مائنس ون نہیں مائنس تھری : شیخ رشید نے پھر پیپر آؤٹ کردیا ، مگر اندر خانے کیا چل رہا ہے ؟ کالم نگارآصف عفان نے حقیقت بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آج کا کالم کئی موضوعات پر مبنی ہے۔ اگر کہیں ”نیوز بلیٹن‘‘ کا شائبہ ہو تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ موضوعات کی بھرمار ہے اور ایک پر دوسرا بھاری ہے۔ حکومتِ وقت نے میڈیا کیلئے کافی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔

تجزیہ کاروں، کالم نگاروں اور ٹی وی اینکرز کو روزانہ کی بنیاد پر اتنے زیادہ موضوعات فراہم کر دئیے جاتے ہیں کہ انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سوچنا پڑتا ہے‘ کس ایشو پر بات کریں‘کس پر نہ کریں۔ موضوع کے انتخاب میں پہلا حق حکومت کا بنتا ہے کیونکہ صاحبانِ اقتدار اپنی طرف سے دھیان ہٹنے دیں تو اَپوزیشن اور دوسرے موضوعات پر بات کرنے کا موقع ملے۔ کیا منتخب کیا غیر منتخب‘ کیا وزیر کیا مشیر جب بھی کوئی لب کشائی کرتا ہے‘ میڈیا کو اگلے چند روز کا مواد مل جاتا ہے۔ فیصلوں پر بضد رہنے کی حکومتی پالیسی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال یقینا میڈیا کیلئے ”بائی پراڈکٹ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ایسی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے کہ حکومت کے ”لتے‘‘ لیے جا سکیں۔ طرزِ حکمرانی سے لے کر من مانی تک‘ بیان بازی سے رنگ بازی تک‘ سڑکوں اور گلیوں کی صفائی ستھرائی سے لے کر ہاتھ کی صفائی تک‘ کورونے سے لے کر حالات کے رونے تک‘ قانون سے لے کر سماجی انصاف تک‘ سماجی اقدار سے لے کر اخلاقی قدروں تک‘ دروغ گوئی سے لے کر فروغ بیانی تک‘ سُبکی سے لے کر پسپائی تک‘ رُخ سے لے کر پیکر تک‘ خود نمائی سے لے کر خود پرستی تک‘ موقع پرستی سے لے کر شخصیت پرستی تک‘ مکّاری سے لے کر سہولت کاری تک‘ گورننس سے لے کر میرٹ تک‘ اداؤں سے لے کر خطاؤں تک‘ آٹے کے گھاٹے سے لیے کر چینی کے زہر اور پٹرول کی چھترول تک‘ حزبِ اختلاف سے

لے کر حزبِ اقتدار تک‘ منتخب سے لے کر غیر منتخب تک‘ خیال سے لے کر تکمیل تک‘ خواب سے لے کر تعبیر تک‘ یوٹیلٹی بلوں سے لے کر عوام کی بلبلاہٹ تک‘ وسوسوں سے لے کر خوف و ہراس تک‘ عوام سے لے کر حکام تک‘ ٹڈی دَل سے لے کر حالات کی دلدل تک سبھی موضوعات ایسے ہیں جن پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کوئے سیاست کے پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ جس شہباز شریف کو وہ منسٹر کالونی میں برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے آج اُن کی صحت یابی کے لیے فکرمند اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو نالائق اور وزرا کو اپوزیشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزرائے کرام اپنے گندے کپڑے ٹی وی پر نہ دھوئیں۔ شیخ رشید صاحب کا یہ کہنا قطعی بجا ہے کہ وزرا کے ہوتے ہوئے اپوزیشن کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اَپوزیشن کے سارے کام تو انصاف سرکار کے سبھی وزرا حصہ بقدرِ جثہ بدستور کیے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اَپوزیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان منطقی ہے اور اسے انصاف سرکار کے وزرا کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کے حصہ کا اچھا خاصا کام کر رہے ہیں۔ شاید اسی لیے شیخ رشید کو اَپوزیشن نالائق محسوس ہو رہی ہے۔ شیخ رشید صاحب نے ایک اور باؤنسر مارتے ہوئے کہا کہ اگر مائنس ہوا تو مائنس وَن نہیں مائنس تھری ہو گا۔ اگر مائنس تھری میں نوازشریف اور زرداری شامل نہیں تو اُن کا یہ بیانیہ انتہائی

اہمیت کا حامل اور ایک بڑا اشارہ ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کو بھی شیخ صاحب سازش قرار دے چکے ہیں۔ حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں ان کے یہ سبھی بیان ”پیپر آؤٹ‘‘ کرتے نظر آتے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ اُن کے فیصلے برقرار رہیں گے۔ یاد رہے کہ ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ دوسرے میں بری کیا تھا۔ دوسری جانب قومی ایئرلائنز کی لاجواب سروس پوری دنیا میں منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ جس معاشرے میں جعلی دودھ سے لے کر، جعلی ادویات اور اشیائے خورونوش تک عوام کا مقدّر ہوں اور جعلی ڈگریوں پر مسیحائی کا عام رواج ہو، جہاں جعلی ڈگریوں پر الیکشن جیتنے والے اسمبلیوں میں سچ مچ کے نیتا بنے پھرتے ہوں، جہاں بیانیے اور احکامات جعلی ہوں وہاں جعلی ڈگریوں پر پائلٹوں کا جہاز اُڑانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔وزیر ہوا بازی قومی ایئرلائن پر پابندیاں لگوا کر یوں اترائے پھرتے ہیں جیسے فضائی حادثوں پر ہی پابندی لگا دی ہو‘ کیونکہ نہ جہاز اُڑے گا نہ گرے گا۔ کہیں گندم کی قلت کا سامنا ہے تو کہیں بجلی کے شارٹ فال کا جبکہ آٹے کا گھاٹا مسلسل عوام کا مقدر بنا ہوا ہے۔ نہ آٹا سستا ہو سکا اور نہ ہی روٹی اور نان کی قیمت حکومتی پکڑ میں آسکی۔ اس بار بھی سارا ملبہ صوبائی سیکرٹری خوراک پر آن گرا ہے۔ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت

ایک ہزار پچاس روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ کابینہ کمیٹی کو آٹھ سو پچاس روپے قیمت بتائی گئی تھی۔ نان بائی الگ واویلا کر رہے ہیں کہ جب آٹا مہنگا ملے گا تو روٹی سستی کیسے بیچیں‘ حکومت ہمیں بے جا تنگ کرنے کے بجائے آٹے کی قیمت کنٹرول کرے تو ہم قیمتیں کم کر دیں گے۔ چند روز قبل وفاقی سیکرٹری بجلی کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ سرکار اصل مسائل اور شارٹ فال کی وجوہ پر قابو پانے سے قاصر نظر آتی ہے۔ عوام طویل لوڈ شیڈنگ سے بلبلائے پھر رہے ہیں جبکہ یہ لوڈ شیڈنگ نہیں بلکہ لوڈ مینجمنٹ کا معاملا ہے یعنی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی، ڈیمانڈ بے تحاشا اور سپلائی انتہائی قلیل ہو تو عوام واویلا ہی کریں گے۔ عوام الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے خلاف مظاہرے کرتے پھرتے ہیں جبکہ حقائق یکسر مختلف ہیں۔ کہیں ایندھن نہیں ہے تو کہیں پاور ہاؤس بند پڑے ہیں۔ بجلی بنے گی نہیں تو عوام کو کیسے ملے گی۔ مون سون کا آغاز ہو چکا ہے۔ گندے نالے صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی اُبل رہے ہیں ایسے میں مزید بارشیں کیا منظرنامہ پیش کریں گی‘ اس کا اندازہ لگانے کے بجائے آئندہ چند بارشوں کا مزہ لینے کے ساتھ ساتھ عوام سرکار کے ان اقدامات پر واویلا کرتے نظر آئیں گے جو صرف شعلہ بیانیوں اور فائلوں تک ہی محدود ہیں‘ جبکہ ماحولیاتی نمونوں کی تجزیاتی رپورٹیں پہلے ہی پولیو کے ریکارڈ کیسز کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں۔ ابھی تو ڈینگی مچھر بھی پر تول رہا ہے کہ

کب وہ نازل ہو اور کب سرکار اپنے اقدامات کی ڈینگیں مارنا شروع کرے۔ یاد رہے گزشتہ برس ڈینگی بمقابلہ انصاف سرکار کے ٹورنامنٹ میں ڈینگی ہی فاتح قرار پایا تھا۔ نجانے کتنی منتوں اور مرادوں کے بعد سردی کے شروع ہونے کے بعد سرکار نے کریڈٹ لینا شروع کیا کہ ہم نے ڈینگی پر قابو پا لیا ہے۔ اس بار بھی ڈینگی مچھر سے ٹورنامنٹ بس شروع ہونے کو ہی ہے لیکن کیا کریں سردی نے تو اپنے وقت پر ہی آنا ہے۔ ایسے میں کورونائی صورتحال پہلے ہی سرکار کو لیے دئیے جارہی ہے۔ اس پر مون سون، سیلاب کا خطرہ، ڈینگی مچھر، پولیو، ٹڈی دَل، ہوشربا مہنگائی، آٹے کا گھاٹا، پٹرول کی چھترول سمیت نجانے کتنے ہی سیاپے سر پر کھڑے ہیں جبکہ کورونائی صورتحال اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی بدحالی کا اژدھا بھی اپنے پھن پھیلائے اور منہ کھولے پہلے ہی کھڑا ہے۔ ”خدا خیر کرے میرے آشیانے کی‘‘۔ اس پریشان کن اور تشویشناک صورتحال کے باوجود خوش گمانی کا عالم یہ ہے کہ کیا وزیر، کیا مشیر سبھی ان چیلنجز سے بے خبر، ناقابلِ یقین اعدادوشمار کے ساتھ دلفریب وعدے اور دعوے کیے چلے جا رہے ہیں۔ حالات کا مزید ماتم کرنے کے بجائے بھارتی شاعر جاوید اختر کے چند اشعار پڑھتے ہیں:جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو ۔۔لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو ۔۔یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے ۔۔کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ۔۔ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہیں ۔۔تم بھی رہ جاؤ گے حیران ذرا دیکھ تو لو ۔(ش س م)