نامور صحافی کی تجاویز پر مبنی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دھوپ میں جلنے والو آئو بیٹھ کے سوچیں اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا قارئین کرام!میرا دکھ شدت اختیار کرتے ہوئے میرے حواس پر چھا گیا ہے۔ ہائے ہائے میرا دشمن یعنی مسلم امہ کا عدو کیسے ہمیں ایک ایک کر کے مار رہا ہے۔

نامور کالم نگار سعد اللہ شاہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔ ہم کس دھوکے میں اس کے کلہاڑے میں لکڑی کے دستے کا رول ادا کر رہے ہیں۔ اسے خود راتب مہیا کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پہلی مرتبہ اداسی اور غم نے مجھ پر یلغار کی ہے۔ قاسم سلیمانی کوئی میرا رشتہ دار نہیں تھا پھر یہ کیا ہوا کہ اس کی شہادت کا واقعہ میرے دل پر گھائو سا لگا گیا اور روح تک کو زخمی کر گیا۔ بغداد میں امریکی ڈرون نے انہیں ٹارگٹ کیا اور پھر اس بزدلانہ کارنامے کی خوشی میں ٹرمپ نے ٹیوٹر پر امریکی جھنڈا لگایا۔ کسی نے اس حوالے سے درست لکھا کہ ’’دور باطل میں حق پرستوں کی۔ بات رہتی ہے سر نہیں رہتا‘‘ کشادہ پیشانی والا خوبرو جنرل قاسم سلیمانی یقینا امریکہ کو کھٹکتا تھا۔ ہر وہ شخص امریکہ کا مسئلہ ہے جو اس کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا۔ مجھے اپنا ہی ایک قطعہ یاد آ گیا: اے مرے دوست ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ یہ مسئلہ صرف ایران کا نہیں ہے‘ امت مسلمہ کا ہے ۔ ایران تو ویسے بھی امریکہ کو کھٹکتا ہے کہ وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ وہ غلامی اور کاسہ لیسی کے لئے تیار نہیں۔ وہ اپنے ملک کو آئی ایم ایف جیسے اداروں میں گروی نہیں رکھتے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ ایرانی غیرت مند قوم ہیں۔

امریکہ نے جو عالمی دہشت گردی کی ہے کہ سارے عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے غنڈہ گردی بدترین مثال پیش کی ہے۔ وہ ایرانی قوم کیسے ہضم کر لے گی کہ وہ تو پہلے ہی امریکہ کو شیطان بزرگ کہتی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ نے ایک عرصہ سے ایران کو ڈرانے کے لئے رکھا ہوا تھا۔ یہ جو عالمی سطح پر ایک اسلامی بلاک بننے جا رہا تھا جسمیں ملیشیا‘ ایران‘ ترکی اور قطر اکٹھے ہوئے تھے، جہاں عمران خاں نے شرکت سے انکار کیا امریکہ کی نظر میں تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ سعودیہ کی نظر میں تھا کہ چودھراہٹ کا مسئلہ درپیش تھا۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ مسلمانوں میں ایسے رہنما پیدا ہوں جو سر اٹھائیں اور اپنی قوم کو بیدار کریں۔ جو آزاد معیشت ‘ آزاد ثقافت اور آزاد اقتصادیات کا سوچیں۔ وہ سب کو دست نگر رکھنا چاہتا ہے۔ پورا منظر نامہ ہمارے سامنے ہے جن کو مسلمانوں کی رہنمائی اور مدد کرنا چاہیے تھی وہ مسلمانوں سے کس قدر بے نیاز ہیں۔ کشمیر کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ آواز تو مہاتیر اور اردوان نے بلند کی۔ جنہوں نے مودی کو انعامات اور اعزازات سے نوازا وہ بھی سب کو معلوم ہے۔ کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد مگر لاچار اور بے بس جن کے حکمران استعماری قوتوں کے غلام ہو چکے ہیں۔ اقبال نے یونہی نہیں کہا تھا: میر سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف آہ وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف اب تو ان کا ہدف بھی اپنے ہی کلمہ گو لوگوں کی طرف ہے۔

وہی پرانا انداز دشمن کا کہ لڑائو اور حکومت کرو۔ حکومت بھی وہ دور بیٹھ کر ریموٹ کے ذریعہ کر رہے ہیں۔ اب دیکھیے امریکہ کا انداز کہ ایران پر کاری ضرب لگائی اور پاکستان کے ہاتھ میں گاجر پکڑا دی یعنی فوجی تعاون کی اجازت۔ اب تک تو اس نے ہمارے اوپر سٹک اٹھا رکھی تھی۔ کسی کے اوپر ہاتھ پھیرو اور کسی کے ہاتھ کاٹو‘ ہم خود فریبی کا شکار۔ امریکہ کی دشمنی تو پھر بھی بہتر رہ جاتی ہے مگر جس سے وہ پیار کرتا ہے اسے تو مار ہی دیتا ہے۔ ویسے جو بھی امریکہ پر اعتماد کرتا ہے اپنے آپ پر ظلم ہی کرتا ہے۔ کوئی خوش نہ ہو’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘۔ آپ جتنی مرضی آنکھیں بند کر لیں۔ جنگ آپ کی طرف آ رہی ہے۔ ان کی پہلی کوشش یہی ہے کہ آپ آپس میں لڑ لڑ کر مر جائیں۔ ایک چونچ اور ایک کی دم نہ رہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ پوری مسلمہ امہ امریکہ کا کھیل سمجھتی ہے اور ہر کوئی نفرت سے اور غصے سے بھرا بیٹھا ہے مگر وہ ہمارے حکمران مفادات اور مصلحتوں کے مارے ہوئے، سب کچھ جانتے ہوئے تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں پر خود غرضی کے دبیز پردے ہیں۔ جینا اور مرنا بھی تو ہر کسی کو نہیں آتا۔ کوئی سلطان ٹیپو کی طرح جیتا ہے کہ جہاں شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر قرار پاتی ہے اور جب وہ مرتا ہے تو مکار دشمن اس کی لاش کے قریب آنے سے ڈرتا ہے۔ مسلمان کی تو تعریف ہی یہ ہے کہ وہ ڈرتا نہیں‘ جھکتا نہیں’’کربلا بھی کرتے ہو اور ڈرتے ہو تیر کھانے سے‘‘اکٹھے ہو جائیں تو کبوتر بھی جال کو اٹھا لے جاتے ہیں۔

وہی جو کسی درویش نے کہا تھا کہ موت سے ڈرتے ہو تو موت کے قریب ہو جائو۔ مسلمان تو ویسے بھی مرتا نہیں‘ شہید ہوتا ہے اسے اس کا رزق پہنچتا ہے۔ ہمارے کرنے کی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم نفرتیں بھلا کر ایک دوسرے کے قریب آئیں اور ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں۔ ان نادان اور جاہل رہنمائوں کو پہچانیں جنہوں نے اپنے اردگرد نفرتوں کے جنگل اگا رکھے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم اسی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں جسے غزوہ ہند کے نام سے اکثر ذکر کرنے والے کرتے ہیں۔ جو کچھ بھی ہو اللہ کے دین کو غالب آنا ہے۔ ایران کا رویہ بالکل درست ہے اور ہمیں ان کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہیے۔ عدیم ہاشمی کا شعر یاد آ گیا: مصالحت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے اللہ کی نشانیاں آپ کے سامنے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور سارے حواریوں کو اپنے ساتھ ملا کر بھی بے وسیلہ افغانیوں کو نیچا نہ دکھا سکی اور مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ مسلمان مومن کی فراست سے کیوں نہیں سوچتا کہ اسے دیکھنے کو اللہ کے نور کی روشنی دستیاب ہے۔ دشمن کی چیرہ دستیوں اور سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے زیادہ بدبخت کون ہو سکتا ہے کہ جو اپنے دشمن کو دوست سمجھے اور اس سے بھلائی کی توقع کرے: دشمن آخر دشمن اے رکھ تیر کمان دے وچ وگرنہ ’’سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا‘‘