’’بےشرمو! یہ تمہارے باپ کا پیسہ ہےجو۔۔۔‘‘ عمران خان کی ماضی میں حکمرانوں کو للکار، لیکن اب ڈیرہ غازی خان عُثمان بُزدار نے کیا کر دکھایا؟ انکشاف ہوتے ہی وزیر اعظم بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں ترقیاتی منصوبے چلتے ہی رہتے ہیں اور عمومی طورپر ان کے نام بھی قومی شخصیات کی بجائے حکمران پارٹی سے وابستہ لوگوں کے ناموں سے ہی جڑے ہوتے ہیں، ماضی میں اس وقت کے تحریک انصاف کے چیئرمین حکمران طبقے پر اسی وجہ سے برستے بھی رہے لیکن اب تحریک انصاف کی حکومت آئی

تو انہوں نے بھی ایسے ہی نام رکھنا شروع کردیئے جس پر کالم نویس اور صحافی بلال غوری ایسے ہی اقدامات کی تاریخ اٹھا کر سامنے لے آئے، تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں اور ان کے اتحادی ، پھر منصوبوں پر لگی تختیوں پر ناموں کی تبدیلی کی ساری کہانی سامنے لے آئے۔روزنامہ جنگ میں چھپے اپنے کالم میں بلال غوری نے لکھا کہ “وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان میں امراضِ قلب کے اسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ 200بیڈز پر مشتمل اسپتال جس کی تعمیراتی لاگت 4ارب 28کروڑ روپے ہے، یہ کم و بیش دو سال میں مکمل ہوگا۔راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے مکینوں کو علاج کے لئے ملتان کا رُخ کرنا پڑتا ہے اور یہاں موجود اسپتالوں پر بہت دبائو رہتا ہے کیونکہ جنوبی پنجاب کے کسی اور شہر میں اس نوعیت کی طبی سہولتیں دستیاب نہیں۔اس تناظر میں ڈیرہ غازی خان شہر میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ بنانا درست سمت میں پہلا قدم ہے مگر آپ سب کو یہ جان کر حیرت ہو یا شاید نہ بھی ہو کہ سرکاری خرچ سے تعمیر ہونے والے اس اسپتال کا نام سردار فتح محمد خان بزدار انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان رکھا گیا ہے۔ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھتے وقت وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واضح کیا کہ یہاں امراضِ قلب کے اسپتال کی تعمیر میرے والد کا خواب تھا جو آج پورا ہورہا ہے۔ ماضی کے حکمراںجب اس قسم کی حرکتیں کیا کرتے تھے تو جناب عمران خان انہیں للکارتے ہوئے کہا کرتے تھے ’’بےشرمو!

یہ تمہارے باپ کا پیسہ ہے‘‘۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حلوائی کی دکان پر ناناجی کی فاتحہ والا کلچر بہت پرانا ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے اسے فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے یاد ہے جب خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت تھی تو پشاور میں مفتی محمود فلائی اوور کی تعمیر کا آغاز ہوا، منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔اے این پی کی حکومت آگئی تو اس فلائی اوور کا نام تبدیل کر کے باچا خان فلائی اوور کر دیا گیا۔ مردان میں بنائی گئی یونیورسٹی کا نام عبدالولی خان یونیورسٹی رکھا گیا۔ مردان میں بنائے گئے میڈیکل کالج کا نام باچا خان میڈیکل کالج رکھ دیا گیا۔ چارسدہ میں کھولی گئی یونیورسٹی کو بھی باچا خان سے منسوب کردیا گیا۔ پشاور ایئر پورٹ باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ کہلانے لگا۔چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ملتان میں امراضِ قلب کا اسپتال بنایا، اس اسپتال کی تعمیر کیلئےقومی خزانے سے رقم خرچ ہوئی مگر نام رکھا گیا چوہدری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی۔ مسلم لیگ(ن) نے بیشتر منصوبے یوں اپنے قائدین سے منسوب کئے جیسے انکی تعمیر کے تمام تر اخراجات ان رہنمائوں نے اپنی جیب سے ادا کیے ہوں۔ آج بھی ملک بھر میں نواز شریف اور شہباز شریف کے نام پر کئی یونیورسٹیاں، کالج، پارک، سڑکیں اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ ملتان کی انجینئرنگ یونیورسٹی ’’محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ کہلاتی ہے۔ملتان کی زرعی یونیورسٹی ’’محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ گجرات کا میڈیکل کالج اور

راولپنڈی کا ایک بڑا پارک نواز شریف سے منسوب ہے۔ لاہور کے کئی اسپتالوں اور کالجوں کے نام سے نواز شریف کا نام جڑا ہوا ہے۔شہباز شریف کیوں پیچھے رہتے، انہوں نے اپنے نام پر بھی کئی ادارے بنا ڈالے۔ سیالکوٹ میں خواجہ آصف کے والد گرامی کی نسبت سے خواجہ صفدر میڈیکل کالج بنایا گیا ہے۔ مرکزی رہنما تو کیا مسلم لیگ(ن) کے ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی قومی خزانے کو حلوائی کی دکان سمجھ کر نانا جی کی فاتحہ پڑھنے کا موقع ضائع نہیں کیا لیکن یہ کالم اس تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کے نام سے ادارے بنائے جاتے رہے۔پشاور کی فرنٹیر یونیورسٹی فار وومن اب بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی برائے خواتین کہلاتی ہے۔ راولپنڈی کا جنرل ہاسپٹل اب بینظیر بھٹو شہید ہاسپٹل کہلاتا ہے۔ سندھ کے ضلع نواب شاہ کا نام بھی تبدیل کرکے بینظیر آباد رکھ دیا گیا تھا۔بینظیر بھٹو ہوں یا پھر ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو، ان کا شمار پاکستان کی قومی قیادت میں ہوتا ہے، اسی طرح نواز شریف بھی تین مرتبہ وزیراعلیٰ اور تین بار وزیراعظم رہے ہیں اسلئے انہیں خراجِ تحسین یا خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ان کے نام سے ادارے بنانے اور چلانے میں کوئی حرج نہیں لیکن کیا کیجئے کہ جامشورو میڈیکل کالج کا نام بلاول بھٹو زرداری میڈیکل کالج رکھ دیا گیا، بینظیر آباد(نواب شاہ) میں قومی خزانے سے پیسے خرچ کرکے بختاور بھٹو زرداری کیڈٹ کالج کھولا گیا ہےاور قومی رہنمائوں کی خدمات کا اعتراف بھی کوئی اور کرے تو اچھا لگتا ہے ورنہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کیا حاصل؟ اسلام آباد میں کم و بیش 100 شاہراہیں اہم شخصیات سے منسوب کی گئی ہیں مگر یہ سب ایک طریق کار کے تحت ہوتا ہے سی ڈی اے کی کمیٹی نام تجویز کرتی ہے اور قومی تاریخ و ثقافت کی وزارت کے زیر انتظام ایک کمیٹی اس کی منظور ی دیتی ہے۔لیکن جب کوئی قاعدہ قانون نہیں ہوگا تو پھر یونہی حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ کا سلسلہ جاری رہے گا۔پاکستان کی طرح بھارت میںبھی یہ روایت موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل بی جے پی کے وزیر نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ ملک میں 450بڑی اسکیمیں، ادارے اور منصوبے گاندھی اور نہرو سے منسوب ہیں۔19اسٹیڈیم، 5ایئرپورٹ، 98 تعلیمی ادارے اور 74سڑکیں موہن داس کرم چند گاندھی اور جواہر لال نہرو کے ناموں سے جڑی ہوئی ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ نریندر مودی اپنے نام سے یونیورسٹی یا کالج بنا لے یا پھر کانگرس کی حکومت ہو تو کسی کالج کو سونیا گاندھی، راہول گاندھی یا پھر پریانکا گاندھی کے نام سے منسوب کردیا جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ’’گرائیں‘‘ ہونے کے ناتے ہم تو کچھ کہنے سے قاصر ہیں البتہ کپتان سے امید کرتے ہیں کہ وہ حلوائی کی دکان پر ’’باباجی‘‘ کی فاتحہ سے متعلق بے لاگ تبصرہ فرمائیں گے”۔