نہ تو عمران خان اور شیخ رشید نے کبھی میری سنی ہے اور نہ مولانا فضل الرحمٰن سنیں گے ، مگر پھر بھی مشورہ دیتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔ کالم نگار سلیم صافی نے شاندار تجویز پیش کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن کیا واقعی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ، یہ سوال حالیہ دنوں میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔ اس حوالے سے اپنے ایک کالم میں نامور کالم نگار سلیم صافی لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

ایک ہے مذہب کی خدمت اور دوسرا ہے ذاتی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اول الذکر جتنا مقدس تو ثانی الذکر اتنا ہی قبیح عمل ہے۔ اول الذکر ایمان کا تقاضا ہے تو ٖثانی الذکر ایمان کا خسارہ۔ اس لئے دونوں کو خلط ملط کرنے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اس کا تدارک کرنا ہر صاحبِ ایمان کا فرض ہے۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں کہ ایک ایسے ملک کی سیاست سے مذہب کے کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ جس کے آئین میں اسلامی شریعت کو سپریم لا قرار دیا گیا، جس میں وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کا قیام لازمی قرار دیا گیا اور جس میں ممبران اسمبلی کے لئے آرٹیکل باسٹھ کی رو سے یہ شرط رکھی گئی کہ وہ پارسا، صادق اور امین ہوں۔ پاکستانی سیاست میں اگر کوئی مذہب کے کردار سے انکار کرے تو وہ خلاف آئین بات کرتا ہے اور آئین کی رو سے حکومت کا یہ فرض قرار دلوایا گیا ہے کہ وہ اسلامی احکامات کے نفاذ کے لئے کوشش کرے۔ جہاں تک ختم نبوت کے عقیدے کا تعلق ہے تو اس پر عقیدہ ایمان کی پہلی سیڑھی ہے۔ ہماری سیاست اور صحافت سے بھی یہ ایشو نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ آئین کا حصہ ہے اور اس عقیدے کا اظہار وزیراعظم یا اراکین اسمبلی کے لئے حلف کے دوران لازمی ہے لیکن جتنا توہین رسالت سنگین ترین اور ناقابل معافی جرم ہے اسی طرح کسی انسان پر بغیر ثبوت کے اس کے ارتکاب کی تہمت لگانا بھی سنگین ترین اور ناقابل معافی جرم ہے۔ ان دنوں سب سے زیادہ مذہبی کارڈ خان صاحب اور ان کے ساتھی استعمال کررہے ہیں لیکن ان پر یا ان کی حکومت پر یہ الزام لگانا کہ نعوذ باللہ وہ توہین رسالت کی مرتکب ہوئی ہے، سراسر بے بنیاد ہے۔ عمران خان صاحب مسلمان ہیں اور کسی مسلمان کے بارے میں یہ تصور کرنا بھی جرم ہے کہ وہ دانستہ توہین رسالت کا سوچ سکتا ہے۔ چونکہ آئین اجازت دیتا ہے اس لئے مولانا فضل الرحمٰن صاحب بے شک مذہبی ایشوز کی بنیاد پر سیاست کریں لیکن وہ بغیر ثبوت کے توہین رسالت کے الزامات سے گریز کریں تو بہتر ہوگا۔ میں نے گزشتہ روز بھی اُن سے گزارش کی کہ وہ حکومت کے خلاف توہین رسالت اور ختم نبوت کے کارڈ کو استعمال کرنے سے گریز کریں اور آج کالم کے ذریعے بھی ان سے یہ التجا کررہا ہوں۔نہ تو عمران خان اور شیخ رشید نے کبھی ہماری سنی تھی اور نہ مولانا نے اپنی سیاست ہمارے مشورے سے کرنی ہے لیکن میں اصولی معاملات میں یوٹرن لینے کا قائل نہیں۔ جن اصولوں کے تحت عمران خان کے اقدام کو غلط کہا، انہی اصولوں کا اطلاق مولانا فضل الرحمٰن کے اسی طرح کے اقدام پر بھی ہوگا کیونکہ جان اللہ نے لینی ہے۔