جمہوری اوجھڑیاں، عوامی معدے اور پوٹے

بالآخر اب مجھے سو فیصد یقین ہو چلا کہ ان میں سے کوئی بھی ’’کرپٹ‘‘ نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگ جن کے پاس بےشمار دولت ہو اور ان کے پیٹ پھر بھی نہ بھریں اور وہ بھرے پیٹوں کے باوجود بھوک سے بلبلاتے اور بولائے پھریں، انہیں کرپٹ نہیں ابنارمل، بیمار یا کچھ اور کہنا چاہئے۔

پاکستان کے اک اور سابق حکمران کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کئی کئی ناشتے، لنچ اور ڈنر فرمایا کرتے تھے اور ’’حکمتِ عملی‘‘ ان کی یہ تھی کہ ناشتہ کرنے کے بعد باقاعدہ قے کا اہتمام کرتے، حلق میں انگلیاں مار مار کر کھایا پیا اگلتے، مختصر سی ’’بریک‘‘ لیتے اور دوبارہ، سہ بارہ تازہ دم ہو کر ڈائیننگ ٹیبل پر یلغار کر دیتے، گھمسان کا رن پڑتا اور کشتوں کے پشتے لگانے کے بعد فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے آفس کا رخ کرتے تو ایسے آدمی کو ہم بسیار خور نہیں بیمار کہیں گے یا ابنارمل کیونکہ نارمل ہونا تو یہ ہے کہ پیٹ بھرا ہو تو کھانے کی طرف آنکھ اٹھانے کو بھی دل نہیں کرتا۔ اور تو اور خونخوار جانور کا بھی پیٹ بھرا ہو تو شکار کو پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہے لیکن جہاں جیسے جیسے پیٹ بھرے، ویسے ویسے بھوک بڑھے تو ایسا کیس ’’نیب‘‘ نہیں کسی ماہر نفسیات یا ڈاکٹر کا ہوتا ہے۔ اس مرض کا ایک علاج ’’ٹمی ٹک‘‘ کے نام سے آج کل خاصا معروف اور مقبول ہے۔ جن کی بھوک نہیں مٹتی اور نان سٹاپ کھائے چلے جاتے ہیں، ان کے معدوں کی کانٹ چھانٹ کرکے ان کا سائز ہی اتنا چھوٹا کردیا جاتا ہے کہ وہ کھانا چاہیں بھی تو کھا نہیں سکتے کیونکہ سائز چھوٹا ہو جانے کے بعد ان کے معدوں میں ’’مزید‘‘ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے تو انہیں ’’کرپٹ‘‘ کہنے پر ان سے اور قوم سے معافی مانگنے کے بعد انہیں سرکاری طور پر مریض ڈیکلیئر کرے اور سرکاری خرچ پر ان کا علاج کرائے تاکہ ان کی ’’جمہوری اوجھڑیاں‘‘ مناسب قسم کی کانٹ چھانٹ،

قطع و برید کے بعد ’’عوامی معدوں‘‘ بلکہ ہو سکے تو پرندوں کے ’’پوٹوں‘‘ میں تبدیل کی جا سکیں کیونکہ اس معمولی سی سرجری کے بعد نہ صرف یہ خود صحت یاب ہوں گے بلکہ ملک کی اقتصادی صحت بھی قابلِ رشک ہو جائے گی۔ قارئین!اس سے پہلے کہ آپ اس تمہید سے بالکل ہی بور ہو جائیں، ضروری ہوگا کہ میں آپ کو اس کے بیک گرائونڈ سے آگاہ کردوں جو کچھ یوں ہے کہ ’’نیب‘‘ نے نا سمجھی کی بنا پر جعلی اکائونٹس کیس میں پیش رفت کرتے ہوئے آصف زرداری المعروف روٹی، کپڑا، مکان، میاں نواز شریف المعروف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور یوسف رضا گیلانی المعروف ’’زلزلہ زدگان نیکلس‘‘ کے خلاف اک اور ریفرنس دائر کردیا ہے جس میں ان پر توشہ خانہ سے کوڑیوں کے بھائو بیش قیمت گاڑیاں اچکنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ’’نیب‘‘ راولپنڈی کے مطابق ان جمہوری قائدین نے بیرون ملک سے ملنے والی قیمتی گاڑیاں غیر قانونی طور پر حاصل کیں۔آصف زرداری نے انور مجید وغیرہ کے ذریعہ صرف 15فیصد ادائیگی کی، آصف زرداری کو لیبیا اور یو اے ای سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملیں جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بعد خود استعمال کیں جبکہ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دیتے ہوئے 2008میں جب وہ کسی عہدے پر بھی نہیں تھے، بغیر کسی درخواست توشہ خانہ سے گاڑی لی۔ ’ ’نیب‘‘ کے مطابق نواز شریف نے گیلانی سے غیر قانونی فوائد حاصل کئے۔ بقول اخبار (جنگ نہیں) احتساب عدالت نے ’’نیب‘‘ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق صدر کا گھر منجمد کرنے کی بھی توثیق کردی ہے۔ واقعی ان میں سے کسی کا کوئی قصور نہیں۔ کریں تو کیا کریں کہ پیٹ بھر بھی جائیں تو نیت نہیں بھرتی اور نوبت ’’نیب‘‘ تک جا پہنچتی ہے سو سوچ رہا ہوں کہ شاید ’’ٹمی ٹک‘‘ جیسی سرجری کے بعد بھی مسئلہ حل نہ ہو کیونکہ معدوں کی سرجری تو ہو سکتی ہے، نیتوں کی سرجری ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی ورنہ سیانے یہ کبھی نہ کہتے کہ:’’لالچی کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے‘‘فقرہ کیا، کوزے میں دریا تھا کہ کچھ لوگ گھروں میں اتنی دولت ٹھونس لیتے ہیں کہ عزت رکھنے کی بھی جگہ نہیں بچتی اور دنیا بھر میں بدنامی اور گالی ان کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ ’’زندگی بھر یہ ’’بلائیں‘‘ پیچھا کرتی ہیں‘‘WALTER LIPPMANNیاد آتا ہے جو ہم جیسوں کو ہمیشہ ہانٹ کرتا اور یاد دلاتا ہے۔