نوائے وقت عمران خان کے بہت خلاف ہے، آپ کسی روز عمران خان کو پکڑ کر مجید نظامی صاحب کے پاس لے جائیں۔۔۔۔ایک روز حفیظ اللہ نیازی نے یہ بات توفیق بٹ کو کہی تو کپتان نے کیا زبردست جواب دیا تھا ؟ آپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) یہ 2012کا واقعہ ہے، میں نے اُس وقت کے ایک اچھے انسان عمران خان کے اعزاز میں اپنے گھرپر ایک عشائیے کا اہتمام کیا، اس عشائیے میں ملک کے ممتاز دانشور، ادیب، صحافی اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک ہوئیں، صحافیوں میں جناب مجیب الرحمان شامی، جناب الطاف حسن قریشی،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جناب عارف نظامی اور جناب حفیظ اللہ نیازی بھی شامل تھے، حفیظ اللہ نیازی اُن دنوں اپنے برادر نسبتی عمران خان کے اتنے قریب تھے ایک عمومی تاثر مختلف حلقوں میں اُس وقت یہ پایا جاتا تھا تحریک انصاف کو وہی چلا رہے ہیں، باقی معاملات میں اُن کی جدوجہد کا مجھے علم نہیں مگر دانشوروں اور صحافیوں کو عمران خان کے قریب لانے میں اُن کا کردار بڑا اہم تھا، عمران خان کی سیاست کے ابتدائی دِنوں میں میڈیا میں سیاسی حوالے سے اُن کی مقبولیت بڑھانے میں اُن کی خدمات انتہائی قابلِ قدر ہیں، کوئی کالم نویس عمران خان کے خلاف دوجملے لکھ دیتا اُن کا کرب دیکھنے والا ہوتا تھا، وہ بڑے محبت سے اُس قلم کار سے رابطہ کرتے اور عمران خان کے ساتھ اُس کی ملاقات کا اہتمام کرکے کوئی غلط فہمی ہوتی اُسے دُور کردیتے، کچھ ہی عرصے بعد وہ کالم نویس عمران خان کا گرویدہ ہوجاتا، مجھے یاد ہے ایک بار اُنہوں نے مجھ سے کہا ” نوائے وقت عمران خان کے بہت خلاف ہے، آپ کسی روز عمران خان کو پکڑ کر مجید نظامی صاحب کے پاس لے جائیں“…. میں نے اُن سے کہا ”بھائی جان یہ کام آپ خود کیوں نہیں کرلیتے؟“ اُنہوں نے جواب دیا ” میں نے دوتین بار کوشش کی ، خان نہیں مانا، پر مجھے یقین ہے وہ تمہاری بات نہیں ٹالے گا“ …. میں نے جب اِس ضمن میں خان صاحب سے بات کی وہ فرمانے لگے”بٹ صاحب آپ کے کہنے پر میں اُن کے پاس چلے بھی گیا تو

اُنہوں نے اپنی پالیسی نہیں بدلنی کیونکہ وہ شریف برادران کو ناراض نہیں کرسکتے“۔ ….نوائے وقت کے بارے میں اُن دنوں عمومی تاثر یہ تھا یہ اصل میں شریف برادران یا نون لیگ کا ترجمان اخبار ہے، گو کہ نظامی صاحب بڑی فنکاری سے اِس تاثر کو کمزور کرنے کی بڑی کوشش کرتے تھے مگر اِس میں اُنہیں ہمیشہ ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑتا، جناب مجید نظامی شریف برادران کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے، چنانچہ نوائے وقت میں شائع ہونے والی اکثرخبریں، کالمز اور اداریے عمران خان کے خلاف ہوتے تھے…. جناب ارشاد عارف اُن دنوں نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر تھے وہ گواہ ہیں اِک روز جناب مجید نظامی نے اپنے پی اے جاوید کے ذریعے مجھے بھی پیغام دیا ”آئندہ آپ عمران خان کے حق میں نہیں لکھیں گے“ ،….اِس پیغام کے جواب میں پی اے صاحب کی خدمت میں ، نظامی صاحب کے لیے جوکچھ میں نے عرض کیا وہ میں یہاں نہیں لکھ سکتا، بلکہ اُن کی مرحومیت کے بعد میں لکھ ہی نہیں سکتا کہ مرحومین کو ہمیشہ اچھے الفاظ سے ہی یاد کرنا چاہیے، بعد میں نظامی صاحب کے اِس حکم کو جہاں میں نے لکھا وہ بھی میں یہاں نہیں لکھ سکتا،اُن کا پیغام ملنے کے فوراً بعد میں سولہ صفحات پر مشتمل ایک خط لکھ کر اُن کے گھر چھوڑ آیا، یہ خط اصل میں نوائے وقت سے میرا استعفیٰ تھا، کچھ دیر بعد مجھے اُن کا فون آگیا، میرا دل بھرا ہوا تھا، میں نے اُن کی کال اٹینڈ نہیں کی ، اُس کے بعد اُنہوں نے برادرم فرخ سعید خواجہ کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے عرض کیا ”

یہ فیصلہ میں نے واپس لینے کے لیے نہیں کیا، بلکہ ازرہ مذاق میں نے اُن سے کہا ” میں کوئی الطاف حسین نہیں ہوں“…. ایم کیوایم کے الطاف حسین اُن دنوں اِس حوالے سے بھی بڑے بدنام تھے وہ ہرچوتھے روز کوئی فیصلہ کرتے اور پھر اُسی طرح واپس لے لیتے جس طرح آج کل ہمارے محترم وزیراعظم اپنے اکثر ارادے اور فیصلے واپس لے کرمسلسل ثابت کررہے ہیں دوسرے سیاستدانوں اور اُن میں فرق بس اُنیس بیس کا ہے، …. روزنامہ نوائے وقت جائن کرنے سے پہلے میں روزنامہ جناح میں لکھتا تھا، یہ بحریہ ٹاﺅن والے ملک ریاض کا اخبار تھا، اس اخبار کے ایڈیٹر اطہر مسعود تھے، وہ جنگ سے جناح میں آئے تھے، پھر پیپلزپارٹی کی حکومت آگئی اور جناح کا ایڈیٹر شاید زرداری صاحب کی سفارش پر خوشنود علی خان کو بنادیا گیا، اُس کے بعد میرے کالموں میں غیرضروری کانٹ چھانٹ شروع ہوگئی، خصوصاً زرداری کے خلاف لکھے جانے والے اکثر جملے کالم سے حذف کردیئے جاتے، مجھے اس کی بڑی اذیت ہوتی، ایڈیٹنگ ، ایڈیٹر کا حق ہوتا ہے، پر بڑی معذرت سے عرض کروں گا ہمارے کچھ ایڈیٹرز اتنے نکمے ہوتے ہیں کالم یا کوئی اور تحریر ایڈٹ کرتے ہوئے وہ کالم کا حلیہ اس قدر بگاڑ دیتے ہیں کالم اُن ہی کا لگنے لگتا ہے، ….2012ءسے روزنامہ نئی بات سے میرے جُڑے رہنے کی ایک وجہ یہ ہے یہاں میرے ایڈیٹر کو میرے کسی جملے پر اعتراض ہو وہ مجھ سے رابطے اور مشورے کے بعد ہی اُسے ایڈٹ کرتے ہیں، میں پورے اطمینان سے کہہ سکتا ہوں لکھنے کی

جتنی آزادی مجھے نئی بات میڈیا گروپ نے دی شاید ہی اِس سے پہلے کسی اور میڈیا گروپ نے دی ہوگی، بے پناہ عزت اِس کے علاوہ ہے جو اِس ادارے کے سربراہ چودھری عبدالرحمان، صرف مجھے نہیں، اپنے ادارے کے ہر کارکن کو دیتے ہیں، یہی وجہ ہے بے شمار حاسدین کا یہ خواب اُدھورا ہی رہ گیا جو نئی بات کے ابتدائی دنوں میں اُنہوں نے دیکھا تھا کہ یہ اخبار جلد بند ہو جائے گا، …. اِس سے پہلے میں روزنامہ جناح کی بات کررہا تھا، جناب خوشنود علی خان سے میرا براہ راست یا ذاتی تعلق نہیں تھا، میں نے اپنے کالموں میں غیرضروری ایڈیٹنگ یا مداخلت کی شکایت اخبار کے مالک ملک ریاض حسین سے کی ، انہوں نے فرمایا ” میں خوشنود صاحب سے بات کروں گا“ …. کچھ دنوں بعد مجھے یقین ہوگیا زرداری اور ملک ریاض کی بے پناہ دوستی کے باعث میں اس اخبار میں اب زرداری کی کارستانیوں بارے کھل کر نہیں لکھ سکوں گا، بلکہ لکھ ہی نہیں سکوں گا، میں نے جناح کو خیرباد کہہ دیا، پھر کچھ عرصہ میں نے کچھ نہیں لکھا، خاموش ہوکر گھر بیٹھ گیا، اس دوران ایک دو اخباری مالکان نے مجھ سے رابطہ کیا پر دل آمادہ نہیں ہوا، اِک روز مجید نظامی صاحب نے مجھے بلایا اور کہا ” آپ نوائے وقت کے لیے لکھیں“ ….وہ صحافت کے جس مقام مرتبے پر فائز تھے ایک تو اس وجہ سے مجھ میں جرا¿ت نہیں تھی میں انکار کرتا، دوسرے وہ میرے کالموں کے پہلے مجموعے”حسب توفیق“ کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی نہ صرف شریک ہوئے تھے، بلکہ اِس موقع پر انہوں نے جن الفاظ سے مجھے اور میری تحریروں کو خراج تحسین پیش کیا مجھے اس کا بڑا لحاظ تھا،…. اُنہوں نے مجھ سے کہا ” ہم آپ کو آپ کے کالموں کا اتنا معاوضہ تو نہیں دے سکتے جتنا بحریہ ٹاﺅن والے آپ کو دیتے تھے پر کچھ عرصے بعد یہ کمی ہم دور کردیں گے“ …. میں نے عرض کیا ”ادارہ نوائے وقت کی ساکھ اور آپ کے حکم کے آگے معاوضے کی کمی کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں (ش س م)