بیگم میک اپ کرے تے خرچہ برداشت نئیں ہوندا ، جے میک اپ نہ کرے تے بیگم برداشت نئیں ہوندی ، اس لیے اے میرے کپتان ۔۔۔۔ ایثار رانا کی دلچسپ اور معنی خیز سیاسی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اوگرا نے حاتم کی قبر پر لات نہیں ماری دولتی ماری ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں6پیسے کمی کی تجویز کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ حاتم طائی پہلے ایک بار فوت ہوا اب دوسری بار اوگرا کی فیاضی سے فوت ہو گا۔ چلو شکر ہے اس مہنگائی کے صدمے سے

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ منہ وٹے پاکستانیوں کو دندیاں کڈنے کا موقع تو ملا۔ میرا یقین ہے کہ 6پیسے فی لیٹر کمی سے غریبوں کی زندگی میں ایک انقلاب آئے گا۔ ایک خوشحالی کا طوفان آئے گا جو انکے تمام دکھ درد بہا لے جائے گا۔ ماشاءاللہ میرا دل کرتا ہے کہ اوگرا کے ذمہ داروں کی ایک پپّی ادھر اور ایک پپّی ادھر لوں۔ اسے کہتے ہیں زخموں پر نمک چھڑکنا۔ اسے کہتے ہیں یہ احساس دلانا کہ اس مملکت خدا داد پاکستان میں غریبوں اور ان کی غربت کا کیسے مذاق بنایا جاتا ہے۔ کوئی مجھے بتائے کہ یہ پیسے آنہ ٹکا رہ کہاں گیا ہے؟ جس دن اس ملک میں غریب ٹکہ ٹوکری ہوا تھا۔ پیسہ آنہ تو اس دن ختم ہو گیا تھا۔ اللہ بخشے ڈاکٹر محبوب کو انہوں نے پیسہ آنہ پائی کو ختم کر دیا لیکن جیسے مشرف، ضیاءالحق کی باقیات سے جان چھڑانا ممکن نہیں ویسے ہی ان پیسوں سے بچنا ممکن نہیں، ٹیچر نے کہا ٹھنڈ کو جملے میں استعمال کرو سنتا سنگھ بولا آپ سبق پڑھاتے ہیں ساڈے پلے پوّے نہ پوّے تہانوں تے ٹھنڈ پے جاندی اے۔ بھیا چلیں ہمیں ان چھ سات پیسوں سے کوئی فرق پڑے نہ پڑے اوگرا کے لاکھوں روپے کی تنخواہ اور مراعات لینے والے افسروں کو تو ٹھنڈ پڑ گئی ہماری غربت اور بے بسی کا مذاق اڑا کر۔ وزیر اعظم عمران خان کم از کم اتنا تو اہتمام کریں، قوم کو گھبرانے کی اجازت نہ بھی دیں

انہیں ظالم بیورو کریسی کے ہاتھوں اپنا توّا لگنے پر تلملانے کی اجازت دے دیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے جتنا آرام کرنا تھا کر لیا وہ ایک بار پھر احتجاج کی نئی اننگز کھیلنے کے لئے تیار ہیں میری بات یاد رکھیں مارچ میں جو مارچ ہونگے وہ کسی نہ کسی کا بوریا بستر ضرور سمیٹ دیں گے ۔ گرمیوں میں اتنے غریب بچوں کے پھوڑے پھنسیاں نہیں نکلتیں جتنا حکومت مخالف رولے رپّے پڑیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ حکومتی اتحاد میں ہمارے مظلوم نواز شریف کی بد دعاﺅں سے کیڑے پڑیں گے۔ پرویز الٰہی تو ٹریلر ہیں پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست، آپ جلد بڑی سکرین پر ‘میرے دوست قصہ کیا ہو گیا ،سنا ہے کہ تو بے وفا ہو گیا’ سنیں گے۔ چودھری صاحب درست کہتے ہیں کہ اتحادیوں کو سوتن نہیں سمجھنا چاہئے لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ دوشیزہ جو زبردستی کسی کے نکاح میں دے دی جائے ہمیشہ ظالم سو تن ہی رہتی ہے۔ اگر انسان کسی پوشیدہ مجبوری کی وجہ سے ڈاکو حسینہ کو اپنی زندگی کی پارلیمنٹ کا سپیکر بنا ہی دے تو دل میں گرج رہتا ہی ہے ۔پھر اسے پتہ ہے کہ ڈاکو حسینہ جب بھی ضرورت پڑی اور اس کے اصل محبوب نے ‘کن سن’ میں اشارہ کیا وہ اپنا سامان سمیٹے گی اور رات کی تاریکی کے بجائے دن کی روشنی میں جگتے وستے ٹاپو ٹاپ فرار ہو جائے گی۔ بنتا سنگھ بولا یار میں بڑی مشکل میں پھنس گیا ہوں۔ بیگم میک اپ کرے تے خرچہ برداشت نہیں ہوندا ، میک اپ نہ کرے تے بیگم برداشت نہیں ہوندی،

میرے کپتان کو یہ فیصلہ تو کرنا ہے کہ اگر انہوں نے راج سنگھاسن پر چوکڑی مار کے بیٹھنا ہے تو بیگم کو میک اپ کا خرچہ دینا ہی ہو گا۔ مہنگے سہی اس کے حقوق پورے کرنے ہو نگے ورنہ وہ رولا بھی پائے گی اور عین موقع پر اپنے محبوب کے کہنے پر گھر چھوڑ کر چلی بھی جائے گی۔ لیکن میں کیا کروں حکومت کے ہر ٹرک کے پیچھے لکھاہے ضد نہ کر سوہنا خان تے آپ بڑا ضدی اے، کے پی کے کے پھڈے ارکان کی روٹھا منائی، پنجاب میں وزیراعلیٰ بزدار کو کام نہ کرنے دینے کے منصوبوں کے بعد چاہئے تویہ تھا کہ حکومت کم سے کم ایشو پیدا کرتی، لیکن سندھ میں آئی جی کلیم پر بھی اس نے آستین چڑھالیں۔ شاید حکمرانی میں یہ بات ضروری ہے کہ ہر حال میں مخالف کی مخالفت کرنی ہے اور یہ تاثر دینا ہے کہ ‘ڈاڈے کے ستی ویاںدا سو ہوندا ہے’۔ پنجاب میں اب تک کتنے آئی جی بدلے کوئی رولا نہیں پڑا، لیکن اگر سندھ حکومت بدلے تو وفاق کے ٹھڈ میں ‘کھڑل’ نہیں پڑنے چاہئیں۔ سنتا سنگھ نے مہمانوں کو بسکٹ پیش کئے وہ بولے بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی سنتا بولا جی میں وی امی نوں ایہوں کہا سی۔ بھائی زرا ہتھ ہولا رکھیں۔ سب کو لے کر چلیں، اسی کا نام جمہوریت ہے۔ یا پھر آپ کہہ دیں کہ آپ بھی نوے ماڈل کی نوازشریف بے نظیر سٹائل جمہوریت چاہتے ہیں۔ قوم کو کسی پاسے تو سکون لے لینے دو مرشد جی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے دو اونٹوں کو عدلیہ کے مختلف پہاڑوں کے نیچے آتے دیکھاہے۔ ایک تو میرے پنڈی کے شنجو ہیں جن کو تکیوں نے ہوائیں دینی شروع کی ہیں۔ ہم توپہلے کہتے تھے بھائیو تے فیر بھائیو، ہوا کسی کی نہیں ہوتی۔ دوسروں کے چراغ تو پھر اتفاق فونڈری کے تھے جس میں انہوں نے برسوں کی مشقت سے اپنی مرضی کے نظام کا تیل ڈالا تھا۔ ہوا نے ان کے چراغوں کو اٹھا کے پراں مارا۔ آپ کی تو بتیاں سانس کی آہٹ سے پھڑ پھڑانے لگتی ہیں۔ ہتھ ھولا رکھو لیکن اقتدار اتنا ظالم کھیل ہے جس میں ہر کھلاڑی نہ صرف اندھا ہو جاتا ہے بلکہ بہرہ بھی ہو جاتا ہے۔ ٹیچر بولا بہرے کو انگلش میں کیا کہتے ہیں۔ سنتا سنگھ بولا چھڈو سر جی، جو مرضی کہہ لو اس نے کونسا سن لینا ہے۔ ہم پھر بھی رسک لے کر کہتے رہے ہیں اور پھر دہرائے دیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آوے، کیونکہ سیاست میں بھل چک لین دین کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ اب میرے پیارے برٹش صحافی ڈیوڈ روز کو پتہ چلے گا کسی پاکستانی پر الزام لگانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ سواد آگیا، ایک برطانوی اونٹ پاکستانی پہاڑ کے نیچے آیا۔ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو ہی جائے اور دودھ بھی برٹش، ہمیں انصاف میں پاکستانی دودھ نہیں چاہئے اس میں تو مصلحتوں کے کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ اور تو اور برٹش پانی بھی رشوت بے ایمانی کے گٹر کے پانی سے پاک ہوگا۔(ش س م)