کیا منتخب اور کیا غیر منتخب!! موجودہ حکومت میں موجود پچھلی حکومتوں کے چہرے کس منہ سے نواز شریف اور زرداری ادوارکی کرپشن کا ذکر کرتے ہیں؟ نامور کالم نگار آصف عفان نے بڑے بڑوں چہروں کو بے نقاب کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر کالم نگار آصف عفان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہو اسکا سارا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں لیکن موجودہ حکومت میں کئی ایسے چہرے موجود ہیں جو پچھلی حکومتوں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور اب موجودہ حکومت

میں بھی بڑے عہدوں پر براجمان ہیں لیکن ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال رہے ہیں۔ اپنے تازہ ترین کالم میں آصف عفان تحریر کرتے ہیں کہ “انصاف سرکار کے وزرائے کرام ہوں یا مشیر‘ سبھی نے یہ وتیرہ بنا لیا ہے کہ ہر خرابی اور ہر بُرائی کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کو ٹھہرا کر یوں اترائے پھرنا جیسے خود دودھ کے دھلے ہوئے ہوں۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں یا پریس کانفرنسز‘ کیا وزیر کیا مشیر‘ سبھی سابق حکمرانوں سے شروع ہوتے ہیں اور انہیں پر بات ختم کر دیتے ہیں۔ بات ان کی کارکردگی کی کرو تو سابقہ ادوار کا پینڈورا باکس کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی وزیر الزام تراشی کرتا نظر آتا ہے تو کوئی مشیرِ بہتان بازی۔ یوں محسوس ہوتا ہے عوام نے انہیں ووٹ اسی لیے دئیے ہیں کہ وہ سابق حکمرانوں کی بد عنوانیوں اور بیڈ گورننس کا ڈھول پیٹتے رہیں۔ خود شاید قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ نہ گورننس کے معانی سمجھنے ہیں اور نہ ہی میرٹ کا پاس رکھنا ہے۔سابق حکمرانوں کا ذکر صبح‘ دوپہر‘ شام اس زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ سرکار کے اندر ہی مقابلے کا سماں دکھائی دیتا ہے۔ کیا منتخب‘ کیا غیر منتخب‘ پوری کابینہ کے درمیان ریس جاری ہے کہ اپوزیشن کو کون کتنا آڑے ہاتھ لیتا ہے۔ وفاقی کابینہ میں شامل دو درجن سے زائد غیر منتخب شخصیات کے علاوہ سابق ادوار میں شریکِ اقتدار رہ کر موجیں اُڑانے والے آج انصاف سرکار کے وزرا کی حیثیت سے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس میں سابقہ حکمرانوں کے ”لَتّے‘‘ نہ لیتے ہوں۔ آئیے ان وزرائے کرام اور مشیروں کو لے

کر ماضی کے کچھ اوراق پلٹتے ہیں۔وزیر ہوا بازی کو ہی لے لیجئے۔ آئیے دیکھئے وہ کس طرح تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور کس طرح سابقہ ادوار میں اقتدار کے مزے بھی لوٹتے رہے۔ 1985ء‘ 1988ء اور 1990ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے رہے‘ مشرف دور میں شوکت عزیز کی کابینہ میں محنت و افرادی قوت کے وزیر بن گئے اور اب انتہائی محنت سے عوام کو یہ بتاتے پھرتے ہیں کہ ساری خرابیاں سابقہ ادوار میں پیدا کی گئیں ہیں۔ خسرو بختیار انصاف سرکار کے اکنامک افیئر کے وزیر ہیں‘ 1997ء میں مسلم لیگ (ن) سے وابستہ تھے‘ 2002ء کے الیکشن میں (ق) لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے اور شوکت عزیز کی کابینہ میں امورِ خارجہ کے وزیر مملکت بنے۔ 2018ء میں جہانگیر ترین کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں تحریکِ انصاف کا حصہ بن گئے اور اب سابقہ ادوار کو ہدفِ تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ انصاف سرکار کے اتحادی اور شریک اقتدار ایک اور صاحب چار سابقہ ادوار میں وزارتوں کے مزے لوٹنے کے بعد پانچویں مرتبہ وزیر بن کر سابق حکمرانوں پر جس شدت سے تنقید کرتے نظر آتے ہیں‘ کبھی عمران خان صاحب کو بھی اسی طرح آڑے ہاتھوں لیا کرتے تھے۔ ریلوے کی تباہی پر ماتم کناں یہ صاحب سابقہ ادوار میں بھی وزیر ریلوے رہ چکے ہیں۔ انصاف سرکار کے وزیر مذہبی امور نورالحق قادری پیپلز پارٹی دور میں زکوٰۃ و عشر کے وزیر رہے۔ وہ بھی سابقہ ادوار کو خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ میاں محمد سومرو سابقہ ادوار میں سینیٹ کی چیئرمینی اور سندھ کی گورنری کے

مزے لوٹنے کے باوجود آج انصاف سرکار میں وزیر بن کر یہی سمجھتے ہیں کہ ساری خرابیاں اور بے قاعدگیاں سابقہ ادوار میں ہوتی رہی ہیں۔ عمر ایوب بھی انصاف سرکار کے وزیر اور شریکِ اقتدار ہیں۔ 2002ء کا الیکشن (ق) لیگ کے ٹکٹ سے لڑا‘ شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر مملکت رہے‘ (ق) لیگ پر زوال آیا تو مسلم لیگ (ن) کو اپنا لیا‘ 2018ء کے الیکشن سے چند ماہ قبل تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور انہیں وفاقی وزیر کا عہدہ عطا کیا گیا‘ اور وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ساری بربادی اور خرابی سابقہ ادوار کی وجہ سے ہے۔ اعظم سواتی ایک بار پھر وفاقی کابینہ کی زینت بن چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی دور میں وفاقی وزیر رہے اور وہ بھی سابق ادوار کو تنقید کا نشانہ بناتے پھرتے ہیں۔ سید فخر امام سابقہ ادوار میں سپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں اور ان کی اہلیہ عابدہ حسین نواز شریف کے دور میں سفیر رہیں‘ جبکہ مشرف دور میں ان کی اہلیہ اور صاحبزادی بھی شریکِ اقتدار رہیں‘ الغرض یہ خاندان بھی ہر دور میں اقتدار کے مزے لیتا رہا ہے۔ طارق بشیر چیمہ انصاف سرکار کے اتحادی اور شریکِ اقتدار ہیں‘ ماضی میں پیپلز پارٹی سے منسلک رہے‘ بہاولپور کے ضلعی ناظم رہے‘ رکن صوبائی اسمبلی رہے‘ پنجاب کے وزیر خوراک و زراعت رہے‘ 2016ء میں (ق) لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور اب کس اعتماد سے کہتے ہیں کہ ہمیں برسرِ اقتدار آئے دو سال بھی پورے نہیں ہوئے‘ ملک تو سابقہ حکمرانوں نے لوٹا ہے۔ فواد چوہدری مشرف اور پیپلز پارٹی دور میں اقتدار

کے مزے لیتے رہے‘ اب انصاف سرکار کے وزیر ہیں اور سابقہ ادوار کو خرابی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فروغ نسیم جو انصاف سرکار میں کبھی وزیر تو کبھی وکیل ہوتے ہیں‘ سابقہ ادوار میں صاحبانِ اختیار میں شامل رہے‘ لیکن آج وہ بھی سابقہ حکمرانوں پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح فہمیدہ مرزا پیپلز پارٹی دور میں قومی اسمبلی کی سپیکر رہیں‘ زبیدہ جلال مشرف دور میں اقتدار کے مزے لوٹتی رہیں‘ عبدالحفیظ شیخ کی تو بات ہی نرالی ہے۔ فردوس عاشق اعوان پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد انصاف سرکار کی ترجمانی کرتے کرتے اب سب کچھ سمیٹ کر گھر جا چکی ہیں۔ وہ بھی ساری خرابیوں کی جڑ سابق حکومتوں اور سابق ادوار کو ہی قرار دیتی رہی ہیں۔یہ چند نام نمونے کے طور پر پیش کئے ہیں‘ جو تقریباً ہر دور میں اقتدار کے بھرپور مزے لوٹتے رہے‘ اب انصاف سرکار میں شریک ِاقتدار بن کر وہی کچھ اپوزیشن کے ساتھ کر رہے ہیں جو کبھی سابقہ ادوار میں عمران خان صاحب کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ مقصد کسی کو ذاتی طور پر نشانہ بنانا نہیں‘ بلکہ محض یہ باور کرانا ہے کہ کچھ لوگ ان ادوار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں‘ جن ادوار میں وہ خود بھی حکومتوں کا حصہ رہے۔ اس بارے میں مزید کچھ کہنا محض الفاظ کا ضیاع ہوگا البتہ ایک شعر بطور استعارہ پیشِ خدمت ہے: ؎میں نے ایک اور بھی محفل میں انہیں دیکھا ہے /یہ جو تیرے نظر آتے ہیں یہ سب تیرے نہیں ۔اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انصاف سرکار منیر نیازی سے انتہائی متاثر ہے اور ان کے کئی اشعار کو اپنا نصب العین بنائے بیٹھی ہے۔ پہلا شعر پیش خدمت ہے: ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں /ضروری بات کہنی ہو‘ کوئی وعدہ نبھانا ہو۔انصاف سرکار کو برسرِ اقتدار آئے دو سال ہونے کو ہیں‘ لیکن یہ دیر ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ نجانے یہ دیر منیر نیازی صاحب سے یکجہتی ہے یا کوئی اور حکمت ہے۔ بہرحال اب تو یہ دیر اندھیر میں بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ ویسے بھی وقت پر انصاف نہ ملنا بھی نا انصافی ہی ہوتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ دیر اندھیر میں نہ بدلے کیونکہ یہ عوام مزید اندھیروں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سرکار کو ویسے تو اپنے عوام سے بے تحاشا ہمدردی اور پیار ہے۔ میرٹ اور گورننس سے لے کر سماجی انصاف اور معاشی استحکام تک اس پیار کے نمونے جا بجا اور ہر سو دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن نا جانے کون سا آسیب ہے کہ سرکار جس سے بھی پیار کرتی ہے‘ وہ اس سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ ماجد خان سے لے کر جہانگیر ترین تک کتنے ہی اس پیار کو پیارے ہوگئے۔ خدا عوام کو ایسے پیار کرنے والوں سے محفوظ رکھے۔ اس موقع پر بھارتی فلم کا ایک ڈائیلاگ بے اختیار یاد آگیا ہے: ”صاحب! ڈر مار سے نہیں پیار سے لگتا ہے‘‘۔