ایک کالم 3 کہانیاں

آج ایک سے زیادہ موضوعات مجبوری سمجھیں کہ کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے ’’امریکہ افغان امن معاہدہ‘‘ جسے فتح و شکست کے تناظر میں دیکھنا کم از کم مجھے تو مضحکہ خیز لگتا ہے۔ اسی لئے جس دن یہ معاہدہ ہوا، ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا کہ

اللہ کرے یہ بطریق احسن اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور اللہ فریقین کو اس پر عملدرآمد کی توفیق عطا فرمائے۔ اس پر کچھ لوگ دموں پر کھڑے ہو کر بھوت پھیریاں کھانے لگے۔ گزشتہ اتوار کو ’’میرے مطابق‘‘ میں بھی ایک سوال اسی سے متعلق تھا جس پر عرض کیا کہ ’’دوسری جنگ عظیم میں ہیرو شیما ناگا ساکی کے بعد بھی مذاکرات ہی ہوئے تھے۔ مطلب یہ کہ ہر بار ایسے سانحات کے بعد مذاکرات ضروری نہیں کہ انسان اپنے تجربات سے سیکھتا ہے۔ میں اس موضوع پر فی الحال اس سے زیادہ کچھ کہنے پر انتظار کرنے کو ترجیح دوں گا‘‘آج یہ کالم لکھتے ہوئے پیر کا دن ہے اور اخباروں کا ڈھیر میرے سامنے۔ صرف چند سرخیاں’’امن معاہدے کو دھچکا۔ افغان صدر کا طالبان قیدیوں کی رہائی، امریکی اتھارٹی ماننے سے انکار‘‘ ’’کچھ برا ہوا تو زیادہ قوت سے افغانستان واپس جائیں گے‘‘ ٹرمپ کی دھمکی’’طالبان قیدی جلد رہا ہونے چاہئیں‘‘۔شاہ محمود قریشی ’’ایسا کوئی وعدہ نہیں‘‘ افغان صدر’’ افغان صدر کا امن معاہدہ میں طالبان قیدیوں کی رہائی ماننے سے انکار‘‘’’نیا تنازع۔ ’’طالبان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ نہیں کیا‘‘ اشرف غنی’’اشرف غنی کا 5ہزار طالبان کی رہائی سے انکار‘‘”AFGHAN PEACE DEAL JOLTED””PAKISTAN WANTS US TO KEEP EYE ON SPOILERS” میں نے کچھ ایسے ہی خدشات اور امکانات کے پیش نظر محتاط سی بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ

چائے کی پیالی ہونٹوں تک جاتے جاتے کہیں بھی سلپ ہو سکتی ہے اس لئے بہتر ہی ہو گا کہ انگلیاں کراس کر کے حتمی نتیجہ کا انتظار فرمائیں لیکن یہ مختصر سی بات، سادہ سی بات کسی بقراط کو سمجھ نہیں آئی اور مخصوص ذہنیت متحرک ہو گئی تو مجھے وہ گھسا پٹا مصرع یاد آیا….’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘۔ ایک بار پھر عرض ہے کہ ’’انتظار فرمایئے‘‘ اور انتظار کے ساتھ ساتھ دعا بھی فرمایئے کہ یہ امن معاہدہ بخوبی اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور افغانوں کو امن نصیب ہو، اس خطہ کو سکون مل سکے۔ دوسرا موضوع اک اور قابل غور و فکر خبر ہے۔ چشم بد دور کہ 50گدی نشین مشائخ نے 8مارچ کو ’’یوم شرم و حیا‘‘ منانے کی تائید کر دی ہے جس پر یہ سب معززین دلی مبارک کے مستحق ہیں کہ واقعی ’’شرم و حیا‘‘ کی جیسی ضرورت آج ہے۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی اور اس سلسلہ میں مشائخ حضرات سے گزارش صرف اتنی ہے کہ وہ یہ انتہائی اہم یوم منانے کے دوران ’’شرم و حیا‘‘ یا یوں کہہ لیجئے کہ ’’بے شرمی و بے حیائی‘‘ کی تفصیلی عریف(DEFINATION) پیش کرتے ہوئے ہم جیسے بھٹکے، بہکے، بے راہرو لوگوں کو یہ بھی بتائیں کہ جھوٹ بولنا، کم تولنا، ملاوٹ کرنا، دو نمبر دوائیں اور دودھ بنانا، قطار نہ بنانا، ٹریفک سگنل کی پامالی اوور سپیڈنگ، ای چالانوں سے بچنے کے لئے جعلی نمبر پلیٹ لگانا، رشوت لینا اور دینا، کمیشن کک بیک کھانا، حرام کے پیسے سے حلال خریدنا، ذخیرہ اندوزی کرنا، بجلی کی چوری، ناجائز قبضہ، امتحانی پرچے بیچنا، میرٹ ذبح کرنا، خوشامد، نمودونمائش، تجاوزات، غیبت، حسد وغیرہ وغیرہ بھی بے شرمیوں اور بے حیائیوں میں شامل ہے اور بے شرمی و بے حیائی کا تعلق صرف کپڑے کی کمی بیشی، اونچ نیچ اور کٹائی سلائی تک ہی محدود نہیں ہوتا۔

تیسرا موضوع ممکن ہے تھوڑا تکلیف دہ ہو لیکن کیا کریں، کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے سے بلی واپس تو نہیں پلٹ جاتی۔ اسرائیلی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ چند ہفتوں کے اندر اندر ہی وہ کرونا وائرس سے بچائو کی ویکسین بنا کر انسانوں کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔ یہودیوں کے بارے کہتے ہیں کہ بڑھکیں نہیں مارتے اور جو کہتے ہیں ، کر دکھاتے ہیں بلکہ جو نہیں کہتے….وہ بھی کر دکھاتے ہیں اور اس کے ثبوت دنیا بھر میں قدم قدم پر بکھرے ہوئے ہیں۔ اک چھوٹی سی بات ہے جو مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ ہم مسلمان دنیا کی کل آبادی کا ماشاء اللہ تقریباً 24فیصد ہیں جبکہ یہودی آبادی صرف اور صرف 0.25فیصد ہے یعنی ایک فیصد سے بھی بہت کم تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ مٹھی بھر نہیں چٹکی بھر یہودی تو دنیا کو ڈکٹیٹ کرا رہے ہیں جبکہ دنیا ہر بات ہمیں ڈکٹیٹ کرا رہی ہے لیکن خیر…. یاروں نے تو ’’پٹھے‘‘ ہی کھانے ہیں۔ جنہوں نے ڈائیلسز مشین سے لے کر لپ سٹک تک بنائی وہی ویکسین بھی بنا لیں تو کیا برائی؟