صلاح الدین ایوبی کے مزار مبارک پر ایک ماں کی مانگی ہوئی دعا برسوں بعد سیاچین کے محاذ پر کیسے رنگ لائی ؟ پاک فوج کے ایک جوان کی شہادت کا ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک)1971ء کی ہندو ستان اور پاکستان کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر شہیدہونے والے سوار محمد حسین کو امانتاً دفنایا گیا تھا‘ جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں بعد از شہادت بہادری اور جرأت کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر دیا گیا تو نشان حیدر پانے والوں کے معیار کے مطا بق ان

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کی قبر تیار کرنے کے لیے ان کا تابوت عارضی قبر سے نکالنے سے پہلے تمام شرکا نے وضو کیا اور سب کے لبوں پر درود شریفﷺ کا ورد تھا ۔شہید کے ایک بھائی جو جنگ میں کسی اور محاذپر مصروف تھے‘ ان کی درخواست پر جب تابوت کا شیشہ اتار کر انہیں شہید کا چہرہ دکھایا گیا تو یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ دفناتے ہوئے شہید کے بغیر ڈاڑھی چہرے پر ایک مناسب اور صاف ستھری ڈاڑھی کے ساتھ ایک شفیق قسم کی مسکراہٹ اور قبر سے نکلنے والی خوش کن خوشبو چاروں طرف پھیل رہی تھی ۔یہ ایمان افروز اور روح پرور نظارہ ایک دو نہیں بلکہ وہاں موجود سینکڑوں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔نارووال کے گجگال محاذ پر جب دشمن کی مشین گن کا برسٹ لانس نائیک محمد محفوظ کے سینے پرلگا تو ٹینک رجمنٹ کے نائب رسالدار علی نواب اور عبدالرحمن کیانی جب اسے اٹھانے لگے تو شہید محفوظ نے ان سے پوچھا :دشمن کہاں ہے؟ کہیں آگے تو نہیں آ گیا؟یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی جان اس ملک پر قربان کر دی۔ کچھ لوگوں سے‘ ان کے خواب میں شہید اکثر آج بھی یہی پوچھتے ہیں کہ دیکھنا کہیں دشمن نزدیک تو نہیں آ گیا؟اب کیا بتائیں کہ دشمن تو کئی بہروپ دھارے اندر تک گھس آیاہے وہ تو آپ جیسے شہیدوں کے نام درسی کتب سے نکالنے تک پہنچ گیاہے ‘جس سرحد کی حفاظت کے لیے آپ نے جان دی

اُسے ایک لکیر بتاتا ہے اورپاک سرزمین پر ہندوستان کا ایجنڈا آگے بڑھاتا ہے۔ سیا چن کے بلند ترین محاذ پر15 مئی 1995ء کو شہید ہونے والے کیپٹن معظم علی شہید کے والد میجرڈاکٹر(ر) یوسف اختر آف جہلم کہتے ہیں کہ شہید کی پیدائش سے پہلے ان کی تائی ماں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی بزرگ انہیں بشارت دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یوسف کو بتا دو کہ اس کے ہاں بیٹا ہو گا اس کا نام معظم علی رکھیں اور اسے فوج میں بھیجیں۔ راقم خود میجر ڈاکٹریوسف صاحب سے اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے ان سے جہلم جا کر ملا تو انہوں نے بتایاکہ دمشق میں ہم حضرت یحییٰ علیہ اسلام اور صلاح الدین ایوبی ؒکے مزار پر گئے‘ دعا کے بعد اس کی والدہ معظم کے سر پر بار بار ہاتھ پھیر رہی تھی ‘میرے پوچھنے پر کہا کہ اس کی پیدائش سے پہلے میں نے دعا کی تھی کہ اﷲ اگر مجھے بیٹا دے گا تو میں اسے آپ کی نذر کر دوں گی۔ میرے اس بیٹے کو اسلام کے لیے‘ پاکستان کے لیے قبول کریں ۔ ماں کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ اسلام اور صلاح الدین ایوبی ؒکے مزار پرمانگی ہوئی دعا بائیس سال اور سات ماہ بعد سیا چن کے برف زار محاذ پر قبول ہو گئی اور کیپٹن معظم وطن کی حر مت پر قربان ہو گیا۔جنازے میں معظم علی شہید کے تابوت پر کھڑے ایک اجنبی بزرگ اہلِ جہلم کو اب بھی یاد آتے ہیں‘ جنہیں اس تدفین کی گھڑی کے بعد جہلم میں پھرہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔ان بزرگ نے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد شہید معظم علی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ” بیٹے جب رسول پاک ﷺ کے سامنے جائو تو ان سے میرا بھی سلام کہنا۔اُن اجنبی بزرگ کو شہید کیپٹن معظم علی کے جنازے میں شریک جہلم اور ارد گرد کے ہزاروں لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا‘ لیکن بعد میں وہ کبھی نہیں دیکھے گئے ۔کہاں گئے آج تک کسی کو پتہ نہیں؟کیا ایسے شہدا کے نام ہم درسی کتب سے مٹا ئیں گے؟ کیا ایسے شہدا کے ساتھیوں کے وطن پر قربان ہونے کے عزم کو سرحدوں کو ایک لکیر کہہ کر گہنا سکیں گے؟کسی صورت نہیں۔آوازِ دوست میں مختار مسعود لکھتے ہیں ” جن سرحدوں کو اہلِ شہا دت میسر نہیں آتے ‘وہ سرحدیں مٹ جایا کرتی ہیں‘‘ ۔ابھی کل کی بات ہے کہ شہدا کے سینوں پر اس وقت ایک کاری ضرب لگائی گئی جب اس وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے سوار محمد حسین اور اور لانس نائیک محمد محفوظ شہید کے نام پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت شائع ہونے والی جماعت نہم کی انگریزی کتب سے خارج کیے گئے۔(ش س م)