’’ صافی! سنُا ہے آپ نے ۔۔۔‘‘ کوئٹہ میں ایک تقریب کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے سلیم صافی کو کیا کہا؟ سینئر صحافی نے آرمی چیف کو کیا جواب دیا؟ محفل میں موجود سارے لوگ ہی سوچ میں پڑ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سینئر صحافی سلیم صافی نے آج اپنے کالم میں کوئٹہ میں سی پیک کے حوالے سے ایک تقریب کے دوران جہانگیر ترین سے ہونے والی ملاقات کا احوال بیان کیاہے ۔سلیم صافی کا کالم مقامی اخبار ” جنگ نیوز“ میں شائع ہوا جس میں ان کا کہناتھا کہ

پی ٹی آئی سے میرا زیادہ اختلاف جہانگیر ترین اور ان جیسے لوگوں کو پارٹی میں لانے اور پھر جہانگیر ترین ہی کو طاقتور ترین بنانے پر ہوا۔ یوں اس جماعت کے اندر پچھلے برسوں میں اگر میں نے کسی شخص پر سب سے زیادہ تنقید کی تو وہ جہانگیر ترین ہی تھے تاہم یہ ان کا کمال ہے کہ گزشتہ پانچ چھ برسوں میں انہوں نے مجھ سے تعلق منقطع کیا اور نہ ملتے وقت عزت دینے میں کوئی کمی کی۔آج ان سے متعلق کچھ واقعات بے اختیار یاد آرہے ہیں جو نذرِ قارئین ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آخری دنوں میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کوئٹہ میں سی پیک کے حوالے سے کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کئی سیاسی رہنماﺅں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ میں بھی اس میں بطور مقرر مدعو تھا لیکن اِن دنوں کابل میں تھا۔ وقت اتنا کم تھا کہ میں اگر اسلام آباد بذریعہ ہوائی جہاز آتا تو کوئٹہ بروقت کانفرنس کے لئے نہیں پہنچ سکتا تھا۔دوسری طرف عاصم باجوہ بھائی کی تاکید ایسی تھی کہ انکار بھی ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ میں قندھار تک ہوائی جہاز میں اور وہاں سے بذریعہ سڑک براستہ چمن، کوئٹہ پہنچا۔ رات کو عاصم سلیم باجوہ کے عشائیے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، جہانگیر ترین اور کئی دیگر سیاسی رہنما بھی شریک تھے۔ میرے قندھار سے بذریعہ سڑک کوئٹہ آنے کے ایڈونچر کا آرمی چیف کو بھی علم ہوا تھا۔انہوں نے مجھ سے

کہا کہ صافی! سنا ہے آپ نے بڑی ایڈونچر کی۔میں نے جواب میں عرض کیا کہ سر! قندھار سے کوئٹہ کے لئے فلائٹ ہے نہیں اور میں کوئی عمران خان نہیں کہ جہانگیر ترین کےا سپیشل جہاز میں آتا۔ اس پر ساتھ کھڑے جہانگیر ترین نے جواب دیا کہ میرا جہاز آپ کے لئے بھی ہر وقت حاضر ہے۔ اس محفل میں آرمی چیف کے بعد سیاسی لوگوں میں زیادہ توجہ کا مرکز جہانگیر ترین تھے۔میں نے ان سے عرض کیا کہ مستقبل کا حکمران سمجھ کر اس محفل میں لوگ آپ کے آگے پیچھے ہورہے ہیں لیکن اپنا اندازہ تو یہ ہے کہ بیلنس کرنے کے لئے آپ کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے اور آپ کے پیارے لیڈر بھی آن بورڈ نظر آتے ہیں۔ وہ نہیں مان رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ صافی بھائی! آپ خواہ مخواہ خان صاحب کے بارے میں بدگمان ہیں۔خان صاحب اپنی نااہلی گوارا کرلیں گے لیکن میری نہیں کریں گے۔ بہرحال نااہلی کے بعد جب ہماری ملاقات ہوئی تو کوئٹہ کی محفل کا ذکر آیا۔ کہنے لگے کہ صافی بھائی! آپ کا اندازہ ٹھیک تھا لیکن میں اعتماد میں مارا گیا۔جہانگیر ترین پر میرے غصے اور زیادہ تنقید کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنی پارٹی میں موجود ہمارے بہت سارے دوستوں سے ناک رگڑوا دی۔ وزیر مشیر بن کر آج جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، ان میں سے کئی ایک کو میں نے جہانگیر ترین کے دولت کدے پر تحائف اور سفارشوں کے ساتھ گھنٹوں انتظار کرتے دیکھا ہے۔