میں عمران خان کی مخالفت اور ان پر تنقید سے توبہ تائب ہو جاؤں گا اگر ۔۔۔۔۔ سلیم صافی کا عام اعلان

لاہور (ویب ڈیسک) اب کرکٹ دیکھنے کا وقت ہے اور نہ اس سے کوئی دلچسپی لیکن دور طالب علمی میں کرکٹ کھیلی بھی، دیکھی بھی اور عمران خان جیسے کرکٹر کا گرویدہ بھی رہا۔ شوکت خانم اسپتال کی چندہ مہم میں بطور طالب علم اپنا حصہ بھی ڈالا۔میری خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ میدان صحافت میں

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ قدم رکھنے سے قبل ڈاکٹر محمد فاروق خان مرحوم، جاوید احمد غامدی اور محمد علی درانی کے واسطے ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اس نتیجے تک پہنچا کہ یہ شخص کرکٹ اور سوشل ورک کے لئے جس قدر موزوں ترین ہیں، اس قدر سیاست کے لئے ناموزوں ہیں لیکن جب وہ سیاست میں آہی گئے تو بطور صحافی میرا ان کے ساتھ مخاصمت کا نہیں بلکہ عزت اور احترام کا تعلق رہا۔میری کلاس کے کئی قریبی دوست ابتدا سے ان کے ساتھ تھے جبکہ میرے بڑے بھائی اور عزیز ترین دوست ڈاکٹر محمد فاروق خان ان کی جماعت کے بانی جنرل سیکرٹری تھے۔ یوں اگر میں چاہتا تو ان کی قربت کی منزل کے حصول سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا تھا لیکن اللہ گواہ ہے کہ اس وقت ڈاکٹر فاروق خان اور بعد میں جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جیسے درجنوں لوگوں کی کوششوں کے باوجود میں ان کی طرزِ زندگی اور طرزِ سیاست سے اپنے آپ کو ایک خاص حد سے زیادہ ہم آہنگ نہیں کر سکا۔محترمہ ریحام خان جب ان کی اہلیہ تھیں تو انہوں نے بھی مجھے اور خان صاحب کو قریب لانے کی بھرپور کوشش کی لیکن میں تنقید نہیں چھوڑ سکتا تھا جبکہ تنقید کرنے والے کو خان صاحب برداشت نہیں کر سکتے۔سیاستدان عمران خان سے میرا پہلا اختلاف اس وقت ہوا جب انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی اور ریفرنڈم میں ان کے لئے ووٹ مانگے۔ دوسرا اختلاف ان کی افغانستان اور

طالبان سے متعلق پالیسی پر رہا لیکن 2012تک ان کے ساتھ معمول کا راہ و رسم برقرار رہا۔البتہ 2012میں جب طاقتور حلقوں نے بھرپور طریقے سے ان کی سرپرستی شروع کی تو ان پر میری تنقید میں بھی شدت آنے لگی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ایک تو میں اس ملک کے مسائل کی جڑ اس رجحان کو سمجھتا ہوں کہ یہاں کچھ سیاستدانوں کو غیرفطری طریقے سے مسلط کیا جاتا اور کچھ کو آئوٹ کیا جاتا ہے۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب انقلاب کے متمنی ان نوجوانوں کو تبدیلی کے نام پر روایتی جاگیردار اور سرمایہ دار سیاستدانوں کے قدموں میں بٹھا دیا جائے گا۔ اس دوران میڈیا کے ایک بڑے طبقے کو بھی عمران خان کو مسیحا ثابت کرنے پر لگا دیا گیا جبکہ میں مخالف کیمپ میں کھڑا رہا۔ میری دلیل یہ تھی کہ میاں نواز شریف اور زرداری جیسے ہیں۔لوگ ان کو ویسا سمجھ رہے ہیں جبکہ عمران خان جیسے ہیں، لوگوں کے سامنے ان کو الٹ پیش کیا جارہا ہے ۔ بطور میڈیا پرسن میں اپنا فرض سمجھتا تھا کہ دیگر لیڈروں کی طرح خان صاحب بھی جیسے ہیں۔ویسے سامنے آئیں اور اس کے بعد پھر فیصلہ کرنا عوام پر چھوڑ دیا جائے۔ میری دلیل یہ تھی کہ جس روز خان صاحب کی حقیقت بھی اس طرح لوگوں پر واضح ہوجائے گی جس طرح کہ دیگر سیاسی لیڈروں کی واضح ہوگئی ہے تو ان کے ساتھ میرا امتیازی رویہ بھی ختم ہو جائے گا۔2013کے انتخابات کے بعد دھرنوں کا، پھر لاک ڈائون کا اور پھر انتخابات کا مرحلہ آیا اور اللہ جانتا ہے کہ یہ میری صحافتی زندگی کے بڑے آزمائش والے مرحلے تھے۔

میں کسی حد تک میڈیا میں بھی اجنبی بن گیا۔ ٹی وی چینل میں کام کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ عمران خان جیسا پاپولر لیڈر جو بھرپور ریٹنگ دیتا تھا، کی ناراضی کتنا مشکل کام ہے۔بطور میڈیا پرسن اس شکل میں جو قیمت میں نے ادا کی، وہ ٹی وی شوز کے میزبان ہی بتا سکتے ہیں۔ پھر میڈیااور بالخصوص سوشل میڈیا پر بدنامی کی مہمات کا مسلسل سامنا رہا۔میں وہ بدقسمت یا خوش قسمت صحافی ہوں جس کی ٹرولنگ کا خود کئی مرتبہ عمران خان آرڈر دے چکے جبکہ میرے لئے ایک لقب بھی خود انہوں نے ایجاد کیا۔ گزشتہ انتخابات کے بعد تو حکومت ، پارٹی اور مقتدر حلقے مل کر ہمارا جینا حرام کرنے میں لگ گئے اور جن اداروں میں کام کرتا ہوں ان کو بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔تکلیف دہ مرحلہ یہ تھا کہ اس عمل میں کئی دوستوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا لیکن اللہ کی رحمت اور ماں کی دعائوں کے سہارے میں ثابت قدم رہا۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ میں ذاتیات کا شکار ہوں لیکن اللہ گواہ ہے کہ میری کوئی ذاتیات تھی اور نہ ہو سکتی ہیں۔نہ میں خان صاحب کے مقابلے کا آدمی ہوں اور نہ ان کے میدان کا۔ وزیراعظم کی کرسی پر کوئی بھی بیٹھا رہے مجھے یہی قلم اور زبان کی مزدوری کرنی ہے۔ وجہ بس یہ تھی کہ باقی لوگ ان کو مسیحا سمجھ رہے تھے اور میں ان کو دیگر سیاستدانوں کی طرح کا ایک سیاستدان سمجھ رہا تھا۔میڈیا کے دوستوں کی اکثریت باور کرا رہی تھی کہ وہ ملک میں انقلاب کا راستہ ہموار کررہے ہیں جبکہ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ ہماری معاشرتی اقدار پر ضرب لگارہے ہیں۔ لوگ باور کرارہے تھے کہ وہ پاکستان کو ملائیشیا بنا دیں گے جبکہ مجھے خدشہ تھا کہ وہ اسے افغانستان نہ بنادیں۔ بہر حال بھاری قیمت دے کر عمران خان کو وزیراعظم بنا دیا گیا اور ملک کا حکمران بنے ان کو ڈیڑھ سال کا عرصہ بیت گیا۔میں ان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ اس مختصر عرصے میں انہوں نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کردیا کہ ان کے اور ان کے حامیوں کے ہاتھوں لگائے گئے میرے دل کے سارے زخم مندمل ہو گئے۔ ان کو مسیحا ثابت کرنے والے آج شرمندہ شرمندہ پھر رہے ہیں جبکہ الحمدللہ مجھے کوئی ندامت نہیں۔ میں آج سینہ تان کر فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ الحمدللہ اس نام نہاد تبدیلی کو لانے میں میرا کوئی کردار نہیں۔تبدیلی سرکار کے ہاتھوں ملک کا جو حشر ہورہا ہے اس کا بہت دکھ بھی ہے لیکن اپنے اندازے کے درست نکل جانے پر احساس طمانیت بھی ہے۔شکریہ عمران خان۔ آپ نے مجھے سرخرو کیا۔ وہ بھی وقت سے بہت پہلے اور اندازے سے بہت زیادہ۔ میں آپ کے اس احسان کو کبھی نہیں بھلائوں گا۔ اللہ آپ کو اجر دے۔ آمین۔(ش س م)