لاہوریوں کی ماں! ڈاکٹر یاسمین راشد کو یہ لقب کس نے دیا تھا اور انہوں نے چند روز قبل لاہوریوں کو جاہل کیوں کہا؟ نامور کالم نگار ابنِ صحرا نے سب کچھ بتا دیا

لاہور( نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار ابنِ صحرا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو انتخابات کے دوران کرشن نگر میں ایک صحافی نے لاہوریوں کی ماں کہا تھا۔ اپنے تازہ ترین کالم میں ابن صحرا تحریر کرتے ہیں کہ “؎ہم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں/کھو لیں دکاں کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں۔کالم

کے آغاز میں اُس شخصیت کا شعر درج کیا گیا جس کی زندگی چند دن پہلے اپنے اختتام کو پہنچی براڈ کاسٹر، انائونسر، ایکٹر، ڈائریکٹر، شاعر اور ادیب طارق عزیز۔۔۔ جو سرتاپا آواز ہی آواز تھا۔۔۔۔ بے صدا ہو گیا۔؎موت کی آخری ہچکی کو ذرا غور سے سُن/زندگی بھر کا خلاصہ اِسی آواز میں ہے۔طارق عزیز مرحوم و مغفور کا اپنی سیاہ بختی بارے خیال تھا کہ کاروبارِ حیات کے سلسلے میں وہ اگر کفن کی دکان بھی کھولیں گے تو موت غیر معینہ مدت کے لیے رخصت پر چلی جائے گی مگر دیکھیے موصوف کو موت نے عین اُن دنوں آ لیا جب روزانہ یہاں ہر گلی ہر محلے سے جنازے بر آمد ہو رہے ہیں ۔(کچھ روز پہلے ہاہا کار مچ گئی کہ کرونا کے باعث ملک بھر میں ریکارڈ ایک سو اموات ہو گئیں پھر تقریباً ہر نئے طلوع ہونے والے دن کے ساتھ کرونائی اموات اپنا ہی ریکارڈ توڑتی چلی گئیں جس وقت یہ الفاظ ضبطِ تحریر میں لائے جا رہے ہیں اُس سے محض 12 گھنٹے پہلے 9 بجے کے خبر نامے میں بتایا گیا کہ آج 198 جان کی بازی ہار گئے )۔اس ملک میں نیلام گھر (بعد ازاں جس کا نام طارق عزیز شو یا بزمِ طار ق عزیز ٹھہرا) سے زیادہ پاپولر پروگرام کوئی نہ تھا نیلام گھر پروگرام اور طارق عزیز صاحب کی آواز کو خاکساریوں بھی فراموش نہیں کر سکتا کہ اُس وقت میری عمر آٹھ یا نو سال کے لگ بھگ ہو گی جب دانت میں شدید تکلیف کی وجہ سے نیند کا نہ آنا ایک وجہ تھی اور

دوسری ،نیلام گھر ۔۔۔۔نیلام گھر کے ختم ہونے پر ٹی وی بند ہوا پھر کہیں جا کر مجھے نیند نصیب ہوئی۔ ایک مدت بعد جب میں نے طارق صاحب کو یہ بات بتائی تو بہت مسرورہوئے ایک زمانہ تھا اُن سے پے در پے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا براڈ کاسٹر ہونا ہمارے درمیان قدرِ مشترک تھی جسے انہوں نے ہمیشہ مان سمان بخشا۔ہاں یاد آیا دورِ حاضر کے معروف نابینا شاعر تیمور احمد تیمور ایک دور میں میرے گیریژن تعلیمی ادارے کے کولیگ تھے جن کا درج ذیل شعر ذاتی طور پر مجھے بہت پسند ہے۔ ذرا آپ بھی سنیے۔روتا جاتا ہے دل کہتا جاتا ہے/اچھا ہے، سب اچھا ہے، سب اچھا ہے۔ نیلام گھر میں تیمور احمد تیمور اور خاکسار کی جوڑی بیت بازی کے مقابلے میں فائنل تک جا پہنچی ’’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘‘ لیکن فائنل مقابلے میں ہماری ٹیم رنر اپ ٹھہری طارق عزیز صاحب نے بعد میں مجھے کہا کہ آپ کی ٹیم بہت اچھی تھی جس نے بے جگری سے مقابلہ کیا لیکن تیمور نے مائیک کو جس طرح سے ’’ جن جپھا ‘‘ ڈالے رکھا اسی وجہ سے آپ کی جیت ممکن نہ ہو پائی۔خیر طارق عزیز صاحب چلے گئے لیکن اپنے پیچھے یادوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چھوڑ گئے ، ویسے بھی پیچھے اور کس نے رہ جانا ہے ’’ آج تمہاری کل ہماری باری ہے‘‘ اگر موت ہمارے پیشِ نظر رہے تویہ دنیا جنت نہ بن جائے۔آخر میں کرونا کا ذکرہو جائے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہوریوں کو کچھ سخت سست کہا تو میڈیا نے طوفان بدتمیزی برپا کر دیا ڈاکٹر صاحبہ نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’’ لاہوریوں کے لیے دل ماں کی مانند دھڑکتا ہے مجھ سے بڑھ کر کوئی لاہوری نہیں،میری عمر 70 سال ہے خود کو لاہوریوں کی ماں سمجھتی ہوں انہیں اپنے بچوں کی طرح ڈانٹ کر سمجھا سکتی ہوں کورونا کے خلاف ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر دل دُکھا جس پر دل کی بھڑاس نکالی اگر میرے بیان پر کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی چاہتی ہوں‘‘۔ کرشن نگر میں انتخابی مہم کے دوران ایک صحافی نے انہیں ’’لاہور یوںکی ماں‘‘ کا خطاب دیاتھا۔ لاہور پاکستان کا دل ہے لاہور ی بڑے دل والے ہیں جو کسی کا مواخذہ نہیں کرتے بلکہ معاف کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔