پاک فوج کا وہ اعلیٰ افسر جو کور کمانڈرز کانفرنس میں اپنے آقاؤں کا نمبر ملا کر موبائل جیب میں رکھ لیتا تھا اور ساری معلومات براہ راست اور فوراً لیک ہو جاتیں ۔۔۔۔ سینئر پاکستانی صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ حقیقتیں افسانہ لگتی ہیں اور بعض افسانے حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں۔ بریگیڈئر رضوان کو ’’را ‘‘کیلئے جاسوسی کرنے پر سزائے موت سنائی گئی۔ اسکی چمکتے دمکتے سٹار والی یونیفارم میں تصویر منظر عام پر آئی۔اسکے اعمال سے بے خبر لوگوں کو تصویر میں چہرے پر وجاہت اور شجاعت نظر آتی ہے۔

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم (روزنامہ نوائے وقت ) میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بریگیڈئر سرفروش نظر آتا ہے۔ مگر وطن فروشی کا کردار نمایاں ہونے پر یہی چہرہ منحوس اور سراپاہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ اسکے ساتھ انجینئر وسیم اکرم کو دشمن کے ہاتھ راز فروخت کرنے پر اسی سزا کا مستوجب ٹھہرایا گیا۔ ان جیسا ایک کردار لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال ہے۔ جو کور کمانڈر اور اس سے بھی بڑے عہدے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن پر رہا ‘وہ سی آئی اے کیلئے جاسوسی کرتا رہا۔کہتے ہیں کور کمانڈرز کانفرنس میں اپنے آقاؤں کا نمبر ملا کر موبائل جیب میں رکھ لیتا تھا۔یہ صاحب آرمی چیف کی دوڑ میں شامل رہے۔ اگر بن جاتے تو …؟ ایک طرف ہمارے سامنے ایسے وطن فروش ہیں تو دوسری جانب سرفروشوں کی کمی نہیں‘ جو راز کو امانت سمجھتے ہیں۔ جان دے دیتے ہیں وطن کی آن پر آنچ نہیں آنے دیتے ہیں۔ قوم میں جذبہ سرفروشی ابھارنے اور نئی نسل کی انہی خطوط پر تربیت کیلئے ایسی ’’حقیقتوں‘‘ کا فروغ ضروری ہے۔ قبرستان شہداء میں ایک قبر پر بریگیڈئر فیضان کا کتبہ لگا ہے۔ حیران کن حقیقت ہے کہ اس قبر میں کوئی میت نہیں‘یہ قبر فیضان کی شہادت کے بعد ہی بنی۔ کیپٹن فیضان خصوصی مشن پر دشمن ملک گیا ساؤدرن ائر کمانڈ میں خانساں بھرتی ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل کے گھر تک رسائی حاصل کی۔ ایک مشن پھر دوسرا اور تیسرا…۔ ادھر پاکستان میں پرموشن ہوتی رہی۔ اپنے کاز سے ایسی لگن اور مشن میں ایسا مگن کہ وطن کی یاد اور عزیزوں سے قربت پر مشن کو ترجیح دی۔ آخر پکڑا گیا۔ اس وقت فیضان کیپٹن سے بریگیڈئر بن چکے تھے۔

دشمن کے ساتھ کیا کچھ کر دیا! اپنی ناکامی کا ماتم کرتے ہوئے اس جاسوس کو مشتعل ہو کر دشمن نے المناک سزا سے دو چار کر دیا۔ سیمنٹ بنانے والے کریشر میں پیس کر سرمہ بنا دیا مگر اس مائی کے لال نے کوئی راز اگل کر نہ دیا۔ چند سال قبل اسکے و الدین اس تقریب میں موجود تھے جس میں باقی شہداء کے ساتھ ان کو بھی اعلیٰ فوجی اعزاز سے نوازا۔ بریگیڈئر رضوان کا ذکر کرنیوالے بریگیڈئر فیضان کو بھی یاد رکھیں۔ پتہ چلا کہ کلبھوشن پکڑا گیا تو بریگیڈیئر فیضان کو اشتعال میں آکر سزا دینے والی کمیٹی کے ہیڈ نے خودکشی کرلی تھی۔ملکی راز قوم کی امانت اور انکی حفاظت کیلئے جان سے بھی گزر جانا گھاٹے کا سودا نہیں۔ یہ سارے واقعات ایک ایک کر کے مریم نواز شریف کی ٹویٹ پڑھ کر یاد آتے رہے۔ اس میں محترمہ نے فرمایا۔ میں نے سب کچھ ریکارڈ کرا کے باہر بھجوا دیا تاکہ مجھے کچھ کہا جائے تو وہ پبلک کر دیا جائے۔آپکے والد تین بار وزیراعظم رہے۔ ان کا سینہ رازوں کا قلزم اور خزینہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جرنیلوں نے نشان عبرت بنا دیا۔ جیل سے انہوں نے کتاب اگر مجھے قتل کر دیا گیا لکھی جو بھارت میں انکے حواریوں نے چھپوائی۔ بھٹو کے سینے میں بھی کم قومی راز نہیں ہونگے جو انکے سینے میں ہی دفن رہے۔ ضمناً سوال ہے پاکستان پر حکمرانی کرنیوالوں کے دل میں دشمن بھارت ہی کی محبت کے چراغ کیوں جلتے ہیں؟ حمود الرحمنٰ رپورٹ پاکستان میں جاری نہیں ہوئی بھارت میں شائع ہو گئی۔

اپنے دور میں ملکی رازوں کا سب سے بڑا محافظ جنرل اسد درانی دشمن ملک کے ہم منصب سے مل کر کئی راز فاش کر دیتا ہے۔ میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ میں ڈان لیکس سامنے آئیں جس سے انکار کیا گیا۔ اجلاس کے اندر کی بات باہر جس نے بھی نکالی وہ ماورائے حلف کارستانی تھی۔ انکوائری ہوئی پرویز رشید فاطمی اور فواد حسن اسکی بھینٹ چڑھے۔ اصل ’’مہری‘‘ بچ گئی۔ میاں صاحب جب دیگر اعمال پر تخت دور ہوئے تو فرمایا ڈان لیکس میں غلط کیا تھا؟ یہ وطیرہ قدیم ہے۔ 1994 ء میں 58 ٹو بی کی تلوار کا زخم کھانے کے بعد میاں نواز شریف نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاتھا‘ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے ان سے منشیات کی سمگلنگ کی اجازت مانگی تھی۔ اسکی جنرل اسلم بیگ اور اسد درانی نے تردید کی تھی۔ یہ راز نہیں جسے کہا جائے افشاء کیا گیا یہ تو بہتان تھا کس پر؟ پاک فوج پر ۔مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں نواز شریف کیخلاف فیصلوں پر اثرانداز ہونے والوں کا نام لئے بغیر کہا کہ انکے پاس سب موجود ہے۔ وہ منظر عام پر آیا تو کہرام مچ جائیگا مگر میرا مقصد کہرام مچانا نہیں‘ بے گناہی کی سزا بھگتنے والے اپنے والد کی رہائی مقصود ہے۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ خیر نہیں کی آپ کیوں ان کو بخش رہی ہیں۔ کہرام مچتا ہے تو مچنے دیں۔ ٹھوس شواہد ہیں تو میڈیا میں نہیں عدالت لے کرجائیں۔ اس طرف کا رخ کرنے کا سوچا گیا نہ عندیہ دیا گیا جس سے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ محترمہ سب کچھ کیس ختم کرانے کیلئے کر رہی ہیں۔ آپکے پاس جو کچھ والد کی بے گناہی کیلئے موجود ہے‘ بہتر ہے متعلقہ فورم پر لے جائیں یہ آپ کا حق ہے مگر احتیاط ملحوظ رہے‘ قومی راز جو تین بار کے وزیراعظم کے توسط سے آپ تک پہنچے‘ ان سے ہرگز ہرگز پردہ نہ اٹھے۔ ایسی مہم جوئی پر محض وعید نہیں خوبصورت چہرے غداری کے جرم سے داغدار ہو کر نسلوں کو پچھتاوے میں مبتلا کر جاتے ہیں۔(ش س م)