لاک ڈاؤن سے ملک کو 119 قرب کا نقصان ہوا، دو کروڑ سے سات کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے جا سکتے ہیں، 10لاکھ سے زائد چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں۔۔!! اگر پاکستان کو بیروزگاری سے بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کی بجائے کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیئے تھا؟ ابنِ صحرا نے حقائق بیان کر دیئے

لاہور( نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار ابنِ صحرا کا کہنا ہے کہ ہم لوگ کو شروع سے ہی لاک ڈاؤن کی جانب چلے جانا چاہیئے تھا، اگر ایسے ہوجاتا تو آج حالات قدرے مختلف ہونے تھے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ ترین کالم میں ابنِ صحری تحریری کرتے ہیں کہ “بین الاقوامی سطح کی بات کریں تو کہے بنا چارہ

نہیں کہ کورونا نے دنیا کی معیشتوں کو تباہ و برباد کر دیا۔بی بی سی کے مطابق یورپین معیشت اس سال 7.5 فیصد تک سکڑ جائیگی۔ جب کہ CNN نے بتایا ہے کہ تارہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں بیروزگار وں کی تعداد تین کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے اٹلی ، سپین، فرانس، امریکہ نے جس غفلت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بجائے اس سے سبق سیکھنے کے برازیل اور روس نے بھی یہی غلطی دہرائی۔ اب وہاں پر روزانہ دس ہزار متاثرین سامنے آ رہے ہیں۔ روسی صدر بھی اس حوالے سے اس قدر بے نیاز تھے کہ انہوں نے اس وباء سے نمٹنے کے لیے ماسک وغیرہ دوسرے ملکوں کو بر آمد کرنے شروع کر دیے۔ برازیلین صدر نے یہ کمال کیا جب ان کے وزیر صحت نے اس وائرس کو سنجیدہ لینے کا مشورہ دیا تو انہوں نے اس وزیرکو ہی برطرف کر دیا۔ ادھر صدر ٹرمپ کی ڈھٹائی ملاحظہ فرمائیں وہ اپنی لاپرواہی کا ملبہ چین پر مسلسل ڈال رہے ہیں تاکہ آنے والے الیکشن میں ناکامی سے بچنے کے لیے امریکی ووٹروں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں ۔نیو یارک کے گورنر اس بارے میںبتاتے ہیںکہ یہ وائرس امریکہ میں چین سے نہیں بلکہ اٹلی سے آیا کیونکہ اٹلی یورپ سے امریکہ آنے والی پروازوں پر پابندی نہیں لگائی گئی لیکن جیسے ہی چین سے اس وباء کی خبر آئی امریکہ نے فوری طور پر امریکہ چین کے درمیان پروازوں پر پابندی لگا دی۔ نیویارک کے گورنر نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور تاخیر سے لاک ڈائون لگایا۔ عالمی ادارہ صحت کہہ چکا ہے

کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ چین نے یہ وائرس پھیلایا ہو۔ ہمارے ہاں پہلے دن سے کچا پکا لاک ڈائون کا رواج رہا معیشت یا موت یہی سوال حکمرانوں کے سامنے آتا رہا ۔ اب مئی کے دوسرے عشرے میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے ملک کو 119 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ لہذا ملک ہمیشہ کے لیے بند نہیں کر سکتے۔ حالیہ دنوں میں کرونا کیسز اور اموات میں اضافہ تشویش ناک ہے البتہ بندش جاری رہنے سے دو کروڑ سے سات کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے چلے جائیں گے اور یہ تعداد گیارہ کروڑ تک بھی جا سکتی ہے۔ 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔ معاشی بندشیں کرونا سے زیادہ مہلک ہیں۔ خیر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں کورونا کا پیک وسط مئی سے شروع ہو گا اور جولائی میں اس وباء سے متاثرین کی تعداد (خدانخواستہ) دو لاکھ تک پہنچ جائے گی ویسے ہماری مثال سو پیاز اور جوتے کھانے جیسی ہے ہم صحیح معنوں میں لاک ڈائون کر کے بیماری کا شکار ہونے سے بچ سکے نہ ہی معیشت کو بچا سکے جب لوگوں کے ہاتھ پلے بچتیں تھیں تب ہی ہمیں سخت لاک ڈائون بلکہ کرفیو کی جانب چلے جانا چاہیے تھا مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا اب صورتحال یہ ہے کہ عوام ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی طور پر بھی شل ہو چکے ہیں اور ان کی بچتیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔آخر میں محترم علی اصغر عباس صاحب کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تازہ نعت ملاحظہ فرمائیے اس دعا کے ساتھ کہ موذی وبا سے اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے ہم سب کی حفاظت فرمائے (آمین)یہ معجزہ ہی تو قرآن کی کرامت ہے/سخن قدیم ہے لہجے میں پوری جدت ہے/نئے سماج کی تہذیب کر رہے تھے نبی/زمانہ آج تلک جس پہ محو حیرت ہے/معاف کرنے کی عادت کو عام کر لیجیے/یہی تو سرورِ عالم کا حسنِ سیرت ہے/عدو کا خون بھی کعبے میں ہے حرام کیا/حرم سے بڑھ کے بھی انسان کی جو حرمت ہے/یہ کائنات تو قائم درودِ پاک پہ ہے/اسی وظیفے کی ساری یہ خیروبرکت ہے/حضورِ پاک کا معراج پہ پہنچنا بھی/یہ عروج تو اعجازِ آدمیت ہے/گداگر اور سوالی میں فرق بتلایا/بھکاری کون ہے اور کون بے بضاعت ہے/وہ خوش نصیب ہیں جو فیضیاب ہوتے ہیں/یہ ماہِ صوم تو مومن کو خوانِ رحمت ہے/بلال حبشی کی اک آہ کا بھی مول نہیں/ہمارے دل میں جو سرکار کی محبت ہے”۔