سابق وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کی وجہ سے نواز شریف کے ساتھ کیا ہوا تھا اور اب فارورڈ بلاک عمران خان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے ؟ کالم نگار آصف عفان کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) اُستاد نے کلاس روم میں ایک بچے سے سوال پوچھا کہ سمندر میں بسنے والی چار مخلوق کے نام بتاؤ… بچہ کافی دیر سوچتا رہا اور طویل سوچ بچار کے بعد بولا: مچھلی، مچھلی کے بابا، مچھلی کی ماما اور مچھلی کی پھوپھی جو اُن کے ساتھ رہتی ہے۔ جس طرح بچے

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ نے استاد کے سوال کے جواب میں چاروں سمندری مخلوق کے نام فرفر سنا ڈالے‘ اسی طرح انصاف سرکار کے قائدین حکومتی کارکردگی، میرٹ اور ناجانے کیا کیا صبح دوپہر شام گاتے‘ دھراتے پھرتے ہیں اور ان اقدامات کا کریڈٹ لینے کے لیے بھی بے تاب دِکھائی دیتے ہیں جن کا نہ تو کوئی وجود ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے وجود میں آنے کا امکان۔ ان سقراطوں اور بقراطوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی نیت سے لے کر معیشت تک‘ زبان و بیان سے لے کر فکروعمل تک سبھی کچھ عوام کے لیے وبال بن چکا ہے۔ سستے داموں گندم برآمد کرکے اور اب مہنگے داموں درآمد کرکے گورننس کی نئی راکٹ سائنس متعارف کروائی گئی ہے۔ عوام کو آٹے کے گھاٹے سے دوچار کرکے پہنچ سے باہر چینی کی قیمتوں کے زہر میں گوڈے گوڈے تک دَھنسا دیا گیا ہے۔ آٹے کے سنگین بحران سے دوچار مملکت خداداد کے صدرعارف علوی کی صاف گوئی پر بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ: ع اس سادگی پہ کون نہ مَر جائے اے خدا ۔۔۔۔ تعجب ہے کہ گزشتہ روز تک وہ آٹے کے بحران سے ہی لاعلم تھے؛ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ مجھے اس بحران کا علم ہونا چاہیے تھا۔ یہ تو اُن کی جانب سے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ ہے۔ ڈھٹائی اور ”میں نہ مانوں!!!‘‘ کے اس دور میں ان کا یہ اعتراف غنیمت ہے۔ اُدھر آئی جی کی تبدیلی کے لیے سرگرمِ عمل سندھ سرکار کے گودام سے

ستر ہزار بوری چوری ہو چکی ہے جبکہ بیشتر بوریوں میں سے گندم کے بجائے ریت اور پتھر برآمد ہو رہے ہیں۔ عین ممکن ہے یہ وہی پتھر ہوں جو ہر الیکشن میں عوام کی عقل پہ پڑ جایا کرتے ہیں۔ جس شدت اور جذبے کے ساتھ سندھ سرکار آئی جی تبدیلی کے لیے واویلا کر رہی ہے اور کیسی کیسی توجیہات اور کیسے کیسے جواز گھڑے جا رہے ہیں‘ یہ سب کچھ دیکھ کر بعید نہیں کہ سندھ سرکار کا کوئی ترجمان یا وزیر یہ پریس کانفرنس بھی کر ڈالے کہ اگر وفاقی حکومت ان کی فرمائش کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر آئی جی کا تبادلہ کر دیتی تو شاید سرکاری گودام سے گندم کی 70 ہزار بوریاں غائب نہ ہوتیں اور آٹے کے بحران سے بھی بچا جا سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سندھ سرکار گورننس اور میرٹ کے نئے ریکارڈ قائم کرکے اُن تمام خوابوں کی تعبیر بن چکی ہے جو عوام کو تواتر سے دکھائے جا رہے ہیں اور بس آئی جی سندھ کی تبدیلی ہی واحد مسئلہ باقی بچا ہے۔ جس دِن یہ مسئلہ حل ہو جائے گا سندھ کے عوام کے باقی تمام مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ سندھ بھر میں کسی انتظامی افسر کی کیا حیثیت کہ وہ آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کی منشا کے بغیر کوئی فیصلہ یا کام کر سکے‘ خصوصاً جب معاملہ براہِ راست زرداری خاندان اور ان کے سہولت کاروں کے مفادات کا ہو تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا افسر انکار کی جرأت کر سکے۔

آئی جی کے تبادلے کا ڈرامہ کوئی اَچنبھے کی بات نہیں۔ یہی ڈرامہ پہلے بھی خوب چل چکا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت وزیراعظم نواز شریف تھے اور آج وزیراعظم عمران خان ہیں۔ سندھ میں حکومت اس وقت بھی پیپلز پارٹی کی تھی اور آج بھی اقتدار پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ اس دور میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ تھے‘ جنہوں نے آصف علی زرداری، ان کے معتمدِ خاص انور مجید کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پر بھی دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ وہ ان کے ذاتی مفادات اور منشا کے مطابق کام نہیں کریں گے۔ جہاں بھی دھونس، بدمعاشی اور لاقانونیت ہو گی وہاں قانون ضرور حرکت میں آئے گا۔ سندھ میں قانون کی حرکت کے وہ مناظر چشم فلک نے دیکھے کہ پوری سندھ حکومت بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئی۔ اے ڈی خواجہ کے تبادلے کے لیے کہاں کہاں دہائی نہیں دی گئی۔ کیسا کیسا احتجاج نہیں کیا گیا۔ انہیں صوبہ بدر کرنے کے لیے کون کون سا جتن نہیں کیا گیا؟ حتیٰ کہ قانون اور انصاف کے اس علمبردار کے خلاف پوری سندھ اسمبلی بھی آصف علی زرداری کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اکٹھی ہو گئی لیکن زرداری اینڈ کمپنی کا یہ مطالبہ اور یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ آج بھی عین وہی ڈرامہ جاری ہے اور اے ڈی خواجہ کی جگہ اب کلیم امام سندھ کے آئی جی ہیں۔ ماضی کے انکار کا کریڈٹ اے ڈی خواجہ کو اور آج کے انکار کا کریڈٹ بلاشبہ کلیم امام کو جاتا ہے۔ انتخابات سے قبل تحریک انصاف کے بارے میں عام تاثر یہی تھا

کہ عمران خان کے پاس ماہرین کی ایک ٹیم موجود ہے جو برسرِ اقتدار آتے ہی نہ صرف ملک و قوم کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی بلکہ ان تمام مسائل اور چیلنجز سے بھی بخوبی نبرد آزما ہو سکے گی‘ جو عوام کے لیے جونک بن چکے ہیں۔ خصوصاً معیشت کی بحالی اور استحکام کے حوالے سے بھی عوام امیدوں کے جو چراغ جلائے بیٹھے تھے وہ ایک ایک کرکے بجھتے چلے جارہے ہیں اور اب یہ عالم ہے کہ نااُمیدی، مایوسی اور غیر یقینی صورتحال عوام کو ہلکان اور بے حال کیے ہوئے ہے۔ صفر تیاری کے ساتھ برسرِ اقتدار آنے والی تحریک انصاف نے چند ماہ میں ہی یہ ثابت کر دیا کہ دھرنے اور انتخابی مہم میں دئیے جانے والے لمبے لمبے بھاشن اور بلند بانگ دعووںکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ سب جھانسے اور دلاسے ہی تھے اور اب تو انہیں ڈیڑھ سال پورا ہونے کو آیا ہے لیکن بدحالی اور بدانتظامی کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔ملک کی معاشی صورتحال اور روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدحالی پر انصاف سرکار کو اب یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ان کے تمام مشاہدے، اندازے اور دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ وہ جن امور پرکمال مہارت اور قابلیت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے اقتدار میں آنے کے بعد آج وہی ان کے گلے کا طوق بن گئے ہیں اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ بدحالی کے نتیجے میں نکلنے والی عوام کی چیخوں کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر سابقہ حکومتوں کے آپشنز ہی اختیار کرنا تھے تو تم کس مرض کی دوا ہو؟

تمہارے وہ معاشی ٹوٹکے اور انقلابی دعوے کہاں کھو گئے؟ تم نے دودھ اور شہد کی جو نہریں بہانا تھیں وہ کہاں رہ گئیں؟ دھرنوں اور انتخابی مہم میں جس معاشی آسودگی اور اقتصادی اصلاحات کا ڈنکا بجایا گیا تھا وہ کیوں پورا نہ ہوسکا؟ جس مقصد کے لیے عوام نے تمہیں ”مینڈیٹ‘‘ دیا تھا‘ اس کا حصول کیوں نہ ہو سکا؟ اب وقت آن پہنچا ہے کہ سچ کو جانے، مانے اور تسلیم کیے بغیر گزارہ نہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مطلوبہ بنیادی علوم سے نابلد انصاف سرکار کے سقراط اور بقراط عوام کو بھول بھلیوں میں گمارہے ہیں۔ خدا جانے وزیراعظم عمران خان نے فلاحی ریاست کے کس تصور کو سامنے رکھتے ہوئے گورننس اور فیصلہ سازی کی باگ ڈور اپنے مصاحبین اور ذاتی رفقا کو سونپی‘ یوں لگتا ہے کہ وہ فلاحی ریاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے یا پھر اپنے مصاحبین اور رفقا کے بارے میں لاعلم ہیں۔ یہاں تو مصاحبین سے لے کے ذاتی رفقا تک سبھی سرکاری وسائل پر پل رہے ہیں۔ انصاف سرکار کا یہ طرز حکمرانی فلاحی ریاست کا کون سا ماڈل ہے جس کی آڑ میں وہ گورننس سے لے کر مساوات تک سماجی انصاف کی دھجیاں اڑائے چلے جا رہے ہیں۔ وزارتوں سے لے کر اہم ترین قومی اداروں تک میں بندر بانٹ اور لوٹ کھسوٹ فلاحی ریاست کا کون سا ماڈل اور کون سے تصور کا استعارہ ہے۔پنجاب اسمبلی میں انصاف سرکار کے 20 ارکان نے ایک علیحدہ گروپ بنا لیا ہے۔ غلام حیدر وائیں کو وزیراعلیٰ بنائے رکھنے کی ضد کے نتیجے میں نواز شریف کو تخت پنجاب سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ آج انصاف سرکار بھی اسی ضد پر اسی شدت سے عمل پیرا ہے‘ دیکھتے ہیں یہ فارورڈ بلاک کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالتا ہے۔ اس تھیوری پر اگلے کالم میں تفصیل سے بات کریں گے۔