دنیا میں صرف پراڈکٹس نہیں پراڈکٹ بیچنے والوں کے حلیے بھی بکتے ہیں ۔۔۔۔۔ پاکستان کے ایک کامیاب تاجر نے کامیاب ہونے کے لیے کیا کچھ کیا ؟ جاوید چوہدری نے ایک حیران کن سچی کہانی بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) میرے بچپن کی بات ہے‘ ہماری گلی میں ایک دکان دار ہوتا تھا‘ اس نے زندگی میں بے شمار کام کیے لیکن کوئی بھی کام نہ چل سکا‘ وہ ایک مکمل فیل بزنس مین تھا مگر پھراس نے کریانے کی دکان بنائی اور وہ چل نکلی‘ وہ دھڑا دھڑ نوٹ کمانے لگا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زندگی میں لاہور تک نہیں گیا تھا مگر وہ حاجی صاحب مشہور ہو گیا۔حاجی صاحب کا بیٹا میرا کلاس فیلو تھا‘ میں نے اس سے اس اچانک کام یابی کی وجہ پوچھی تو بیٹے نے ہنس کر ٹھوڑی پر ہاتھ رکھا‘ داڑھی کا نشان بنایا اور کہا ’’ابا مولوی بن گیا ہے‘‘ میرا دماغ کچا تھا‘ میں بات نہ سمجھ سکا‘ میں کالج کے زمانے میں حاجی صاحب کی دکان پر چلا گیا۔میرا کلاس فیلو دوست تعلیم چھوڑ کر دکان پر بیٹھ چکا تھا‘ حاجی صاحب بڑی شفقت سے ملے‘ میں نے ان کا ماضی سنایا اور پھر ان سے پوچھا ’’حاجی صاحب سچ سچ بتائیں آپ نے اپنا کاروبار کیسے کام یاب کیا‘‘ حاجی صاحب نے قہقہہ لگایا‘ آسمان کی طرف انگلی اٹھائی‘ پھر وہ انگلی اپنے دماغ پر رکھی اور اس کے بعد پوری دکان کے اندر پھیر دی‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’بیٹا مجھے بڑی مشکل سے سمجھ آیا دنیا میں صرف پراڈکٹس نہیں بکتیں‘ دکان داروں کے حلیے اور پراڈکٹس کے نام بکتے ہیں۔مجھے یہ بھی پتا چل گیا مذہب میں بڑی برکت ہوتی ہے لہٰذا میں نے اپنا حلیہ بھی برکت والا بنا لیا اور اپنی پراڈکٹس کو بھی مذہبی نام دے دیا چناں چہ اللہ نے برکت دے دی‘‘ میں نے حیرت سے حاجی صاحب کی طرف دیکھا‘ وہ حلیے سے ان پڑھ ہونے کے باوجود سر سے پاؤں تک عالم دین لگتے تھے‘ میں نے دکان کا سائن بورڈ دیکھا ‘ اس پر اسلامی کریانہ مرچنٹ لکھا تھا اور پھر میں نے حاجی صاحب کی پراڈکٹس کو دیکھنا شروع کر دیا‘ ہر ڈبے‘ ہر پیکٹ اور ہر ساشے پر مکی‘ مدنی‘ محمدی‘ قادری‘ چشتی‘ حسینی‘ رضائی اور غوثیہ لکھا تھا‘ حاجی صاحب نے جیلیٹ بلیڈ پر بھی براق کی تصویر لگا رکھی تھی اور ان کا شہد بھی اسلامی تھا اور کاجل بھی مصطفوی ‘ حاجی صاحب ان تمام ناموں کی برکت کو اپنی کام یابی کی وجہ قرار دیتے تھے۔مجھے عجیب محسوس ہوا اور میں وہاں سے اٹھ آیا لیکن میں جب آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے حاجی صاحب عقل مند اور ان کی اپروچ عین سائنسی محسوس ہوتی ہے‘ مذہب دنیاوی برکت کا ایک شان دار ٹول ہے‘ آپ کسی بھی پراڈکٹ پر مذہب کا ٹھپہ لگا دیں وہ دھڑا دھڑ بکنا شروع ہو جائے گی‘ آپ کسی بھی چیز‘ خیال‘ پراڈکٹ اور فیصلے پر مذہب کی مہر لگا دیں لوگ اس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کریں گے‘ ہم مانیں یا نہ مانیں یہ بہرحال ایک تلخ حقیقت ہے۔