2 بار بے نظیر بھٹو اور 3 بار نواز شریف اپنی مدت حکومت مکمل نہیں کر پائے ، مگر آصف زرداری سکون سے 5 سال پورے کر گئے ، اس حیران کن حقیقت کے پیچھے دراصل کیا کہانی چھپی ہے ؟ سیاست سے دلچسپ رکھنے والوں کے لیے جاوید چوہدری کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آپ اگر کسی دن تیسری دنیا کا مطالعہ کریں تو آپ کو ہم سمیت تھرڈ ورلڈ کے تمام ملکوں میں سیاسی ڈبلیو ڈبلیو ای نظر آئے گی‘آپ کو یہ نتیجہ اخذ کرتے دیر نہیں لگے گی ہمارے زیادہ تر پہلوان جعلی ہوتے ہیں‘ یہ باقاعدہ تخلیق کیے جاتے ہیں‘ ان کا پروفائل بنایا جاتا ہے‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان کو جعلی مقابلوں کے ذریعے اوپر لایا جاتا ہے اور پھر پورا اسٹیج‘ پورا کھیل ان کے حوالے کر دیا جاتا ہے‘ یہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر دوسرے پہلوانوں سے لڑتے‘ انھیں لہو لہان کرتے‘ انھیں اسٹیج پر پٹختے ہیں اور عوام تماشائیوں کی طرح تالیاں بجاتے رہتے ہیں‘ یہ جیے بھٹو‘ میاں دے نعرے وجن گے اور جب آئے گا عمران کے ترانے گاتے رہتے ہیں۔یہ کھیل روانی کے ساتھ چلتا رہتا ہے اور آرگنائزرز اور کمپنی کے سرمائے‘ مارکیٹ ویلیو اور پروفائل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن پھر اس کھیل میں ایک نیا موڑ آ جاتا ہے‘ یہ جعلی پہلوان جب عالمی لیڈروں سے ملتے ہیں‘ پوری دنیا کے لیڈر ان کی تعریف کرتے ہیں‘ یہ باہر نکلتے ہیں اور لاکھوں لوگ کھڑے ہو کر ان کے لیے تالیاں بجا دیتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں‘ یہ اپنے قلم یا اشارے سے جس کو چاہتے ہیں یہ اسے پوسٹ کر دیتے ہیں‘ جس کو چاہتے ہیں ہٹا دیتے ہیں‘ جس کو چاہتے ہیں ایکسٹینشن دے دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں اس کو اٹھا کر جیل میں پھینک دیتے ہیں۔پوری دنیا میں ان کے انٹرویوز ہوتے ہیں‘ ان کی فضول باتیں اور ادھار لفظ ’’کوٹیشن‘‘ بن کر سرکولیٹ ہونے لگتے ہیں تو ان کا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے‘ یہ خود کو اصلی لیڈر سمجھنے لگتے ہیں اور یہ آرگنائزرز کی فائلیں بھی روک کر بیٹھ جاتے ہیں‘ یہ اپنی اتھارٹی منوانے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور یہ ووٹ کو باعزت سمجھ کر اس کی عزت کا مطالبہ بھی شروع کر دیتے ہیں‘

کمپنی کو دھچکا لگتا ہے اور ڈبلیو ڈبلیو ای باغی پہلوان کو سمجھانے کی کوشش شروع کر دیتی ہے‘ یہ اسے بتاتی ہے جناب آپ اصلی پہلوان نہیں ہیں‘ آپ سپرمین بھی نہیں ہیں‘ یہ ہم ہیں جنھوں نے آپ کو بنایا چناں چہ آپ کے لیے بہتر ہو گا آپ سنبھل جائیں اور اسکرپٹ کے مطابق چلتے رہیں‘ خود بھی خوش رہیں اور ہمیں بھی خوش ہونے دیں۔پہلوان اگر مان جائے تو ٹھیک ورنہ پھر اس کا مقابلہ اصلی پہلوانوں کے ساتھ کرا دیا جاتا ہے اور اصلی پہلوان اس کے ’’کھنے‘‘ سیک کر رکھ دیتے ہیں‘ یہ اگر اس دوران سنبھل جائے تو اللہ اللہ خیر سلا اور یہ اگر پھر بھی باز نہ آئے تو پھر یہ اصلی پہلوانوں سے مار کھاتا کھاتا اسٹیج پر ’’فلیٹ‘‘ ہو جاتا ہے یا پھر چپ چاپ گم نامی کے اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے اور اس کی داستان تک نہیں رہتی داستانوں میں!آپ اگر سیاسی تاریخ کو بھی ڈبلیو ڈبلیو ای کی نظر سے پڑھیں گے تو آپ کو بھی حقائق اور تاریخ کے اتار چڑھائو جانتے دیر نہیں لگے گی‘ آپ بھی آسانی سے جان لیں گے محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کیوں ہر بار اپنی ’’مدت ملازمت‘‘ پوری نہیں کر پائے تھے‘ محترمہ بینظیر بھٹو دوبار اقتدار میں آئیں اور ان کے دونوں ادوار ادھورے رہ گئے‘کیوں؟ میاں نواز شریف تین بار وزیراعظم بنے اور تینوں ادوار کا اختتام افسوس ناک ہوا‘ کیوں؟آپ یہ جان لیں گے ملک کی تاریخ میں آصف علی زرداری کیوں واحد سویلین سیاست دان تھے جو آئے اور اپنی مدت پوری کر کے ایوان اقتدار سے نکل گئے!

کیوں کہ یہ خود کہتے ہیں میں نے 2008 کا الیکشن لڑنے سے پہلے فیصلہ کر لیا تھا میں تین اے کے ساتھ کسی صورت نہیں لڑوں گا چناں چہ یہ اللہ اور امریکا کے ساتھ ساتھ تیسرے اے کے ساتھ بھی نبھاتے چلے گئے جب کہ بینظیر بھٹو ہوں یا پھر میاں نواز شریف یہ خم ٹھونک کر تینوں اے کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے لہٰذا یہ افسوس ناک انجام کا شکار ہوتے چلے گئے۔آپ کو یاد ہو گا میں 2014میں بار بار عرض کرتا تھا عمران خان کے دھرنے سے میاں نواز شریف کی حکومت نہیں جائے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ مقصد حکومت بھجوانا نہیں ہے حکومت کو اس کی اوقات سمجھانا ہے چناں چہ حکومت بچ گئی‘ دھرنا فیل ہوگیا لیکن میاں نواز شریف وارننگ کو نہیں سمجھے اور پھر باقی کہانی آپ خود جانتے ہیں‘ مولانا کے دھرنے سے بھی اب یہی نکل رہا ہے‘ یہ دھرنا عمران خان کے نام پیغام ہے آپ پہلوان ہیں لیکن آپ اصلی پہلوان نہیں ہیں چناں چہ آپ بار بار یہ نہ کہیں ’’میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا‘ کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ آپ صرف اپنے رِِنگ میں رہیں۔آپ چین ہو‘ ایران ہو‘ سعودی عرب ہو‘ ترکی ہو‘ یو اے ای ہو یا پھر امریکا ہو آپ ملکوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی بنانا بند کر دیں‘ ریاستوں کے تعلقات ریاستوں سے ہوتے ہیں اور کسی ریاست کا سربراہ کسی دوسری ریاست کے شہزادے سے جہاز لے کر کسی تیسرے ملک کا دورہ نہیں کرتا‘ ملک ادھار پٹرول اور ادھار رقم بھی ملکوں کو دیتے ہیں‘ یہ ڈیل بادشاہوں اور وزراء اعظم میں نہیں ہوتی اور ’’کارکے‘‘ جیسے ایشو بھی ملکوں کے ملکوں کے ساتھ ہوتے ہیں‘ یہ دو وزیراعظم مل کر حل نہیں کرتے‘ دوسرا مولانا فضل الرحمن کے لیے پیغام ہے آپ اگر دو چار لاکھ لوگ نکال لیں تو اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں آپ حکومت بھی گرا لیں گے۔حکومتیں دھرنوں اور مارچز سے نہیں گرا کرتیں اور اپوزیشن کو بھی یہ میسج دے دیا گیا ملک میں صرف آپ ہی آپشن نہیں ہیں‘ ریاست اگر سڑکیں کھول دے اور ٹیلی ویژن چینلز اگر تھوڑی سی کوریج دے دیں تو کوئی بھی پارٹی ملک کی سب سے بڑی عوامی اپوزیشن بن سکتی ہے چناں چہ یہ مارچ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے وارننگ تھا‘ یہ دونوں کو سمجھانے کی کوشش تھا اصل طاقت ریاست ہوتی ہے باقی سب اداکار ہوتے ہیں‘ یہ اپنا اپنا رول ادا کر کے چلے جاتے ہیں ‘یہ اسکرپٹ اور ڈائریکشن کے مطابق چلتے رہیں تو ٹھیک ورنہ یہ آئوٹ کر دیے جاتے ہیں‘ یہ کمپنی کی فلاسفی‘ یہ ڈبلیو ڈبلیو ای کی روایات ہیں‘ روایات کے مطابق چلیں گے تو بچیں گے ورنہ دوسری صورت میں اپنے آپ سے اپنا پتہ پوچھتے رہ جائیں گے۔(ش س م)