شریف خاندان کا لفافہ نواز صحافی بننے کے لیے مجھے کب کب آفرز کی گئی اور یہ آفرز کن نامور شخصیات کے توسط سے ملیں ۔۔۔ توفیق بٹ نے اپنا صحافتی کیرئیر عوام کے سامنے رکھ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) جناب مجید نظامی کے حکم پر میں نے نوائے وقت میں لکھنا شروع کردیا، میرا کالم نوائے وقت کے مختلف نیوز پیجز پر شائع ہوتا تھا، ایک روز نظامی صاحب نے جناب ارشاد احمد عارف کے ذریعے مجھے پیغام دیا ”آپ کا کالم چونکہ بہت پسند کیا جارہا ہے

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا آپ ہفتے میں تین کالم لکھنے کے بجائے روزانہ لکھیں۔“ میں نے عرض کیا ” میرے لیے روزانہ لکھنا بہت مشکل ہے، ویسے بھی روزانہ لکھا تو جاسکتا ہے اچھا نہیں لکھا جاسکتا، کالم کے علاوہ میں بطور اُستاد بھی اپنے فرائض ادا کرتا ہوں، اِس لیے میرے لیے نظامی صاحب کی اس خواہش کا احترام کرنا مشکل ہوگا“ ….ارشاد عارف صاحب نے مشورہ دیا آپ کو نظامی صاحب کی اِس خواہش کو رد نہیں کرنا چاہیے“….یہ وہ دورتھا جب نظامی صاحب کو صحافت کا ”بادشاہ سلامت“ سمجھا جاتا تھا، اُن کی حکم عدولی کی کسی کو جرا¿ت نہیں ہوتی تھی، خیر میں نے ارشاد عارف صاحب سے کہا ” میں کوشش کروں گا“ ….مجھے اُس وقت ایک واقعہ بھی یاد آگیا ، نوائے وقت کے ایک کالم نگار نے نظامی صاحب کو خط لکھا ” میری تنخواہ بڑھا دیں “ ….نظامی صاحب نے اُن سے کہا”ٹھیک ہے ہم آپ کی تنخواہ بڑھا دیتے ہیں پر آپ کالم کم کردیں“۔ یہ بات انہوں نے طنزیہ طورپر کہی تھی، اُن کے کہنے کا مقصد تھا آپ اچھا نہیں لکھ رہے یا آپ کے کالم پسند نہیں کیے جارہے لہٰذا آپ کالم کم لکھیں“ ،…. میں نے سوچا نظامی صاحب نے مجھے اگر زیادہ کالم لکھنے کے لیے کہا ہے تو مجھے اِس ”اعزاز“ کو ٹھکرانا نہیں چاہیے، میں نے روزانہ لکھنا شروع کردیا، کچھ دنوں بعدنوائے وقت میں شریف برادران کے ایک چہیتے جاوید محمود اُس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب کے خلاف ایک کالم لکھنے پر اس وقت کے

وزیراعلیٰ شہباز شریف کی خواہش یا حکم پر جناب مجید نظامی نے نوائے وقت میں میرے کالموں کی اشاعت پر پابندی لگادی، مجھے اِس پر بڑی حیرت ہوئی کہ ایک طرف وہ مجھے روزانہ کالم لکھنے کے لیے کہہ رہے تھے دوسری طرف ایک صوبائی حکمران کا پریشر برداشت نہیں کرسکے، میں نے نظامی صاحب کو خط لکھا کہ اگر میں نے نوائے وقت کی پیشانی پر لکھے ہوئے جملے کے مطابق جابر سلطان کے سامنے کلمہ¿ حق کہنے کا جہاد کرہی لیا ہے تو مجھے اِس کی سزادینے سے پہلے نوائے وقت کی پیشانی پر لکھا یہ جملہ ہٹا دینا چاہیے تھا یا پھر اس جملے میں یہ ترمیم کردیں ”جابر سلطان کے سامنے کلمہ¿ حق جابرسلطان سے پوچھ کرکہنا جہاد ہے“….نظامی صاحب نے میرے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا، نظامی صاحب کے سامنے اُن کے مزاج کے خلاف بات کرنے کی کوئی جرا¿ت نہیں کرتا تھا، سو مجھے یقین تھا وہ میری اِس بات کا بہت بُرا منائیں گے اور نوائے وقت کے دروازے میرے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیئے جائیں گے،…. میں عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا، نوائے وقت جائن کرنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد مجھے احساس ہوا یہاں میں شریف برادران کے پول نہیں کھول سکتا، کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا تھا شریف برادران نے نوائے وقت کو ٹھیکے پر لے رکھا ہے، بہرحال یہ ایک طویل داستان ہے، زندگی کے بارے میں کوئی کتاب لکھی اُس میں عرض کروں گا، ….نوائے وقت میں میرے کالموں کی اشاعت پر پابندی لگے کافی عرصہ بیت گیا، اس دوران کچھ اخبارات کی انتظامیہ مسلسل اصرار کررہی تھی

نوائے وقت کو خیر باد کہہ کر میں ان کا اخبار جائن کرلوں، میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا، میں نوائے وقت کی جانب سے ملنے والی اذیتوں کے باوجود نظامی صاحب کی سرپرستی سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا، کچھ روز بعد میں نے اُنہیں خط لکھا کہ اتنے دنوں سے میرے کالم شائع نہیں ہورہے، مجھے بتایا جائے میرے لیے کیا حکم ہے ؟“ ….اِس خط کے جواب میں مجھے مشورہ دیا گیا ” میں شہباز شریف سے مِل لُوں“…. میں نے معذرت کرلی، دو روز بعد نظامی صاحب کا فون آگیا کہنے لگے آپ کالم بھجوادیں، میں نے ایک غیر سیاسی موضوع پر کالم لکھ کر بھجوایا جو نیوزپیج پر شائع ہونے کے بجائے ادارتی صفحہ نمبر 2پر شائع ہوا، نوائے وقت کے اِس صفحے کو ”کالموں کا قبرستان“ کہا جاتا تھا، یہاں زیادہ تر اُن لوگوں کے کالم شائع ہوتے تھے جن کی واحد ”خصوصیت“ یہ ہوتی تھی وہ نظامی صاحب کی خوشامد بہت اچھی کرتے تھے، یہ نظامی صاحب کی کمزوری تھی، میں نے نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر ارشاد عارف صاحب سے گلہ کیا، وہ فرمانے لگے نظامی صاحب کا حکم ہے آئندہ آپ کا کالم اِسی صفحے پر چھپے گا، اِس صفحے پر کالم کی اشاعت کا ایک نقصان یہ بھی تھا یہ صرف لاہور میں چھپتا تھا، اب تو خیر سوشل میڈیا کی وجہ سے ایسی قباحتوں اور خباثتوں کی اہمیت نہیں رہی، میں اُس زمانے کی بات کررہا ہوں جب اخبارات کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی، کم معاوضے پر نوائے وقت کو جائن کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی

اُن دنوں یہ اخبار دوسرے نمبر کا تصور کیا جاتا تھا، نظامی صاحب کے حکم کا نقصان یہ ہوا میرے قارئین کی تعداد محدود ہوگئی، اب صرف لاہور اور نزدیکی شہروں میں رہنے والے ہی میرے کالم پڑھ سکتے تھے، میں نے ان کی یہ زیادتی بھی برداشت کرلی، اُنہیں اللہ پاک اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے، وہ بہت خوبیوں کے مالک تھے مگر اُن میں بڑی کمزوری یہ تھی وہ حد سے زیادہ خوشامد پسند تھے، اُن کے اخبار میں لکھنے والوں کے لیے ضروری ہوتا تھا مہینے میں کم ازکم دوچار کالم وہ اُن کے حق میں ضرور لکھیں، مجھ سے یہ نہیں ہوتا تھا، بس دوچار کالموں میں ہی اُن کا ذکر خیر مجھے دل پر پتھر رکھ کر کرنا پڑا، کیونکہ مجھ پر یہ احساس غالب آگیا تھا میں نے یہ ”کارخیر“ نہ کیا میرا کالم دوبارہ بند ہوسکتا ہے، ہمارے ایک شاعر ہوا کرتے تھے، وہ بھی اس دنیا میں اب نہیں رہے، وہ شاعر بہت اچھے تھے مگر میرے نزدیک اُنہیں کالم لکھنا نہیں آتا تھا، وہ اکثر اپنے کالموں میں بونگیاں ہی مارتے تھے، اِس کے باوجود اُن کا کالم بڑے اہتمام سے نیوز پیج پر شائع ہوتا تھا، میں ایک بار نوائے وقت کے دفتر گیا، نوائے وقت کے ایک ادارتی رکن سے اِس کی وجہ پوچھی اُنہوں نے دراز سے لفافوں کا ایک ڈھیر نکال کر میرے آگے رکھ دیا، میں نے پوچھا ”یہ کیا ہے؟“، وہ بولے ” یہ وہ لفافے ہیں جن میں موصوف اپنا کالم بند کرکے نظامی صاحب کو بھیجتے ہیں، ہرلفافے کے باہر لکھا ہوا تھا ” پیغمبر صحافت جناب مجید نظامی کی خدمت میں “ ….وہ مجھ سے کہنے لگے اگر آپ نظامی صاحب کا درجہ اس سے زیادہ بڑھا سکتے ہیں تو آپ کا کالم دوبارہ نیوز پیج پر چھپنا شروع ہو جائے گا، ظاہر ہے میں ایسا کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا چنانچہ میں جتنا عرصہ نوائے وقت میں رہا اذیت میں رہا !!(ش س م)