میرے والد مرحوم عمران خان سے انتہائی لگاؤ رکھنے کے باوجود اکثر دعا کرتے کاش کپتان کبھی اقتدار میں نہ آئے ، ایک بار میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ کی ایک حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) میں اپنے گزشتہ کالم میں عرض کررہا تھا 2018ءکے عام انتخابات میں ، میں کینیڈا میں تھا، کینیڈا میں مقیم لاکھوں پاکستانی پی ٹی آئی کے حق میں زبردست مہم چلا رہے تھے، وہ کئی تقریبات میں عمران خان کے ایک قریبی ساتھی ہونے کے ناطے مجھے بھی مدعو کرتے،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ میں وہاں خان صاحب کی حق میں لمبی چوڑی تقریریں کرتا، جو سہانے سپنے خان صاحب پاکستان میں لوگوں کو دکھا رہے تھے وہی میں کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو دکھا رہا تھا، میں اُن سے کہہ رہا تھا ” جب وہ اقتدار میں آئیں گے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔ پاکستانی پاسپورٹ کی عزت اور قدر دنیا بھر میں اتنی بڑھ جائے گی دنیا بھر کے ایئرپورٹس کے امیگریشن کاﺅنٹرز پر بیٹھا امیگریشن کا عملہ سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی اُس کے احترام میں اُٹھ کر کھڑے ہو جایا کرے گا، بلکہ سلیوٹ کیا کرے گا، اور مسافر کی خدمت میں بڑے ادب سے ہاتھ جوڑ کر کہے گا ” سر ہم آپ کے بڑے شکر گزار ہیں آپ ہمارے ملک میں تشریف لائے“ ….اُن دنوں یقین کریں خان صاحب کی محبت میں ہم اس قدرجذباتی تھے ہمارا بس چلتا کسی مولوی کو کچھ دے دلا کر یہ فتویٰ جاری کروادیتے کہ ”جو اِس الیکشن میں خان صاحب کی حمایت کرے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا، اور جودیگر جماعتوں کی حمایت کرے گا وہ آخرت میں تو دوزخ میں جائے گا ہی، دنیا بھی اُس کے بعد اُس کے لیے دوزخ ہی بن جائے گی، بلکہ نون لیگ کی حمایت کرنے والے کو تو مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہیں ہوگا چاہے وہ کتنا ہی نمازی پرہیز گار کیوں نہ ہو “ ….خان صاحب کی کچھ فطری خامیاں ہم صرف اِس لیے نظرانداز کررہے تھے کہ وہ صرف مالی لحاظ سے کرپٹ نہیں تھے۔

اُس وقت ملک میں ایسی فضا بن گئی تھی، یا شاید کچھ مخصوص مقاصد کے لیے جان بوجھ کر ایسی فضا بنادی گئی تھی جس میں تقریباً ہر شخص اِس احساس میں مبتلا ہو گیا تھا اِس ملک اور معاشرے کے لیے صرف مالی کرپشن ہی سب سے زیادہ نقصان دہ ہے، اور ملک ومعاشرے کی ہر لحاظ سے تباہی صرف مالی کرپشن کی وجہ سے ہی ہوئی ہے، اِس ماحول میں خان صاحب ہمیں کسی ”فرشتے“ سے کم دکھائی نہیں دے رہے تھے، ہم سوچ رہے تھے گزشتہ تیس چالیس برسوں سے اِس ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اقتداروں میں اِس ملک کا مختلف حوالوں خصوصاً مالی لحاظ سے جو ”بلنت کار“ کیا ہے خان صاحب اقتدار میں آتے ہی اُس کا ازالہ کردیں گے۔ خان صاحب کی محبت میں ہم واقعی اندھے ہوگئے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں جو شخص مذکورہ بالا دوسیاسی جماعتوں کے لوٹوں کو لے کر اقتدار میں آنے کی جدوجہد کررہا ہے، یا تیسری سب سے بڑی قوت کی حمایت یامددسے اقتدار میں آنا چاہتا ہے وہ خاک تبدیلی لے کر آئے گا؟۔خان صاحب کی اندھا دھند محبت میں ان دنوں مجھے اپنا یہ ”قول“ بھی یاد نہ رہا جو 2012ءمیں خان صاحب کی خدمت میں اپنے گھر پر میں نے عرض کیا تھا کہ ” میری دعا ہے آپ کبھی اقتدار میں نہ آئیں کیونکہ آپ ہماری آخری امید ہیں“۔ یہ بات میں اِس لیے کہتا تھا مجھے پتہ تھا سسٹم اِس قدر بگڑ چکا ہے بجائے اس کے خان صاحب کو تبدیل کردے گا۔

اور ایسے ہی ہوا، پہلے والا عمران خان اب ہمیں ڈھونڈے سے نہیں ملتا، اب وہ صرف وزیراعظم ہے اور تقریباً ویسا ہی وزیراعظم ہے جیسے اُس سے پہلے تھے، میں چاہتا تھا بجائے اِس کے وہ اقتدار میں آکر کچھ نہ کرسکے، یا اُسے کچھ نہ کرنے دیا جائے، اُس سے ہزار درجے بہتر ہے وہ ؟”اُمید“ بن کر زندہ رہے، اب بڑی تیزی سے اُمید ٹوٹ رہی ہے، اب ہم لوگوں کو حوصلہ دیتے ہیں وہ آگے سے ہمیں گالیاں دیتے ہیںکل اپنے ایک بزرگ سے میں نے کہا ” خان صاحب فرماتے ہیں 2020ءمیں پاکستان کے حالات بہت بہتر ہو جائیں گے “ …. وہ فرمانے لگے ”اگر تو خان صاحب کی پہلے کہی ہوئی کوئی بات درست ثابت ہوئی ہوتی ہم اُن کی اِس بات پر بھی یقین کرلیتے“،….اِس حوالے سے اُن کا عدم اطمینان درست ہے، خان صاحب کو اب یہ یاد رکھنا چاہیے 2020ءمیں بھی کوئی کارکردگی وہ نہ دکھا سکے، خصوصاً معیشت نہ سنبھل سکی پھر مزید اُن کے کسی جواز کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، …. میں 2018ءکے الیکشن کی بات کررہا تھا، میں خان صاحب کی محبت میں اپنے اندھے ہونے کی بات کررہا تھا، اُن دنوں مجھے اپنے والد محترم (مرحوم) کا قول بھی بھول گیا، وہ بھی خان صاحب کے حوالے سے ہمیشہ یہی فرماتے تھے ” اللہ کرے یہ شخص کبھی اقتدار میں نہ آئے “…. اِک روز میں نے اُن سے پوچھا ” ابو جی ہمارا اُن کے ساتھ ذاتی تعلق ہے، وہ ہمارے گھر آتے ہیں، ہمیں عزت دیتے ہیں،

ہمارےدُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں، دوبار آپ کی عیادت کرنے کے لیے بھی آئے، پھر آپ یہ دعا کیوں کرتے ہیں ؟“…. وہ فرمانے لگے ” بس ایسے ہی کبھی کبھی میں سوچتا ہوں جو شخص اپنی فیملی اپنے خون کے رشتوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا وہ کسی اور کے ساتھ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ اُس کے والد کے دوستوں سے ہم نے سنا وہ ہمیشہ گلہ کرتے تھے میرا بیٹا میری عزت نہیں کرتا، اُن کی والدہ کو اپنی زندگی میں یہ گلہ رہا وہ اُنہیں وقت نہیں دیتا، اُن کی پہلی بیگم اُنہیں چھوڑ کر چلی گئی، دوسری بھی چلی گئی، اُس نے اپنے اُس برادر نسبتی سے ترک تعلق کرلیا جس نے اُس کے لیے اپنا بہت وقت ضائع کیا، محض ایک چھوٹی سی سیاسی رنجش کی وجہ سے وہ اپنے بھائی اپنے کزن نجیب اللہ نیازی کے جنازے تک میں شریک نہ ہوا، نہ بعد میں اُن کے گھر اظہار تعزیت کے لیے گیا۔ حالانکہ اُس سے قبل جب وہ سٹیج سے گر کر زخمی ہوا تھا تو شوکت خانم ہسپتال میں اُس کے یہ سارے ناراض کزنز اُس کی عیادت کے لیے پہنچے تھے، …. تو جو شخص اپنی فیملی اپنے خون کے رشتوں کے ساتھ نہیں نبھا سکتا وہ عوام کے ساتھ نبھا سکتا ہے ؟؟؟“،….میرے والد محترم کی ان باتوں میں بڑا وزن تھا مگر اُس وقت خان صاحب کی محبت میں اندھے اور بہرے ہم لوگوں نے اِن تمام باتوں کو رتی بھر اہمیت نہیں دی ، 2018ءکے عام انتخابات کے دنوں میں

یا اُس سے پہلے ہمیں ان کے بارے میں کوئی اگر یہ کہتا ” وہ جھوٹ بہت بولتے ہیں“ ….ہم اُن کا دفاع کرتے ہوئے جواباً عرض کرتے ”جھوٹ بولتا ہے پر کرپٹ تو نہیں ہے ناں“ ….کوئی ہم سے یہ کہتا ” وہ پرلے درجے کا منافق ہے“،…. ہمارا جواب ہوتا تھا ”منافقت کوئی کرپشن سے بڑا گناہ تو نہیں ہے “ …. کوئی ان کے بارے میں ہمیں یہ طعنہ دیتا ” وہ جس گھر میں جاتے ہیں وہاں یہ توقع رکھتے ہیں کم ازکم دیسی اصیل مرغوں، تیتر، بٹیروں اور ہرن وغیرہ کے گوشت لازمی ہوں گے، اور ان کے پاس کوئی آئے چائے کی پیالی تک نہیں پوچھتے “ …. ہمارا جواب یہ ہوتا تھا ” یہ سب ٹھیک ہے مگر اُس نے مال تو نہیں بنایا ناں“ …. اُن دنوں کوئی اُن کے بارے میں ہم سے یہ کہتا ” وہ ایک انتہائی بے دید انسان ہے، مطلب نکل جانے کے بعد کسی کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا، ہم آگے سے پھر یہی جواب دیتے ” یہ بھی ٹھیک ہی ہوگا مگر وہ بے ایمان تو نہیں ہے ناں“ …. کوئی ہمارے سامنے یہ دلیل پیش کرتا اُسے تو سیاست وانتظامی امور کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے، وہ ملک کیسے چلائے گا ؟“…. جواباً ہم یہ عرض کرتے ملک چلانے کے لیے صرف کرپٹ نہ ہونا ضروری ہوتا ہے، وہ چونکہ صرف مالی لحاظ سے کرپٹ نہیں ہے تو اپنی اِس واحد خوبی کی برکت سے چلانے میں اُسے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ (ش س م)