وزیر برائے امورِ بد زبانی: توفیق بٹ

لاہور( نیوز ڈیسک) سینئر صحافی توفیق بٹ کا کہنا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کے بارے میں میری رائے ہے وہ مسئلے پیدا کرتے ہیں , حل نہیں کرتے۔ مجھے یقین ہے کہ غلط خبریں وہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے پھیلاتے ہونگے، امان اللہ کی قبر کی کھدائی کے معاملے کو بھی بالکل غلط رنگ دیا گیا۔

اپنے تازہ ترین کالم میں توفیق بٹ لکھتے ہیں کہ ’’آج کل ہر طرف ’’ کرو نا‘‘ ’’ کرو نا‘‘ ہو رہی ھے کچھ لوگ اسے بدزبانی ’’ کرو نا , کرو نا سمجھتے ہیں ۔ پاکستان سے کرونا وائرس یقیناً ختم ھو جائے گا پر بدزبانی اور بداخلاقی کا وائرس شاید کبھی ختم نہ ہو سکے , اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں یہ کہہ رہا ھوں پی ٹی آئی کا اقتدار شاید کبھی ختم نہیں ہوگا , وہ بھی اپنے وقت پر یقینا ھو ہی جائے گا اور ھونا بھی اپنے وقت پر چاہئیے تاکہ گئے گزرے حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران اعظم کو بھی کسی حوالے سے مظلوم بننے کا موقع نہ ملے۔ ہمارے معاشرے میں جو جتنا بد زبان اور بد لحاظ ھے اُس کی اتنی عزت اور قدر ھے ۔ اب اکثر لوگ کسی کی عزت اُس کی شرافت یا دیگر خوبیوں کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ اُس کی بدزبانی کے خوف سے کرتے ہیں , لہذا اپنے موجودہ وزیروں میں سے سب سے زیادہ عزت لوگ پنجاب کے وزیر اطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان کی کرتے ہیں , وزیراعظم عمران خان بھی ان کے اوصاف مخصوصہ کی وجہ سے ہی ان کی عزت کرنے پر مجبور ھوں گے اور اسی بنیاد پر انہیں پنجاب کا دوسری بار وزیر اطلاعات وثقافت بنایا ھوگا – یہ ایک المیہ ھے لوگوں کی خامیاں اب اُن کی خوبیاں بنی ہوئی ہیں اور خوبیاں خامیاں بنی ہوئی ہیں اب کوئی شخص کسی سے تمیز سے بات کر رہا ھو تو یوں محسوس ہوتا ھے یہ کوئی بڑا کمزور شخص ھے

جو اتنی تمیز سے بات کر رہا ہے اور کوئی کسی سے بدتمیزی سے بات کر رہا ھو اُسے معاشرے کا طاقتور ترین اور اہم شخص تصور کیا جاتا ھے ۔ خان صاحب کو یہ کریڈٹ جاتا ھے کہ ایسے اہم اور طاقتور لوگوں کو چُن چُن کر اُنہوں نے وزیر بنایا ۔۔ اکثر وفاقی اور صوبائی وزراء کو اپنے محکموں میں اصلاحات سے کوئی غرض نہیں اُنہیں پتہ ھے کہ وزیر اعظم کے پاس اُن کی محکمانہ کارکردگی پوچھنے یا جاننے کا وقت نہیں ھے , نہ یہ اُن کی ترجیحات میں شامل ھے ۔ یہ بھی ممکن ھے وہ کسی وزیر سے اُس کی محکمانہ کارکردگی پوچھیں وہ آگے سے اُن سے پوچھ لے پہلے یہ بتائیں بطور وزیر اعظم آپ کی کیا کارکردگی ھے ؟ظاہر ھے اس کے جواب میں وزیر اعظم کو خاموش رہنا پڑے گا، جس کا اگر اُنہیں کوئی تجربہ ہوتا تو مُلک کے آدھے مسائل صرف اُن کے خاموش رہنے کی وجہ سے حل ہوگئے ھوتے ۔ البتہ سنا ھے وہ اپنے اکثر وزراء سے یہ ضرور پوچھتے رہتے ہیں اور یہ پوچھنے کا وہ حق بھی رکھتے ہیں کہ ان کے سیاسی مخالفین اور کچھ مخالف صحافیوں کے ساتھ انہوں نے بداخلاقی کرکے اپنی تنخواہ حلال کی ھے یا نہیں ؟ صوبائی وزراء میں سے سب سے زیادہ تنخواہ حلال پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان کرتے ہیں ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کچھ ’’ بونے‘‘ جب منتخب ہوکر اہم عہدوں پر آجاتے ہیں تو معاشرے میں جو کچھ اس وقت ھو رہا ھے وہ دراصل معاشرے کے اپنے ہی گناہوں کی سزا ہوتی ھے ۔۔

رُکن صوبائی اسمبلی اور پھر وزیر بننے کے بعد فیاض الحسن چوہان کچھ زیادہ ہی متکبر ھو گئے ہیں۔تکبر اللہ کو پسند نہیں ھے مگر فیاض الحسن چوہان کو بہت پسند ھے یوں محسوس ہوتا ھے کہ اقتدار کھونے کے بعد جو سریا شریف برادران کی گردنوں سے نکلا ھے وہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء کی گردنوں میں آگیا ھے ۔ ایک بہت خوبصورت قول ہے اقتدار ،دولت یا عزت ،شہرت ملنے پر کچھ لوگ بدلتے نہیں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان کو اگلے روز کامیڈی کنگ امان اللہ کے جنازے اور اُس کے بعد لاھور آرٹس کونسل کی جانب سے منعقدہ اُن کے تعزیتی ریفرنس میں ایک بار پھر اپنی سیاست چمکانے کا بھرپور موقع ملا ۔وہ جب قبرستان پہنچے تو قبرستان کی انتظامیہ امان اللہ کے عزیزوں سے یہ گذارش کر رہی تھی قبروں کی چونکہ ایک ترتیب ہے لہٰذا وہ اپنی من پسند جگہ پر قبر کھودنے کے بجائے اس ترتیب کو پیش نظر رکھیں۔ جنازے کے شرکاء بضد تھے وہ اس ترتیب سے ہٹ کر اپنی من پسند جگہ پر ہی قبر کھودیں گے۔ اس صورتحال کو بالکل غلط رنگ دیا یا دلوایا گیا کہ قبرستان کی انتظامیہ نے امان اللہ کو قبرستان میں صرف اس لئے دفن کرنے سے روک دیا کہ وہ ایک ’’میراثی ‘‘ ہیں اور پھر یہ پھر مسئلہ فیاض الحسن چوہان نے حل کروایا۔ فیاض الحسن چوہان کے بارے میں میری رائے ھے وہ مسئلے پیدا کرتے ہیں , حل نہیں کرتے۔ مجھے یقین ھے کہ اس قسم کی غلط خبریں انہوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے خود ہی پھیلائی

ھوں گی ۔۔ اس سے بھی زیادہ بداخلاقی کا مظاہرہ اُنہوں نے یہ کیا کہ مرحوم امان اللہ کے تعزیتی ریفرنس میں بجائے اس کے وہ مرحوم کی شخصیت اور فن پر بات کر تے , وہ اُن کا ’’کھاتہ ‘‘کھول کر بیٹھ گئےکہ اُن کی بیماری کے دوران اُنہیں کتنی مالی مدد فراہم کی گئی , صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا اس کی آڑ میں بے شمار فنکاروں کے نام لے کر بتاتے رھے کہ وہ انکی کتنی مالی امداد کرتے رھے ہیں ۔۔ اُن کے اس جُملے میں کس قدر تکبر تھاکہ ’’ آستانہ چوہان شریف سے آج تک کوئی خالی نہیں گیا ‘‘۔۔ بندہ پوچھے حضور آپ کی اوقات ہی کیا ھے ؟ اللہ نے سبزیوں پھلوں اور دالوں کے بھی پردے رکھے ہوئے ہیں آپ کون ہوتے ہیں کسی کی سفید پوشی کا بھرم ،درہم برہم کرنے والے ؟ پھر آپ کون سا ان فنکاروں کی مالی مدد اپنی ذاتی جیب سے کرتے ہیں؟ اتنے بڑے بڑے فنکاروں کی تھوڑی بہت مالی مدد کر کے ریاست یا حکومت اُن پر احسان نہیں کرتی، اپنا فرض پورا کرتی ہے ۔کاش اس حقیقت کا ہمارے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کو کچھ ادراک ہوتا ۔۔ تعزیتی ریفرنس سے اپنے خطاب کے فورا بعد وہ کھسک گئے۔ ان کی رخصتی کے بعد ہمارے معزز بھائی سہیل احمد (عزیزی) نے جس مہذب انداز میں اُن کی باتوں کا جواب دیاکاش وہ چوہان صاحب سن کر جاتے ۔ البتہ اس تعزیتی ریفرنس کے شرکاء پر مجھے افسوس ھے جنہوں نے وزیر موصوف کی گفتگو پر احتجاج کرنے کے بجائے تالیاں بجائیں

اور اس کے بعد وزیر موصوف کی گفتگو پر بالکل جائز تنقید کرنے والے سہیل احمد کی باتوں پر بھی تالیاں بجائیں۔اس ملک کو تباہ کرنے والوں میں سب سے بڑا ہاتھ ان لوگوں کا ہے جنہیں اس بات کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس بات پر تالیاں بجانی ہیں اور کس بات پر آنکھیں دیکھانی ہیں۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ’’معذوروں” کا معاشرہ ھے گونگے بہرے اندھے اور کاہنے لوگوں کا معاشرہ ھے جسے شاید کوئی ٹھیک نہیں کرسکتا۔ اگلے روز فیاض الحسن چوہان نے ایک اور ایسی بونگی ماری دل دہل کر رہ گیا۔ ایک پریس کانفرنس میں پنجاب کی نااہل ترین وزیر صحت ڈاکٹر بلکہ ذہنی مریضہ یاسمین راشد کو ساتھ بٹھا کر انہوں نے فرمایا کہ “کسی کے ہاں معذور بچے قدرت کی طرف سے سزا کے طور پر پیدا ہوتے ہیں” میں حیران ہوں کہ ایسی باتیں کرتے ہوئے انہیں ذرا خوف نہیں آتا ؟ سچ پوچھئے مجھے تو کئی حوالوں سے وہ خود بھی معذور لگتے ہیں خصوصاً بطور وزیر , عاجزی کا مظاہرہ کرنے اور اپنے اصل فرائض کو سرانجام دینے سے وہ بالکل معذور ہیں تو کیا وہ بھی کسی سزا کے طور پر پیدا ہوئے ہیں؟ انہیں اپنے الفاظ ،اپنی زبان پر ذرا کنٹرول نہیں ھے نہ انکی جماعت یا حکومت میں کوئی چاہتا ھے اپنی زبان پر وہ کنٹرول کریں ۔ َ مگر ہم جو وزیراعظم عمران خان سے محبت کرنے والے ہیں ہم چاہتے ہیں وہ اپنے اس صوبائی وزیر کو کم از کم ایسی بونگیاں مارنے سے ضرور روکیں جو قدرت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔ خدا کے غضب سے ڈرنا چاہیے ، ضروری نہیں بقول فیاض الحسن چوہان کسی کے گھر سزا کے طور پر ہی معذور بچے پیدا ھوں , تکبر کی سزا کے طور پر بھی یہ ہوسکتا ھے کہ کسی کے اچھےخاصے ٹھیک بچے کسی حادثے یا بیماری سے معذور ھو جائیں ۔۔۔رھے نام اللہ کا !!! ‘‘۔