ٹرانسپرنسی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستانی میڈیا نے کب کب اور کیا پھرتیاں دکھائیں ؟ کالم نگار علی احمد ڈھلوں نے حیران کن حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک)گوئبلز(Goebbels) ہٹلر کی فوج کا وہ کردار تھا جس کے ذریعے وہ پوری دنیا میں پراپیگنڈہ کرواتا تھا، اگر یوں کہا جائے کہ گوئبلز ہٹلر کی پروپیگنڈا مشینری کا موجد اور ماسٹر مائنڈ تھاتو غلط نہ ہوگا، ہٹلر کے دور میں ذہن سازی بہت بڑا کام تھا، پراپیگنڈہ کے ذریعے ہٹلر نے آدھے

نامور کالم نگار علی احمد ڈھلوں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جرمنی کو فوج میں شامل کیا ہوا تھا، وہی کام آج بھی شروع ہو چکا ہے، یعنی نفسیاتی حربوں کا استعمال اور اس سے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک فعال پروپیگنڈے کی لڑائی اب ایک سائنس کا درجہ حاصل کر چکی ہے اور دنیا کے تقریبا تمام ممالک کی سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کے خلاف اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ، پولیو کا شکار گوئبلز کہا کرتا تھا کہ ”جھوٹ اتنا زیادہ اور مسلسل اس رفتار سے بولو کہ سچ لگنے لگے“ ( یہاں ایک اور بات جو ہم میں سے بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ہٹلر نے جب نازی پارٹی جوائن کی تھی تب وہ بھی اپنی پارٹی میں پروپیگنڈا انچارچ تھا) یہ گوئبلز کی اسی قابلیت اور نفسیاتی حربوں اور پراپیگنڈے کے محاذ پر اس کی صلاحیت کا اعتراف ہے کہ آج اسے پراپیگنڈے کے محاذ پر ایک ”لیجنڈ“کی حیثیت حاصل ہے اور اس کی حکمت عملیوں اور کارکردگی کی بنا پر مقامی سطح کی چھوٹی سی نازی پارٹی کے ہٹلر جو ناکام بغاوت میں جیل یاترا کر چکا تھا کو ناصرف ہٹلر بنایا بلکہ اسے پوری دنیا میں ایک سلوگن بنا دیا۔ معذرت کے ساتھ موجودہ حکومت کے خلاف آج بھی بہت سے گوئبلز کام کر رہے ہیں جو بنا دیکھے، بنا سوچے سمجھے اور بغیر تحقیق کے خبر چلاتے، پھر پتلی تماشہ دیکھتے اور خوش ہوتے ہیں۔ ایسا میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ حال ہی میں کرپشن کے حوالے سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ شائع ہوئی، ہمارے چینلز نے آﺅ دیکھا نا تاﺅ، اور حکومت پر چڑھائی کر دی کہ موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے،

یعنی پاکستان 117ویں پوزیشن سے 120ویں پوزیشن پر آگیا ہے، بعد میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر نے اس رپورٹ کے بارے میں پاکستانی میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس رپورٹ کی تفصیل میں جاتے تو یقینا ایسی خبریں آن ائیر نہ کرتے جس سے ملک میں بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہوتی۔ حالانکہ قرآن پاک میں فرمانِ خداہے ”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو“۔لیکن ہم ایسا نہیں کرتے ، بلکہ تنقید برائے تنقید کو آگے لے کر چلتے ہیں اور پھر وہی ہمارا خاصہ ہوتا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جس وقت ہمارے وزیر اعظم سوئٹزر لینڈ، جہاں دنیا بھر کے لٹیروں، منی لانڈررز اور میگا پراجیکٹس سے وصولیاں کرنے والے کمیشن خوروں کے لوٹے ہوئے اربوں ڈالرز ذخیرہ کئے جاتے ہیںمیں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے حاضرین کو بڑے فخر سے بتا رہے تھے کہ اپنے صرف ڈیڑھ سالہ دور حکومت میں انہوں نے ملک میں بڑی سطح پر ہونے والی کرپشن پر70فیصد سے زیا دہ قابو پا لیا ہے تو ہال ان کے لیے تعریفی تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ ان کا خطاب ختم ہوا تو ان کی شخصیت کے سحر میں ڈوبا ہوا بین الاقوامی میڈیا اور عالمی رہنما ایک خوشگوار احساس لیے بڑی گرم جوشی سے ابھی ان خیالات کو سراہ ہی رہے تھے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ

معزول وزیر اعظم نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان حکومت کے ایک سال میں کرپشن پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ابھی وزیر اعظم عمران خان کی ورلڈ اکنامک فورم کی تقریروں کی گونج ختم نہ ہوئی تھی کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ سے ہر طرف شور مچ گیا کہ دیکھا سابقہ حکومتیں کس قدر ایماندار تھیں اورموجودہ حکومت کس قدر کرپٹ ۔ لیکن ابھی مٹھائی صحیح انداز میں تقسیم بھی نہ ہوئی تھی کہ پاکستان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ نے وضاحتی بیان بھی جاری کردیا اورواضح کیا کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ نہیں ہوا اور موجودہ حکومت کے بدعنوانی کے خلاف اقدامات قابل ستائش ہیں۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ رپورٹ میں کہیں نہیں کہا گیا کہ 2019ءمیں پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا سکور ایک درجہ نیچے جانا کرپشن میں اضافے کی نشاندہی نہیں کرتا۔سہیل مظفر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ساکھ کو بدنام کرتے ہوئے ہماری رپورٹ، جو دنیا بھر کے اداروں تک پہنچائی جاتی ہے، کو غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔بقول شاعر یہ کہا جا سکتا ہے کہ
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
پاکستان میںایک خاص گروہ، جسے موجودہ حکومت پر چلاّنے کیلئے خصوصی تربیت اور مواد مہیا کیا جاتا ہے، اس نے جھوٹ کو اپنے سر پر بٹھاتے ہوئے اپنے حامیوں کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے اور کرپشن کے ثبوت دیتے ہوئے ان پر شدید حملے شروع کر دیے،

بلکہ یہاں تک ہوا کہ ایک خاتون اینکر نے مخصوص دھڑے کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے ماہرین کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا اور عمران خان کے خلاف اس رپورٹ کے نام پر بدعنوانی کے پہاڑ گرانے شروع کر دیئے۔ اور تو اور لندن میں اپنے فلیٹ کے باہر میاں شہباز شریف میڈیا کو خصوصی طور پر بلا کر اپنے ہی دورِ حکومت کا گند عمران خان پر پھینکنا شروع کر دیا۔اس قدر بے خبری اور اس قدر جہالت کا مظاہرہ بھی کیا جا سکتا ہے ‘اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے نمائندے سہیل مظفر نے اپنی پریس ریلیز کے ذریعے تحریک انصاف سے معذرت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہماری رپورٹ تو نواز شریف کی مدتِ اقتدار میں کرپشن کے حوالے سے جاری کی گئی ہے‘ جسے بد قسمتی سے پاکستان کے کچھ سیا ستدانوں اور میڈیا ہاﺅسز نے اچھالتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔لگتا ہے کہ میڈیا اور اپوزیشن سے متعلق تمام سیا ست دانوں نے اس رپورٹ کو ایک نظر دیکھنے اور پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان جماعتوں کے دور حکومت کا معیار کیا ہو سکتا ہے۔ خیر ہمت مرداں مدد خدا…. میں تو یہی کہوں گا کہ عمران خان کا مقابلہ اس وقت چونکہ مولانا فضل الرحمن، نواز لیگ، پی پی پی، جماعت اسلامی، محمود خان اچکزئی اور منظور پشتین گروپ سے ہے، اس لیے مخالفین کے ساتھ مقابلہ آٹھ ایک کے حساب سے کیا جاتاہے۔

ان سیا سی جماعتوں اور گروہوں نے جھوٹ کے گروکی پیروی کرتے ہوئے اپنے بدن پر لگنے والے کیچڑ کو بھی عمران خان کے بے داغ لباس پر پھینکنا شروع کر دیا ہے۔ سروے کے نام سے پاکستان اورا س سے باہر کام کرنے والے بہت سے اداروں کو پاکستان کی ایک سیا سی قوت35 برسوں سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔ کبھی اسے مقامی سروے کا نام دیا جاتا تو کبھی اسے انٹرنیشنل سروے کی شکل میں اچھالا جاتا رہا۔کچھ بھی ہو ہم سب یہ تسلم کرنے پر تو اب مجبور ہو چکے ہیں کہ گوئبلز کی سوچ موجودہ حکومت کی اپوزیشن اور ان کے حامی میڈیا ہاﺅسز پر حاوی ہو چکی ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا ہے ایک نیم سرکاری کمپنی تو ایسی بھی گزری ہے جس نے میاں محمد نواز شریف کو قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی مقبول لیڈر بنا کر پیش کر دیا تھا،اسی نے مئی2013 ءکے انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے خیبر پختونخوا میں نواز شریف کو سب سے مقبول لیڈر کے طور پر پیش کر کے دکھا دیا،لیکن جب کے پی کے میں انتخابی نتائج سامنے آئے تو نواز لیگ کا کہیں وجود ہی نہیں تھا اور عمران خان کی تحریک انصاف کا طوطی ہر جانب سر چڑھ کر بو ل رہا تھا، بلکہ الیکشن کمیشن کا رزلٹ مسلم لیگ نواز کے کاسہ لیسوں کی جانب سے پھیلائے جانے والی سروے رپورٹس کا منہ اس طرح چڑا رہا تھا کہ بہت سے مسلم لیگی امید واروں کی ضمانتیں تک ضبط ہو گئیں۔ بہرکیف آپ سرکس کے شیر کی ہی مثال لیجیے اپنی تمام تر قوت فطری طاقت خوفناکی اور جنگل کے بادشاہ کی حیثیت سے اپنے افسانوی تشخص کے باجود وہ اپنے رنگ ماسٹر کے چابک کا غلام ہو جاتا ہے جنگل میں انسان پر لرزہ طاری کر دینے والا یہ جانور ایک آدمی کے ہنٹر کی جنبش کے تابع ہو جاتا ہے یہ سارا کمال اس ماسٹر کا ہے جو مسلسل کوشش کے بعد خونخوار شیر کے ذہین پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے اور جنگل کے بادشاہ کو اپنی مرضی سے چلانا اس کے لئے معمول کا کھیل بن کے رہ جاتا ہے، لہٰذاآج کے دور میں میڈیا ہمارے لیے ”رنگ ماسٹر“ کا کام کر رہا ہے اور ہمارے ذہنوں کو کنٹرول کیا ہوا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر اس کنٹرول سے باہر نہ نکلے تو ہم مارے جائیں گے یا ہم پر وہی دوبارہ مسلط ہو جائیں گے جن کے ہاتھ میں 70فیصد میڈیا ہاﺅسز کی ڈوریاں ہیں!