بنتا سنگھ دودھ والے کے آنے پر بیگم کی شال چہرے تک لپیٹ کے دروازے پر گئے، ہاتھ بڑھا کر دودھ کا برتن دیا واپس مڑے تو دودھ والا بولا ڈارلنگ آج تو لفٹ ہی کوئی نہیں ۔۔۔۔ پھر اچانک کیا ہوا ؟ ایثار رانا کی ایک مزیدار اور معنی خیز سیاسی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) پیارے وزیراعظم فیر اسی ناں ای سمجھئے، جیون جوگیا اب سکون کیلئے ہمیں قبرکا انتظار کرنا پڑے گا۔ گود سے گور تک کے سفر میں بہت تکلیفیں سہتے ہیں ہم پاکستانی، یہ تو بتا دیتے کہ ہمیں اور ہماری حسرتوں کو کفن کی سہولت بھی میسر ہوگی یا نہیں،

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جو بے سرو سامانی ہے۔ یہ بے برکتی ہے جو بھوک ہے کیا کریں؟ اگر اجازت دیں تو تھوڑا سا چنامنا سا گھبرالیں، لیکن سوال یہ ہے کہ؟اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے۔۔مرکے بھی چین نہ پایا تو کہاں جائینگے۔۔میرے ہیرو کپتان، قبر میں سکون اتنا آسان تھوڑا ہے۔ انسان زندگی میں ہی اپنے سکون یا بے سکونی کا سامان اکٹھا کرلیتا ہے گویہ دنیا کھیڈ تماشا ہے لیکن یہ تماشہ اتنا آسان بھی نہیں، اچیاں شاناں تے پھٹے دھیاناں والے میرے وزیراعظم،زندگی عام آدمی کیلئے جتنا بڑا امتحان ہے اس سے کہیں بڑا حکمران کیلئے جنجال ہے، ایسا نہ ہوتا تو دنیا کا سب سے کامیاب حکمران حضرت عمرؓ سوتے سوتے اٹھ کر بیٹھ نہ جاتے بطور حکمران اپنی پکڑ کے خوف سے روتے نا۔ بہرحال بھائی جی ڈاڈھے کے ستے ویاں دا سو ہوتا ہے تسی کرو موجاں، کھاؤ آلو گوشت اورہمیں قبر کے سکون کی تسلی پہ رکھو۔ سنتا سنگھ مزے لے لے کر رس گلے کھا رہا تھا۔ اس کی بیوی بولی ہمیں بھی چکھائیں کیسا مزا ہے۔ سنتا نے ایک رس گلا دے دیا۔ وہ بولی بس ایک، سنتا سنگھ بولا باقی رس گلیاں دا وی ایہو سواداے۔ یار تھوڑا سا سنتا بن جاؤ کم ازکم اس زندگی میں ہمیں اس بھوکی ندیدی غربت کی ماری عوام کو ایک رس گلا ہی چکھا دو۔ یقین کرو فاقوں نے حلق زہر آلود کردیا ہے۔ ہمیں بھی آزادی کا آسودگی کا تھوڑا سا سواد چکھا دو،

ہمارا کام ہے آپ کے عدل کا ٹل کھڑکانا۔ اگوں جیسے تہاڈی مرضی۔شکرہے ہمارے پیار میاں شہباز نے ایک بار پھر مدھر گیت سنا دیا۔ راگ در ”جے جے گھنٹی“ میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں عمران خان سے زیادہ جھوٹا اور یوٹرن لینے والا نہیں دیکھا۔ میاں جی بس کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں ورنہ تازہ ترین آرمی ایکٹ کی ترمیم میں جیسا یوٹرن انہوں نے لیا اس پہ ن لیگ کے سیمی کامریڈ جس طرح گھمن گھیریاں کھا رہے ہیں، وہ خاصہ عبرت ناک ہے۔ میں واری جاواں ان کی مصومیت پر روز آئینہ دیکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ عمران سے زیادہ جھوٹا نہیں دیکھا۔ ہمیں تو ان کی ”ورنہ میرا نام بدل دینا“ والی تقریروں کا والیم نیں بھولتا۔ سردی اپنے عروج پر تھی سردار بنتا سنگھ دودھ والے کے آنے پر بیگم کی شال چہرے تک لپیٹ کے دروازے پر گئے، ہاتھ بڑھا کر دودھ کا برتن دیا واپس مڑے تو دودھ والا بولا ڈارلنگ آج لفٹ نہیں کرا رہیں۔ بنتا سنگھ بستر پر لیٹ کر ہنسنے لگے بیگم نے پوچھا تو بولے لگتا ہے دودھ والے کی بیگم کی شال بھی تمہاری شال جیسی ہے۔ قسمے میاں جی آپ کے وعدوں والی شال کسی طرح بھی ہمارے خانصاحب سے مختلف نہیں، وہ بھی لفٹ نہیں کراتے اور کراتے آپ بھی نہیں تھے۔ شاید بہتر سالوں سے ہمارے نصیب کے متھے پہ ‘پپو یار تنگ نہ کر’ کا نوٹس لگ گیا ہے۔ آرمی ایکٹ پر جس طرح آپ کو ”کھچ تھرو“ کے ایک پیچ پر لایاگیا وہ نظریاتی سیاسی تدبر کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ اگر اب مریم بی بی اور نوازشریف کمپنی کھوتی سے ڈگ کے غصہ خواجہ آصف پر اتار رہے ہیں تو کھسیانی بلی خواجہ کاہی کھمبا نوچ سکتی ہے۔

غریب کی جوروسب کی بھابھی ہوتی ہے۔ غریب خواجہ آصف آپ کے وس پڑ گیا ہے جو مرضی سلوک کریں۔لو جی تیار ہو جائیں، پنجاب کابینہ کے تمام مسافر اپنے سامان کی خود حفاظت کریں، سنا ہے ایک بار پھر کارکردگی کی بنیاد پراکھاڑ پچھاڑ اور ڈانٹ پھٹکار کا اییی سوڈ شروع ہونے جارہا ہے۔ باتیں ہونگی سادہ مزاج عثمان بزدار کے خلاف ہے لیکن اگر انہیں ٹیم نکمی دیں گے، ان کے اختیارات پر خود گاٹی پھینک کے کھچ ماریں گے تو وہ بے چارہ سادہ آدمی کیا کرے گا۔ ایک بار وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو پورے وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے کا موقع تو دیں، اپنی ٹیم ان کی مرضی سے بنانے تو دیں پھر حساب بھی کر لیں، ورنہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ”دتا کی سی جیدا حساب منگدے او“ بھائی بدبو دار جراب ایک پاؤں سے اتار کر دوسرے میں پہنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ نئی جرابیں لائیں پاؤں دھلوائیں پھر ریساں لگوائیں۔ سردار سنتا سنگھ سے کسی نے پوچھا محبت ایک طرفہ ہونی چاہئے یا دو طرفہ وہ بولے یکطرفہ، کیونکہ دو طرفہ ہونے سے شادی ہون دا خطرہ ہوندا اے، نہ بچیں شادی دے خطرے توں دو طرفہ محبت کر کے تو دیکھیں۔بھیا پاکستان کیا اور امریکہ کیا، سب جگہ ایک ہی ٹوپی ڈرامہ ہے، کانگریس ٹل کا زور لگا لے ہو گا وہی جو ٹرمپ چاہے گا۔ پنچوں کا کہا سر آنکھوں پہ پر پرنالہ وہیں بہے گا۔امریکی کانگریس کبھی بھی ٹرمپ سے جنگ کا اختیار سلب نہیں کر سکتی۔ وہ جنگ نہیں کر سکتا تو صدر ہی کیوں بنا۔ آپ ڈونلڈ کی ٹرمپیاں نہیں روک سکتے، دنیا نائن الیون کے بعد جتنی غیر محفوظ ہوئی پہلے کبھی نہ تھی۔ آج ہرجگہ مسلمانوں کے خون سے کھیلا جا رہا ہے۔لیبیا مصر عراق شام یمن افغانستان عراق کشمیر فلسطین سب جگہ مسلمان مررہا ہے، کروسیڈ بتائے بغیر تہذیبوں کا تصادم شروع کرا چکی۔ مزید خون بہے گا۔ ایران سے پنگا ختم نہیں ہو گا۔کیونکہ مسلمانوں کو مارنے اور ان سے ہی خون بہالینے کا جواز برقرار رہبا چاہئیے، پاکستان اگر پرویز مشرف کی طرح یس سر نہ بنا تو یہ آگ ہمارے صحن میں آنے کے لئے تیار ہے۔ یہ بلوچستان میں دھماکے ہمارے لئے چتاؤنی ہیں، امتحان تو قیادت کا اب شروع ہوا ہے کہ ہم کیسے اپنی عزت اور وقار بحال رکھتے ہوئے انکار کریں گے۔ کوئٹہ دھماکہ ہمیں ایک چیلنج ہے۔ ہمیں میتیں اٹھانی آتی ہیں۔ سڑکوں پر مساجد بازاروں میں کئی پٹی لاشے اٹھانے آتے ہیں، اب غیرت سے سر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ قوموں کی بقا کے لئے لاشوں سے کہیں زیادہ غیرت سے سر اٹھا کر جینے کی ضرورت ہوتی ہے۔(ش س م)