کپتان کے حامی کہتے ہیں خان صاحب کی نیت ٹھیک ہے ، ارے بھئی نیت کو ہم نے چاٹنا ہے جب ۔۔۔۔ کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے ریٹائرڈ سرکاری افسر نے تبدیلی سرکار کی بھیانک غلطیاں گنوا دیں

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے مایہ ناز سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں کی گئی تقریر کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ عمران خان کی تقریر بہت اچھی تھی،مگر اس پر بھی رائے زنی کرتے ہو ئے کئی مداح توازن کی حدیں پارکرگئے۔

ایک وزیرصاحب نے اسے The greatest speeh of all times قرار دے دیا۔ میرے مخاطب پڑھے لکھے لوگ ہیں جو تنقید سن سکتے ہوں اور انتہائی مہذب اور شائستہ انداز میں جواب دینے کا سلیقہ بھی جانتے ہوں ، ایسے جاہل جو اپنے لیڈروں کو پیغمبروں کی طرح خطاؤں سے پاک سمجھیں و ہ میرے مخاطب نہیں ہیں۔باخبر لوگ جانتے ہیں کہ یواین جنرل اسمبلی میں بڑی بڑی معرکتہ لآراء تقاریر ہوتی رہی ہیں ۔کیوبا کے انقلابی لیڈر فیڈل کا سترو کے خطاب کے دوران ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ (ہمارے وزیرِاعظم کی تقریر کے دوران ہال کی صورتِ حا ل سب نے خود دیکھ لی ۔ایک سربراہِ مملکت بھی موجود نہ تھا) یاسرعرفات کی تقریر کے دوران درجنوں ممالک کے سربراہ موجود تھے اور ہا ل بار بار تالیوں سے گونجتا رہا۔جب اُس نے کہا کہ میں شاخ زیتون لے کر آیا ہوں، اے دنیا کے فیصلہ سازومیرے ہاتھ سے امن کی یہ علامت گرنے نہ دینا، تو تالیوں کی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچی ۔ معمر قذافی کی معرکتہ لآراء تقریر بھی سب کو یاد ہے۔ڈاکٹر مہاتیر اور طیّب اردوان کی تقریروں کو عالمی لیڈر اس لیے سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ وہ جوکچھ کہتے ہیں اُس پر عمل بھی کرتے ہیں، وہ دل کی بات زبان پر لاتے ہیں وہ محدود سیاسی مقاصد کے لیے یا کسی خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے بات نہیں کرتے۔طیّب اردوان کی تقریر کو پوری دنیائے اسلام میں سراہا گیاہے مگر انھوں نے ترکی پہنچنے پر اپنا استقبال کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

ڈاکٹر مہاتیر نے بھی اس طرح کی کوئی چھوٹی حرکت نہیں کی۔دراصل Stature اور مقام کاموں اور عمل سے بنتا ہے،باتوں اور تقریروں سے نہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی لیڈر شپ اُن دونوں راہنماؤںکے مقابلے میں بَونی لگتی ہے۔انگریزی زبان پرجس قدر عبور اور تاریخ کاجتنا عمیق مطالعہ ذوالفقار علی بھٹو کا تھا شائد ہی ساؤتھ ایشیاء کے کسی اور لیڈر کا ہو ۔ کشمیر پر ان کی تقریریں حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہیں۔ مگر اتنی معرکتہ الآرا تقریروں سے کشمیر کی صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔عمران خان صاحب کی تقریر بہت اچھی تھی ،مگر کچھ منجھے ہوئے سفارتکاروں اور سابق سفیروں نے چند اہم اور حسّاس پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے، جو محلِّ نظر ہے۔ ان کے بقول ایک طرف تو پرائم منسٹر صاحب نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے(اور بجاکیا ہے) کہ پچاّس دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں لگایا گیا کرفیو اٹھا یا جائے، پھر ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی فرمادیا کہ اگر کرفیو اٹھا یا گیا تو بہت خون خرابہ ہوگا۔ کیا وہ یہ کہہ کر مودی حکومت کو کرفیو جاری رکھنے کا جواز فراہم نہیں کررہے؟میرے خیال میں وزیراعظم یقینا جواز فراہم کرنا نہیں چاہتے مگر انھیں فارن آفس کی ایڈوائس کے مطابق تقریر کرنا چائیے تھی۔دوسرا بہت سے سفارتکاروں نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب (دشمن کو ڈرانے کے لیے ہی سہی ) ایٹمی جنگ کا جس طرح ذکر کردیتے ہیں یہ بھی کسی ایٹمی ملک کے لیڈر کو زیب نہیں دیتا ۔ اسے سفارتی حلقوں میں غیرذمے دارانہ بیان سمجھا جاتاہے،

کبھی کسی ایٹمی ملک کا لیڈر اتنی آسانی سے یہ نہیں کہہ دیتا کہ ہم پر حملہ ہوا تو ہم ایٹم بم چلادیں گے۔کئی سفارتکاروںکے بقول اس طرح کی باتیں کر کے we are inviting trouble۔ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات سے ہمارے اور ہماری ایٹمی صلاحیت کے بدخواہ اور دشمن ہمارے خلاف Sanctions لگواسکتے ہیں یا ہمارے ایٹمی ہتھیاروں پر نا قابلِ قبول قسم کی پابندیاں لگواسکتے ہیں۔حکومت کی احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے سالوں جتنا ٹیکس بھی اکھٹا نہیں ہوسکا۔ برآمدات بہت نیچے آگئی ہیں، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا پروگرام بھی بند کردیا گیا ہے مہنگائی کا طوفان درمیانے طبقے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے مڈل کلاس یوٹیلیٹی بِل دینے سے بھی عاری ہو چکی ہے۔ ایسے لگتاہے ملک پر آسیب کا سایہ ہے اور ہرچیز برباد ہو رہی ہے۔گورننس کا معیار انتہائی پست ہے، سامنے ٹی وی چینل پر وزیراعظم صاحب کاایک جذباتی سپورٹر (اینکر)کہہ رہا ہے کہ پنجاب میں جہاں رشوت کا ریٹ ایک لاکھ ہوتا تھا اب پچاس لاکھ ہوگیا ہے ، اعلیٰ حکام کا آپس میں کوئی ربط نہیں ، ایک Chaos اور کنفیوژن ہے۔پولیس اور انتظامیہ میں بدترین قسم کی مداخلت ہو رہی ہے۔ پنجاب میں اینٹی کرپشن محکمے کا سربراہ ایک دیانتدار پولیس افسر( اعجاز شاہ)تھا مگر اسے دومہینے بھی برداشت نہ کیا گیا اور اسے ہٹا کر من پسند شخص کو اینٹی کرپشن کا سربراہ لگادیاگیاہے، میرٹ اور انصاف کے نعرے لگانے والے وزیراعظم نے امریکا میں اچھی تقریر ختم کرتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ ایک غلط اور غیر قانونی کام نہ کرنے اور حکومت کا غیرقانونی حکم نہ ماننے پر انتہائی دیانتدار اور باضمیر افسروں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اور ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل بٹ کو ہٹانے کا حکم دیا ۔ایماندار اور باضمیر سول سرونٹس بددل چکے ہیں، وہ اِس دور میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔عوام اپنے مسائل کا ذکر کریں تو کہاجاتا ہے دیکھو تقریر کتنی اچھی تھی۔وزیرِاعظم کا خطبہ کتنا زبردست تھا۔ وزراء کہتے ہیں خان صاحب کی نیت بہت اچھی ہے۔ ارے بھائی نیت تو عمل سے ظاہر ہوتی ہے یا اعلیٰ سطح کی تعیناتیوں سے۔کیا باتوں سے معیشت ٹھیک ہو سکتی ہے ؟ کیا گفتار، کردار کا متبادل ہو سکتا ہے؟ کیا تقریر سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟ ھرگز نہیں۔