’’ اس ملک سے اتنا پیسہ بنا چکے ہو پھر بھی رو رہے ہو۔۔۔‘‘ جنرل باجوہ نے پاکستان کے سیٹھوں کے ساتھ ملاقات میں کیا کِیا؟ بی بی سی کے کالم نگار نے سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی کے معروف کالم نگار محمد حنیف کا کہان ہے کہ سر باجوہ نے کاروباری شخصیات کو ہلکی سی ڈانٹ تو پلائی ہو گی کہ تم لوگوں نے اس ملک سے اتنا پیسہ کمایا ہے پھر بھی رو رہے ہو، باجوہ صاحب سے ملاقات کرنے والی شخصیات میں سے کوئی ارب پتی تھا، کوئی

کھرب پتی تھا تو کئی مہا کھرب پتی ۔ تفصیلات کے مطابق بی بی سی کے لیے اپنے تازہ ترین کالم ’’ سر باجوہ سیٹھوں سے ذرا بچ کے ‘‘ میں محمد حنیف لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے خبروں میں سنا ہے کوئی پھٹ پڑا، کوئی روتا رہا تو کوئی دہائی دیتا رہا ، کسی نے نیب کی شکایتیں کی، پاکستان کے سب سے بڑے سیٹھوں نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران صرف شکایتیں ہی کیں، یہ ہمارے سپہ سالار کا ہی کمال ہے کہ وہ صبح ایل او سی پر پہرہ کنٹرول دیتے ہیں، دوپہر کو نئے ڈی ایچ اے کا افتتاح اور پھر رات کو بیٹھ کر پاکستان کے بڑے سیٹھ لوگوں کا مداوا کرتے ہیں ، جن سیٹھوں نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی انکی دولت کا اندازہ لگائیں کہ کوئی ارب بتی، کوئی کھرب پتی تو کوئی مہا کھرب پتی تھا ، مگر ہر کوئی صرف رو رہا تھا ، خبروں میں یہ چیز رپورٹ نہیں ہوئی ، لیکن آرمی چیف نے ان سیٹھوں کو ہلکی سی ڈانٹ تو پلائی ہوگی کہ اس ملک سے اتنا پیسہ بنا چکے ہو پھر بھی رو رہے ہو، پھٹ رہہے ہو اگر پھٹنا ہی ہے تو کہیں دور جاؤ اور پھٹو، میری ٹریننگ فوجی ہے اور میں پھٹنے والی چیزوں سے نمٹنا جانتا ہوں وہ بھی بہت اچھے طریقے سے۔ ‘‘
محمد حنیف اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ سیاستدانوں سے آپ کا مقابلہ نہیں ہے ، آپ کا اصل مقابلہ سیٹھوں سے ہے ، کیونکہ سیاستدان تو کچھ سر سے پاؤں تک احتساب کے عمل میں ڈوب چکے ہیں، لیکن ان سیٹھوں کو کب تک گلے سے لگا کر رکھنا ہے، ہمارے سپہ سالار راحیل شریف کو اگر 70 یا 80 ایکڑ زمین ملتی ہے تو شور مچ جاتا ہے لیکن ان سیٹھوں کی جائیدادوں کا کبھی کسی نے حساب لگایا ہے؟ میں انے ایک سیٹھ کے بارے میں سنا تھا کہ اس کے گھر کے اندر ہی پٹرول پمپ ہے لیکن جب مجھے اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو میں گھبرا گیا کہیں انکے گھر کے اندر ہی میری گاڑی کا پٹرول ختم نہ ہوجائے کیونکہ انکا گھر ہی اتنا بڑا تھا ‘‘۔