تف ہے اس گلے سڑے اور بدبو دار نظام پر ۔۔۔۔۔ تبدیلی کا حمایتی ایک اور نامور صحافی عمران خان کی نئے پاکستان سے مایوس ۔۔۔۔۔ مگر کیوں ؟ تفصیلات جان کر آپ بھی انکی تائید کریں گے

لاہور (ویب ڈیسک) کرۂ اَرض پر شاید ہی ایسا سیاہ بخت خطہ ہو۔ آئین سے قوانین تک‘ سماجیات سے معاشیات تک‘ اخلاقی قدروں سے لے کر مذہب اور عقائد تک سبھی کو بگاڑنے اور حشر نشر کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ کسی اعلیٰ حکومتی عہدے دار سے لے کر پٹواری تک کسی پر کوئی الزام لگا دیجئے

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کلک کرکے فٹ بیٹھ جائے گا۔ ایسا اندھیر کہ بند آنکھ سے بھی سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسا مائی کا لعل نہیں ملتا جس کے بارے میں گواہی دی جا سکے کہ اس نے حقِ حکمرانی ادا کر دیا۔ دوہرے معیار اور من پسند قوانین سے لے کر لوٹ مار اور نفسانفسی کے گھمسان تک‘ نہ تو کسی نے منصب کا پاس رکھا اور نہ ہی کسی نے عوامی مینڈیٹ کی لاج رکھی۔ تف ہے ایسے گلے سڑے اور بدبودار نظام پر‘ ایسی گورننس پر‘ ایسے طرزِ حکمرانی پر‘ ایسے سیاسی بیانات پر‘ ایسے جلسوں اور جلوسوں پر۔ انتہائی دلخراش اور نیم پاگل سا کر دینے والا واقعہ بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں پیش آیا۔ 6 سالہ حسنین کو آوارہ کتوں نے ایسا بھنبھوڑا کہ اس معصوم کا چہرہ بری طرح مسخ ہو گیا۔ لہولہان کمسن بچہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ لاڑکانہ میں ایک ماہ کے دوران یہ دوسرا انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے۔ چند روز قبل ہی ایک اور کمسن بچہ کتا کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے پر اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر اللہ کو پیارا ہو چکا ہے۔ اِس دلخراش واقعہ کے بعد بھی آوارہ کتوں کے خلاف کوئی آپریشن اس لیے نہیں کیا گیا کہ سندھ کی ایک اہم شخصیت نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اس نے آوارہ کتوں کے خلاف مہم اس لیے بند کروائی تھی کہ

اسے شاید لاڑکانہ کے آوارہ کتوں سے ہمدردی ہے لیکن عوام سے نہیں۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں آوارہ کتوں کا راج جاری ہے۔ لاڑکانہ میں آوارہ کتوں کا دوسرا شکار بننے والے اس کمسن بچے کی ویڈیو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس دلخراش واقعہ پر نثار ناسک کا یہ شعر بے اختیار یاد آرہا ہے: ؎ قتلِ طفلاں کی منادی ہو چکی ہے شہر میں ۔۔ ماں مجھے بھی مثلِ موسیٰ تو بہا دے نہر میں ۔۔ عوام کے درد میں مری جانے والی سندھ سرکار کی بے حسی کے بارے میں ہونے والا یہ انکشاف انتہائی تشویشناک ہے کہ رواں سال قومی ادارہ صحت نے ڈیڑھ لاکھ ویکسینیں تیار کیں جبکہ سندھ حکومت نے صرف اڑھائی ہزار ویکسینوں کی خریداری کی۔ اس ویکسین کی قیمت صرف 618 روپے ہے‘ یعنی پورے سندھ میں آوارہ کتوں کے گھاؤ سے بچاؤ کے لیے حکومت سندھ نے 1,545,000 روپے خرچ کیے۔ عوام کے حوالے سے سندھ سرکار کی سنجیدگی کا اندازہ طرزِ حکمرانی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اپنے والد کی بیماری پر صبح شام سٹیج سجا کر واویلا کرنے والے بلاول بھٹو زرداری کے کان پر تو جوں تک نہ رینگی؛ البتہ انتہائی بھونڈے انداز میں سندھ حکومت کے ترجمان اس شرمناک واقعہ پر متضاد بیانات جاری کر رہے ہیں۔ لاڑکانہ کے چانڈکا ٹیچنگ ہسپتال میں جب ڈاکٹروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تو انہوں نے اپنے سر سے بلا اتارنے کے لیے بچے کی نازک ترین صورتحال کے باوجود اسے 8 گھنٹوں کی مسافت پر واقعہ کراچی روانہ کر دیا۔

کراچی پہنچ کر بھی اس کے لئے ذلت اور اذیت ختم نہ ہوئی۔ وہ اور اس کے گھر والے رات بھر کئی ہسپتالوں کے دھکے کھاتے رہے۔ بالآخر ایک ہسپتال نے اسے علاج کے لیے داخل کر لیا لیکن یہاں بھی ‘بھٹو زندہ ہے‘ کا ایک اور نمونہ سامنے آن کھڑا ہوا۔ اس معصوم بچے کے پریشان حال اہل خانہ سے ڈاکٹروں نے 10 بوتل خون طلب کر لیا ہے۔ وہ بے چارے تو خود پردیس میں پڑے ہوئے ہیں۔ خون کا بندوبست کہاں سے اور کیسے کر سکتے ہیں؟ گویا چھ سالہ حسنین کے چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں سے بہنے والے خون سے اس گورننس کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ خیر سفاکی کے یہ سارے سلسلے زور و شور سے جاری ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ آئندہ کسی کتے نے شہری کو کاٹا تو ذمہ دار ڈپٹی کمشنر ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ آصفہ بھٹو کی اس برہمی کو… مبینہ طور پر جن کی وجہ سے ان آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی روک دی گئی تھی۔ ان کی برہمی کو اور ناراضی کو کون جھیل سکتا ہے؟ ڈپٹی کمشنر تو درکنار یہاں کسی وزیر تک کی مجال نہیں کہ حکمرانوں کی حکم عدولی کر سکے۔ سندھ کے عوام نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ تھرپارکر میں قحط سالی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں جانوروں اور انسانوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ پانی اور خوراک کے لیے دونوں ہی تڑپتے ہیں اور تڑپتے تڑپتے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

اسی طرح حال ہی میں شہر قائد میں رونما ہونے والا ایک اور انسانیت سوز واقعہ بھی یاد دلاتا چلوں جو آج بھی سندھ سرکار کی گورننس کے ماتھے پر ایک اور بدنما داغ ہے۔ ایک پندرہ سالہ لڑکے کو چوری کے الزام میں پکڑ کر اس پر ہنٹر‘ آہنی سلاخوں اور ڈنڈوں سے اس قدر بے رحمانہ تشدد کیا گیا کہ وہ بے چارہ جان سے گیا۔ بربریت اور سفاکی کا مظاہرہ کرنے والوں نے اس تشدد کی لمحہ بہ لمحہ ویڈیو اس طرح بنائی گویا بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے رہے ہوں۔ اس پندرہ سالہ لڑکے کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر دو گھنٹے طاقت اور مردانگی کے نام پر جو ظلم ڈھایا گیا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ اُس پر عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بنگلے میں چوری کی نیت سے آیا تھا‘ ہم نے پکڑ لیا اور خود ہی سزا دے ڈالی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مُراد علی شاہ نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگل نہیں ہے قصوروار کو سزا ضرور ملے گی۔ سزا تو کب کی مل چکی بہیمانہ تشدد کا شکار ہونے والے اس بچے کو، اس کے ماں باپ کو۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے آصف علی زرداری نے جانے مانے پولیس اَفسر راؤ انوار کی سفاکی اور دہشت کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ”راؤ انوار بہادر بچہ ہے‘‘۔ جس معاشرے میں راؤ انوار جیسے ”پُلسیے‘‘ کو بہادر بچہ ثابت کرنے کے لیے آصف علی زرداری جیسے حکمران من گھڑت اور بے تُکے جواز گھڑیں وہاں عوام کی طرف سے سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کوئی اَچنبھے کی بات نہیں۔

جس طرح نسبتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں‘ اسی طرح فیصلے اور نتائج حکمرانوں کی نیتوں اور ارادوں کا پتہ دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز کے سبھی حکمرانوں نے آئین سے قوانین تک‘ نیت سے معیشت تک‘ بدانتظامی سے بدعنوانی تک‘ بدعہدی سے خود غرضی تک‘ وسائل کی بربادی سے ذخائر کی بندر بانٹ تک کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ذاتی خواہشات اور مفادات پر مبنی پالیسیوں‘ غیر منصفانہ اور غیر منطقی فیصلوں کے ”اثراتِ بد‘‘ ملک کے طول و عرض میں جابجا، ہر سو بکھرے نظر آتے ہیں۔ ماضی کے حکمران تو کل کا بویا آج کاٹ ہی رہے ہیں‘ لیکن اِن کے ”اعمالِ بد‘‘ کا شکار عوام بھی اِن کی نیتوں اور طرز حکمرانی کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح موجودہ حکمران آج جو کچھ بو رہے ہیں اس کی کھیتی کل ضرور کاٹیں گے۔ یہی مکافات عمل اور یہی قانون فطرت ہے۔ ماضی کے سبھی ادوار سے لے کر آج تک تمام حکمرانوں میں ایک قدر ہمیشہ ہی مشترک رہی ہے‘ ووٹ دینے والوں کو ان کی اوقات یاد دلاتے رہنا‘ انہیں ان کی غلطی کی سزا روزانہ کی بنیاد پر دینا۔ حکمران ایک دوسرے کے حلیف ہوں یا بدترین حریف‘ جن عوام کے ووٹ کی بدولت اقتدار کے سنگھاسن پر آبیٹھے ہیں تو پھر انہی عوام پر عرصہ حیات تنگ کرتے چلے جاتے ہیں۔ انتخابی مہم میں جن عوام کے میلے کچیلے کپڑوں سے انہیں خوشبو آتی تھی‘ اقتدار میں آتے ہی انہی کپڑوں سے انہیں گھن آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ووٹ کے حصول کیلئے جن کے گھروں کے چکر لگاتے نہ تھکتے تھے الیکشن جیتتے ہی سب سے پہلے اپنے ڈیروں، دفاتر اور کوٹھی بنگلوں کے دروازے ان عوام پر بند کیے جاتے ہیں۔ جن کی غربت دور کرنے کے لمبے چوڑے بھاشن دیے جاتے تھے‘ انہی کی غربت میں اضافہ کرکے ذلت اور پچھتاوے کا بونس بھی دے دیا جاتا ہے۔ (ش س م)