چھ ، چھ ، چھ : میاں نواز شریف نے کیا فارمولا اختیار کرکے بیوروکریسی اور وزیروں کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا ؟ اندرون لاہور کا ایک واقعہ آپ کو بھی حیران کر دے گا

لاہور (ویب ڈیسک) یوں تو وطن عزیز کے لوگ یاد رکھتے ہیں کبھی نہیں بھولتے جو جیسا ہو ویسا ہی ذکر کرتے ہیں کیونکہ آج میرا مخاطب پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور موجودہ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی ہر ناکامی کاملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اب ایک نیا بہانہ مل گیا۔

نامور صحافی آصف عنایت اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہر ایک کو مافیا کا نام دے کر راہ فرار لیتے ہیں۔ نئی نسل سمجھتی ہے کہ اس ملک میں سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے ۔ ہمارے لڑکپن کا زمانہ تھا ۔ ملک غلام مصطفی کھر گورنر پنجاب تھے۔ پنجاب پولیس ہڑتال پر چلی گئی ہے ۔ گورنر پنجاب نے ریڈیو پر چند منٹ تقریر کی جس میں گورنر نے کہا ’’کل 4 بجے تک یا کوئی بھی وقت دیا اگر پولیس والے اپنی ڈیوٹیوں پر واپس نہ آئے تو نئی بھرتی شروع کر دی جائے گی۔ گورنر کی تقریر ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد ہی پولیس اپنی ڈیوٹیوں پر تھی۔ ایک نہیں کئی واقعات ہیں کہ حکومت نے بیورو کریسی کو بتایا کہ اہل عوامی قیادت کیا ہوتی ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میاں نواز شریف ضیاء الحق کے دور میں اقتدار میں آئے۔ اُن کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ، تمام ادارے اشرافیہ، عدلیہ اور پوری ریاست تھی لیکن لوگوں سے روابط انہوں نے خود بڑھائے۔ آج ہر کام میں حکومت کے ساتھ ایک پیج نہیں پوری ریاستی مشینری حکومت کو حصار میں لیے ہوئے ہے پھر بھی کارکردگی سوالیہ نشان ہے ۔ نواز شریف وزیراعلیٰ تھے۔ 12 ربیع الاول کا جلوس تھا۔ ایک جلوس کی قیادت لاہور میں میاں شہباز شریف کر رہے تھے۔ اندرون لاہور سے جلوس جا رہا تھا۔ شہبا ز شریف کسی ورکر کے کندھوں پر سوار تھے۔ ایک اندرون شہر کے رہائشی نے جلوس میں بھاگتے بھاگتے آگے آ کر میاں شہبازشریف کے برابر آ کے کہا

(میاں صیب) میاں صاحب (12 دیگاں پکیاں نیں) میں نے 12 دیگیں پگائی ہیں۔ شہباز شریف نے اس کی گال پر تین چار بار تھپکی دی اور ہر تھپکی پر کہا چھ چھ چھ دراصل اس نے 6 دیگیں پکوائی تھیں یہ بات تھی گویا وہ باخبر لوگ تھے۔1999ء میں میرے گھر ڈاکو گھس آئے سب کچھ لے گئے اللہ زندگی سلامتی عافیت میں رکھے۔ میرے بڑے بھائی (گلزار احمد بٹ) نے اگلے دن وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے وقت لیا۔ صبح 8 بجے کا وقت تھا۔ حمزہ شہباز آئے جناب چوہدری مختار حسین سے کاروباری معاملہ کی بات کی تو چوہدری صاحب نے ہدایت دینے کے انداز میں بتایا کہ گلزار بٹ صاحب آپ کے انکل ہیں حمزہ شہباز نے دونوں ہاتھوں سے انتہائی مؤدبانہ سلام کیا۔ بہرحال ہم بیٹھے تھے کہ میاں شہباز شریف کے دفتر کے اندر سے ان کا سیکرٹری آیا کہ آپ نے صاحب سے وقت لیا ہے ۔ اگر مجھے بریف کر دیں کام کی نوعیت تو آسانی ہو جائے گی۔ ہم نے کہا کہ یہ واردات ہوئی ہے سیکرٹری کہنے لگا کہ دو منٹ انتظار کر لیں فائل باہر آئے گی وہ چیک کر لیں۔ وہ بات کرہی رہا تھا کہ ایک رجسٹر باہر آیا اس نے کھولا تو اخبارات کی کٹنگز اور خبریں لگی ہوئی تھیں میری ڈکیتی کی خبر کو سرخ رنگ کے مارکر سے سرکل کیا ہوا تھا ہرے رنگ کے مارکر سے وزیراعلیٰ نے ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ٹاؤن شپ ،2 ایس پی کی ڈیوٹی اور دو ہفتوں میں رپورٹ مانگی ہوئی تھی۔ ہم نے کہا کہ یہ ہماری خبر ہے ۔ انہوں نے کہا اب آپ کے لیے احکامات تو جو ہونے تھے ہو گئے اب اگر ویسے ملنا ہے تو مل لیں۔ ہم نے کہا نہیں اب ضرورت نہیں، جناب وزیراعلیٰ بزدار صاحب ! 7 ویں دن تک انصاف مکمل ہو چکا تھا۔ آپ تو خود ن لیگ میں رہے ہیں۔ آپ کا داوڑ گاؤں میں استقبال دیکھ کر ایک بڑھیا نے پوچھا کیا ہو گیا اس کے ساتھ اتنے لوگ کیوں ہیں تو اس خاتون کو آپ کے آدمی نے سمجھانے کے لیے کہا کہ (اے لہور وچ شہباز شریف لگ گیا اے، یہ لاہور میں شہباز شریف لگ گئے ہیں۔ گویا شہباز شریف کی کارکردگی کی وجہ سے وہ بوڑھی عورت بھی واقف تھی۔ نیا کچھ نہ بن پائے تو بنے ہوئے ہی قائم رہ جائیں۔