ ان کی اس سے پہلے ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پولیس کے راستہ روکنے پر ان پرحملہ آور تھیں۔ وہ ٹی وی پروگراموں میں بھی بغیر تیاری کے غیر ذمہ دارانہ اندازمیں شرکت کرتی تھیں۔ مجھے عظمیٰ کاردار کے ایک سیاسی مخالف نے ہنستے ہوئے کہا کہ بولا تو اس نے سچ ہی ہے۔ مجھے یہ بات بری لگی۔ میرا جواب تھا کہ ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہوتا ہے، یہ ان کی پارٹی کا سچ نہیں تھابلکہ ان کے مخالفین کاسچ تھا۔ اب عظمیٰ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ اس نے غلطی کر دی ہے بلکہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نعیم الحق کی وفات کے بعد اس کا پارٹی میں کوئی ہمدرد نہیں ہے۔ اس میں دوسروں کا کوئی قصورنہیں کہ عظمیٰ نے خود ہی سب کو بڑی محنت کر کے خود سے دور کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ عمران خان کے علاوہ کسی بڑے سے بڑے لیڈر کی بھی عزت کرنے کو تیار نہیں تھیں، کسی کے لئے کرسی تک نہیں چھوڑتی تھیں بلکہ آگے بڑھ کے قبضہ کر لیتی تھیں، ایک طاقتور وفاقی وزیر کو ایک پریس کانفرنس میں ابھی کچھ ہی عرصہ قبل ان سے کہنیاں اور دھکے کھانے پڑے تاکہ یہ خود کیمرے کے سامنے آ سکیں لہذا اب کوئی بھی عظمیٰ کاردار کا مقدمہ لڑنے کے لئے تیار نہیں۔مگر کیا تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ اپیل کے مرحلے میں نرم دلی اور رحم سے کام لے۔ میں جانتا ہوں کہ خاتون اول کے بارے میں گفتگو کرنے کے بعد وہ وہ پارٹی کے کسی طبقے میں قابل قبول نہیں رہیں۔ وہ اگر اسمبلی بھی جائیں گی تو

یہی سمجھیں کہ تنخواہ اور الاونسز لینے ہی جائیں گی ورنہ وہاں بھی ان کو کوئی منہ نہیں لگائے گا، جی ہاں، صوبائی قیادت تو ایک طرف رہی ان سے پارٹی کی دیگر خواتین بھی فاصلے پر رہیں گی مگر سوال یہ ہے کہ عظمیٰ کاردار اب کہاں جائے۔ اس سے غلطی ہو گئی ہے اور وہ غلطی کی معافی مانگ رہی ہے مگر میں نے اس موضوع پر جب پارٹی کے ایک بڑے سے بات کی، ایک سیاسی کارکن کے لئے نرم گوشہ رکھنے کی درخواست کی تو جواب ملا کہ پارٹی حلقو ں کا خیال ہے کہ جو آڈیو لیک میں گفتگو سامنے لائی گئی ہے وہ عظمیٰ سے دشمنی نہیں بلکہ دوستی ہی نبھائی گئی ہے کہ محترمہ عمومی طور پر جو گفتگو کرتی ہیں اس کے مقابلے میں آڈیو لیک والی گفتگو بہت مہذب ہے۔یہاں تحریک انصا ف کو ایک مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ عظمیٰ کاردار کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے لے، یہ درست ہے کہ میری اس میں غرض یہ ہے کہ ایک سیاسی کارکن سے ایک غلطی سامنے آنے پر اس کی وہ جماعت نہ چھینی جائے جو اس کی عادت، مزاج اور شخصیت کا حصہ بن چکی ہے ۔ سیاسی اشرافیہ کو بڑا ظرف رکھنا چاہیے، اس کے کارکن اس کے بچوں کی طرح ہیں اور بچوں سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، والدین انہیں گھر سے باہر نہیں پھینک دیتے ۔ دوسری طرف اگر پارٹی غور کرے توایسا کرنا خود پارٹی کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ پارٹی کے اندر موجودنادم اور شرمندہ عظمیٰ کاردار اس عظمیٰ کاردار سے کہیں بہتر ہوگی جو پارٹی سے باہر ہو گی، عشروں کی محنت کے بعدبھی مایوس، ناکام اور ناامید ہو گی۔