حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور صلح صفائی کیوں ضروری ہے ؟ عمران خان کیوں جان بوجھ کر کیوں اس مشکل ترین محاذ پر صف آراء ہوئے ہیں ؟ جان کر آپ کپتان کو سیلوٹ کریں گے

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کئی مشکل کاموں کی ذمہ داری اُٹھا لی ہے۔ اُنہوں نے بہ یک وقت مسلمانوں کی پسماندگی، بیماریوں، نااتفاقیوں اور اتحاد بین المسلمین کو نقصان پنچانے والے عناصر سے جنگ شروع کر دی ہے۔ ابھی کشمیر کا جھگڑا ویسے ہی اوج پر ہے کہ خان صاحب نے

نامور کالم نگار حفیظ الرحمٰن قریشی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دو اہم ترین مسلمان ملکوں سعودی عرب اور ایران کو حالت جنگ سے نکال کر دوستی کی منزل پر پہنچانے کا بیڑہ اُٹھا لیا ہے۔ وہ کام کرنے کی ٹھان لی ہے جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔ اگر کسی نے ہمت کی ہے تو اُسے کامیابی نہیں ملی۔ ایران اور سعودی عرب جس کے لیے عرب و عجم کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ قرونِ اولیٰ سے مختلف مسالک، شیعہ اور سُنی سے وابستہ ہیں اور ان کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں۔ تحقیق کی غرض سے بھی شیعہ و سُنی مسالک پر وسیع النظری سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان میں سے کوئی بھی مسلک ایسا نہیں جسے دائرہ اسلام سے نکالنے کی مذموم کوشش کی جائے۔ صحیح عقیدہ یہی ہے کہ دونوں مسلمان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دونوں مسلک مسلمان ہیں کلمہ گو ہیں، اعمال کی بنیاد پر جنت کے مستحق ہیں تو ان میں لڑائی کیوں؟بدقسمتی سے صدیوں پہلے دونوں فرقوں کے علما ایک دوسرے کو قریب لانے کی کوششیں کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی تکفیر پر ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے اور ایک دوسرے کے خاتمے کے لیے اردگرد کی عیسائی سلطنتوں کے حلیف بننے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ دو تین سو سال تک خلافتِ عثمانیہ دُنیا کی طاقت ور ترین ایمپائر تھی، اسی طرح ایران کی صفوی سلطنت بھی اپنے حجم کے اعتبار سے ناقابل تسخیر رہی۔ بدقسمتی دیکھئے جب بھی ترکوں کے قدم یورپ کی طرف بڑھتے ، یورپ کی عیسائی ریاستیں ،

شاہان صفوی کو خلافت عثمانیہ میں شیعہ مسلک کے لوگوں پر فرضی مظالم کے قتل عام کی فرضی کہانیاں سنا کر اور اُکسا کر حملہ کرا دیتیں۔ اس طرح جب ترک ایران کی طرف بڑھتے تو یورپ کی عیسائی ریاستیں خلافت عثمانیہ پر چڑھ دوڑتیں، یوں دو اہم مسلمان ممالک لڑ لڑ کر اتنے کمزور ہو گئے کہ جب یورپ نے انگڑائی لی تو ترکی اور ایران ترنوالہ ثابت ہوئے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ تاریخ IF اور BUT کے سوا کچھ نہیں۔ کاش! اگر دونوں مسلم ممالک مل کر چلتے تو پورا یورپ زیر نگین ہوتا اور ان کے جیش نئی دنیا شمالی اور جنوبی امریکہ تک جا پہنچتے۔پہلی جنگ عظیم اپنے پیچھے ترکی کے نام سے ایک سکڑی ہوئی سیکولر ریاست چھوڑ گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں ترکی غیر جانبدار رہا، لیکن اتحادیوں نے ایران کو اپنے اثر میں لانے کے لیے رضا خاں اول کو معزول کر کے ان کے بیٹے رضا شاہ پہلوی کو تخت پر بٹھا دیا۔ ’’آریہ مہر‘‘ امام خمینی کے انقلاب تک امریکہ کی ’’دوستی‘‘ پر جو کہ دراصل غلامی تھی، نازاں رہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد عربوں نے ترکوں سے ناتا کاٹ لیا اور انگریزوں کے جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنس کر ترکوں سے رشتہ توڑ لیا۔ تاہم اسی دوران جزیرہ نمائے عرب میں آل سعود نے آلِ شیخ (امام محمد بن عبدالوہاب) کی مدد سے انگریزوں کے مقرر کردہ بادشاہ شریف حسین کو شکست فاش کے بعد سرزمین حجاز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے نکال باہر کیا۔ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کے اوائل میں آلِ سعود کے ملک عبدالعزیز

تقریباً سارے جزیرہ نمائے عرب پر قابض ہو چکے تھے۔ اُنہوں نے ریاض کو ’’الملکتہ العربیتہ السعودیہ‘‘ کا دارالحکومت بنایا۔ جس کا مسلک تو اہل سنت ہی تھا لیکن امام محمد بن عبدالوہاب کی نسبت سے ’’وہابی‘‘ کہا جانے لگا۔ اگلے برسوں میں صحرائے عرب سے تیل کے چشمے اُبلنے لگے۔ برطانوی کمپنیوں کی کوششوں سے تیل دریافت ہوا لیکن امریکی کمپنی آرامکو نے چالاکی سے برطانوی کمپنیوں کو نکال باہر کیا۔ قبل ازیں ایران سے بھی تیل دریافت ہو چکا تھا۔ تیس حالیس سال سعودیوں اور شاہ ایران کے باہمی تعلقات بہت اچھے بلکہ مثالی رہے لیکن دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات اور دولت فلسطینیوں کو یہودیوں کے چنگل سے نجات نہ دلا سکی۔ 79 میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو امام خمینی نے اعلان کیا کہ اسلامی انقلاب ایران تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ اسے برآمد بھی کیا جائے گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب سے مراد شیعہ انقلاب تھا۔ امام خمینی کی تقریروں نے اردگرد کے عرب ملکوں کے کان کھڑے کر دئیے۔ یہ واضح اعلان تھا کہ نواحی ممالک کو بھی ایران کے اسلامی انقلاب کے زیر اثر لانے کی کوشش کی جائے گی اور اس کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایران کی کوششوں سے ہی شام کی سُنی جمہوریت کا تختہ اُلٹ کر علوی شیعہ حافظ الاسد کو آمر مطلق کی حیثیت ملی۔ اسی طرح یمن میں بھی ، حوثی، جو زیدی شیعہ ہیں اور سعودی عرب کے حامی اہل سنت ایک دوسرے کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔ یمن میں غربت بے پناہ ہے بیشتر حوثی مختصر سی شرٹ ،

لنگوٹی نما دھوتی اور پائوں سے ننگے یا ہوائی چپل نما جوتا پہنے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے پاس ہر قسم کا جدید اسلحہ نہ صرف موجود ہے بلکہ اس کے استعمال پر اس حد تک قدرت رکھتے ہیں کہ آرامکو کے تیل کے کنوئوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ ظاہر ہے اُنہیں اسلحہ اور تربیت باہر سے مل رہی ہے۔ یہی حال شام کا ہے۔ آمریت کے خلاف مقامی بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے باہر سے اسلحہ بھی پہنچ گیا اور لڑنے والے لوگ بھی۔اگر تو عمران خاں مشن میں کامیاب ہو گئے تو عرب و عجم کی یہ یک جائی اسرائیل پر بم بن کر گرے گی۔ ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں سب سے قوی لڑاکا فورس ہے۔ اسرائیل کو اگر کسی نے زچ کیا ہے تو وہ ایران نواز ملیشیا حزب اللہ ہے۔ شام میں بھی بشارالاسد کو حزب اللہ نے ہی حصار فراہم کیا ہے۔ اگر ایران مدد کو نہ پہنچتا تو تیونس ، لیبیا اور مصر کی طرح شام سے بھی آمریت کا خاتمہ ہو جاتا۔ شام میں سنی مسلمانوں کی تعداد 83 فیصد، علوی تیرہ فیصد اور باقی چار فیصد عیسائی ہیں۔ یمن اور شام ، عرب ملک ہیں۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک ایران کو عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی لیکن دوسری طرف ایران کے اسلامی انقلاب کا فلسفہ ، شیعہ جہاں بھی ہیں اُن کی مدد کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان میں شیعہ سُنی اختلافات کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ، جب سے ان د ونوں ملکوں نے اپنے اپنے مسالک کے مدارس اور جامعات کی مالی امداد شروع کی ہے اور مختلف گروہوں کو مسلح کرنا شروع کیا ہے فرقہ وارانہ تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے ڈھکی چھپی باتیں نہیں۔ یہ حالات سب کے سامنے ہیں۔ عرب و عجم کی پراکسی وار کی تباہ کاریاں پاکستان تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ دونوں مسالک ایک دوسرے کو مسلمان تسلیم کریں۔ ایک دوسرے کی تکفیر کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا جائے۔ اشتعال پھیلانے والے لٹریچر پر پابندی لگا دی جائے اور وہ وسائل جو اسرائیل کے خلاف استعمال ہونا چاہئیں تھے، انہیں ایک دوسرے کے خلاف نہیں استعمال ہونا چاہئے تھا، اللہ تعالیٰ عمران خاں کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔(ش س م)