عورت مارچ

پاکستان حسب عادت، حسب معمول، حسب روایت جس کثیر المشکل مرحلہ بلکہ مراحل میں سے گزر رہا ہے اس میں نان ایشوز پر توجہ کورونا اور کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے لیکن WHO CARESاور برپشم قلندر تو ہمارا طرۂ امتیاز ہے ۔پورے ملک کی ’’مرضی‘‘ تو آئی ایم ایف

کے پاس گروی پڑی ہے لیکن کچھ بیبیوں کو ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا دورہ پڑا ہے۔ نعرے گھڑتے وقت عقل اور احتیاط سے کام لینا چاہئے تاکہ ان کے ساتھ اینگلنگ اور ٹمپرنگ نہ ہو سکے مثلا اگر ….’’میری روح میری مرضی‘‘’’میری ذات میری مرضی‘‘’’میری سوچ میری مرضی‘‘تو شاید مرد ’’حریفوں اور حاسدوں‘‘ کا ردِ عمل مختلف ہوتا کہ جسم تو یوں بھی فانی شے ہے۔ دوسری بات یہ کہ جن کا ملک صحیح معنوں میں خودمختار نہ ہو، جن کے باپ، بھائی، بیٹے، شوہر وغیرہ نظام کے بالواسطہ یا بلاواسطہ غلام ہوں کیا انہیں بہتر ٹائمنگ پر غور نہیں کرنا چاہئے تھا کہ اس ان پڑھ، ان گھڑ سماج میں بدحالی کے مارے ’’مہنگائی‘‘ پر سوچیں گے یا آپ کے جسم کی ’’مرضی‘‘ پر سر دھنیں گے؟ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے مثلاً غور فرمائیں کہ فرانس میں 1890کے شماریات کے مطابق عورتوں کو مردوں کی نسبت آدھی اجرت ملتی تھی۔ امریکہ میں 1918میں عورتوں کو مردوں کی تنخواہ کا ایک چوتھائی ملتا تھا۔ یہی حال جرمنی کا تھا۔ 1942تک فرانسیسی قانون کے مطابق بیوی پر خاوند کی تابعداری اور اطاعت فرض تھی۔ انگلینڈ میں عورتوں کی باقاعدہ منڈیاں لگتی تھیں اور خرید و فروخت عام تھی۔انسانی معاشرہ میں عورت کے سفر کو چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

نمبر :1قدرتی عہدTHE NATURAL ERAنمبر:2مرد کے جبر کا عہدTHE ERA OF MALE DOMINANCEنمبر:3عورت احتجاج کا عہدTHE ERA OF FEMALE PROTESTنمبر:4عورت مرد حقوق برابری عہدTHE ERA OF EQUALITYیہ دھیمے، دھیرے اور مرحلہ وار ہونے والا کام ہے جسے سافٹ ہینڈلنگ کی ضرورت ہے۔ زور آزمائی سفر کو پیچیدہ، مشکل اور لمبا کر دے گی مثلاً یورپ دیکھ لیں، صلیبی جنگجو جنگوں پر جانے سے قبل اپنی ’’پالتو عورتوں‘‘ کو آہنی لنگوٹ پہنا کر جایا کرتے جسے ’’چیسٹٹی بیلٹس‘‘ کہتے۔ انگلینڈ میں 19ویں صدی کے آغاز تک منڈیوں کے علاوہ عورتوں کی خرید و فروخت اخباری اشتہارات کے ذریعہ بھی ہوتی تھی اور اب؟ لیکن یہ سب ’’اوور نائٹ‘‘ نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔ثقہ ترین ڈکشنریوں کے مطابق عورت ہے کیا؟”AN ADULT HUMANBEING”یا پھر ……”A PERSON CONSIDERED AS HAVING FEMALE CHARACTERISTIC SUCH AS MEEKNESS”مجھے خود اس طرح کی خبریں پڑھ کر مرد کی عقل پہ رونا آتا ہے کہ ’’لڑکی‘‘ ایک معمولی مختصر سے آپریشن تھیٹر میں ایک دروازے سے داخل ہوتی ہے، مائینر سرجری کے بعد دوسرے دروازے سے ’’لڑکا‘‘ بن کر ’’نکلتا‘‘ ہے تو اس کے حقوق میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔

واقعی ایک آدھ کروموسوم کی اونچ نیچ سے حقوق و اختیارات میں یہ فرق غیرانسانی ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔ذاتی طور پر مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ عورتوں اور مردوں یعنی دونوں فریقوں نے عورت کی EQUALITY کو UNIFORMITY کے ساتھ گڈمڈ اور کنفیوژ کس طرح کیا کہ یہ سارا کیا دھرا اسی حماقت، لاعلمی اور کنفیوژن کا ہے جسے علمی فکری انداز میں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس جس سماج میں جیسے جیسے یہ کنفیوژن دور ہوتا گیا، یہ مسئلہ طے ہوتا گیا ورنہ وہی جو لینن نے کہا تھا کہ قانون پاس کرنے میں لمحے، عملدرآمد میں برسوں لگیں گے۔یہاں منیر نیازی یاد آتے ہیں جو طنزیہ آواز میں کہا کرتے تھے کہ یہ اک ایسا بددعایا ہوا معاشرہ ہے جس میں آدھی آبادی کو گھروں میں قید کرکے باقی آدھی آبادی گھروں کے باہر لاٹھیاں لیکر بیٹھی ان کی ’’حفاظت‘‘کر رہی ہے۔ ملی نغموں اور ترانوں سے باہر نکل کر دیکھیں تو پاکستان کا جو حال ہے اس میں پوری بالغ آبادی اوور ٹائم کے ساتھ بھی کام کرے تو کم ہے لیکن ہم خود ہی اپنے لئے پتوار کے بجائے لنگر بنے ہوئے ہیں سو’’حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آستہ ‘‘انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ’’خاندان‘‘ ہے جس کے دوستون ہیں۔ مرد اور عورت ایک ستون کو بڑا یعنی لمبا اور دوسرے ستون کو چھوٹا اور کمزور رکھ کر اس پر خوشحالی کی چھت ڈالنے کا خواب دیکھنے والے ’’مقروض‘‘ مردوں کو اسی چھت کے نیچے دفن ہونے کیلئے تیار رہنا چاہئے تو دوسری طرف ہماری جنگجو خواتین کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے حقوق کی یہ جنگ جیتنے کیلئے انہیں کس قسم کے ہتھیاروں بلکہ اوزاروں کی ضرورت ہے۔ آخری بات یہ کہ میں غیرمشروط طور پر حقوق کے حصول کی اس مقدس جنگ میں ان کے ساتھ ہوں۔تیری روح تیری مرضی تیری ذات تیری مرضی تیری سوچ تیری مرضی کہ’’جسم‘‘ فانی اور محدود ہے اور آپ لافانی اور لامحدود!