خاتون اول بشریٰ بی بی کو وزیراعظم عمران خان اپنے دورہ امریکہ پر اس لیے ساتھ نہیں لے گئے کہ کہیں ۔۔۔۔۔ توفیق بٹ نے دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں سچی بات بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ میں ہم ”پاکستانیوں“ کے لیے سب اہم بات یہ تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ کی بیگم ہمارے وزیراعظمعمران خان کی مداح نکلیں“….ہمارے وزیراعظم اس حوالے سے بھی خوش قسمت ہیں ہمیشہ دوسروں کی بیگمات ہی اُن کی مداح نکلتی ہیں۔…. بیگم ٹرمپ ہمارے وزیراعظم عمران خان کے

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ملاقات میں جتنی خوش دکھائی دے رہی تھیں، یا جِس محبت بھری نظروں سے وہ اُنہیں دیکھ رہی تھیں ، جواباً جس طرح ویسے ہی محبت بھرے انداز میں خان صاحب شرما رہے تھے اُس سے ہم بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں جب تک ٹرمپ امریکی صدر ہیں، اور جب تک خان صاحب وزیراعظم پاکستان ہیں، امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہی رہیں گے، البتہ پاکستان کی حالیہ ”خاتون اول “ اللہ جانے وزیراعظم کے ہمراہ کیوں نہیں تھیں؟ ممکن ہے خان صاحب ”خاتون اول“ کو اِس لیے ساتھ نہ لے گئے ہوں کہ کہیں اُن کا دورہ امریکہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کامیاب نہ ہوجائے۔ بہرحال خان صاحب کو تو پتہ نہیں امریکہ میں اُن کی کمی محسوس ہوئی یا نہیں مگر خان صاحب کی پالیسیوں اور ان کی ذات میں سے بات بات پر کیڑے نکالنے والوں کو اِس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کا موقع ضرور میسر آگیا، مراد سعید بھی خان صاحب کے ساتھ نہیں تھے، البتہ زلفی بخاری ساتھ ساتھ تھے ، سنا ہے امریکہمیں خان صاحب کے جلسے کو کامیاب بنانے میں اُن کا بھی ہاتھ ہے، لہٰذا اُمید کی جاسکتی ہے مستقبل قریب میں یہ قانون یا بِل اسمبلی سے منظور کرواکر کہ غیرملکی شہریت کے حامل کو بھی وزارت وغیرہ مِل سکتی ہے ایک عدد مکمل وزارت زلفی بخاری کو بھی سونپ دی جائے، ویسے اُن کی حیثیت اب بھی کئی وفاقی وزیروں سے زیادہ ہے، کئی اہم وفاقی وزیروں

کو وزیراعظم سے ملاقات کے لیے باقاعدہ وقت لینا پڑتا ہے، زلفی بخاری کو اِس سلسلے میں استثنیٰ حاصل ہے ….جہاں تک مراد سعید کا تعلق ہے اُن کا شمار محنتی وزیروں میں ہوتا ہے، اُنہیں ”وزیر محنت“ بھی بنایاجاسکتا تھا، ویسے اُنہیں میرٹ پر بھی وزیر بنایا جاسکتا تھا، بہرحال وہ جس خوبی کی بنیاد پر بھی وزیر بنے خوشی اِس بات کی ہے اُن کا شمار ایسے وفاقی وزیروں میں نہیں ہوتا جو خان صاحب پر باقاعدہ ٹھونسے گئے ہیں، ہمیں اِس بات کی بھی خوشی ہے خان صاحب فردوس عاشق اعوان کو دورہامریکہ میں ساتھ لے کر نہیں گئے ورنہ خان صاحب کا دورہ کامیاب ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو جانا تھا۔ فردوس عاشق اعوان وہاں ٹرمپ اورخان صاحب کی ملاقات سے پہلے ہی ایک پریس کانفرنس کھڑکا دیتیں کہ ”ٹرمپ نے خان صاحب کے ساتھ اپنی ملاقات میں خان صاحب کو یہ پیشکش کی ہے امریکہ کا صدر میری جگہ آپ کو ہونا چاہیے“ …. ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان شلوار قمیض اور پشاوری چپل میں اُتنے ہی اچھے لگ رہے تھے جتنے سابق وزیراعظم نواز شریف اوبامہ سے ملاقات کرتے ہوئے پینٹ کوٹ میںعجیب لگ رہے تھے، نواز شریف کے ہاتھ میں پرچیاں تھیں اور عمران خان کے ہاتھ میں وہ لکیریں ہیں جو اُن کا بار بار گرتا ہوا معیار اور مقام بار بار تھام لیتی ہیں، اصل میں دیانتداری کی واقعی ایک قوت ہوتی ہے۔ یہ قوت کسی حکمران کو ہرقسم کے خوف ، پرچیوں اور چِٹوں کی ضرورت سے محروم کردیتی ہے، اور

اگر دیانتداری کے ساتھ ساتھ مختلف معاملات کو چلانے کی اہلیت اور معاملہ فہمی بھی کسی حکمران میں ہو وہ مہاتیر محمد سے آگے نکل سکتا ہے، …. امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کی ”باڈی لینگوئج “ سے کم ازکم میں نے یہی اندازہ لگایا وہ یہ ملاقات بہت زیادہ خوشی سے نہیں کسی مجبوری سے کررہے ہیں، ذہنی طورپر وہ امریکی غلامی کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں، وہ امریکی غلامی سے پاکستان کے کچھ طاقتور اداروں کی غلامی کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں بھی وہ حسب معمول (اپنے مخصوص سٹائل کے مطابق) ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے رہے، ہم تو اِس بات پر بھی بڑے حیران ہوتے ہیں آرمی چیف قمر باجوہ سے مِلتے ہوئے بھی اُنہوں نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی ہوتی ہے، کسی ”بلڈی سویلین“ یا سیاسی حکمران کا کسی آرمی چیف کے سامنے بیٹھنے کا یہ انداز ”آرمی رولز“ کی خلاف ورزی ہے، ہمارے اکثر وزرائے اعظم چونکہ ”آرمی رولز“ کے پابند ہوتے ہیں لہٰذا اُنہیں زیب نہیں دیتا آرمی چیف کے سامنے ایسی بے تکلفی کامظاہرہ کریں، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے اس ضمن میں ذرا محتاط رویہ اختیار کریں، یہ نہ ہو ملک کی اصل قوتوں کو اُنہیں اقتدار سے الگ کرنے کا کوئی اور جواز پوری کوشش کے باوجود نہ مل سکے تو وہ یہ جواز تراش لیں کہ ”وہ آرمی چیف کے سامنے ہمیشہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے تھے“ ،….البتہ امریکی صدر ٹرمپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، امریکیوں کو صرف

اپنے مفادات سے غرض ہوتی ہے، وہ پورے ہوتے رہیں تو کوئی اُن کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ کر بیٹھے یا نہ بیٹھے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ ہم مختلف اقسام کے کمپلیکسز کے مارے ہوئے لوگ اِس سے تھوڑی دیر کے لیے خوش ہوجاتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم نے امریکی صدر کے سامنے ایسے بیٹھ کر بڑی بہادری دیکھائی ہے، ایک بات کا البتہ ہمیں پورا یقین ہے وزیراعظم عمران خان کا جہاں تک بس چلے گا وہ امریکی مفادات کے سامنے پاکستانی مفادات کو کسی صورت میں بھی قربان نہیں ہونے دیں گے، جیسا کہ ہمارے اکثر سابق حکمران کرتے آئے ہیں، ….ویسے عمران خان کی ایک الگ شناخت نہ ہوتی تو امریکی صدر ٹرمپ اُنہیں شاید وزیراعظم پاکستان تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیتا، اس کی کئی وجوہات ہیں، ایک تو وہ پاکستان سے اپنے ”وفاداروں“ اور رشتہ داروں کا پورا لشکر ساتھ لے کر نہیں آئے تھے جو ہمیشہ قومی خزانے پر بوجھ بنتا ہے، دوسرے وہ کسی سیون سٹار ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے پاکستانی سفیر کے گھر میں ٹھہرے، ویسے تو ہمارے اکثر سفیروں کے گھر بھی سیون سٹار ہوٹلوں سے کم نہیں ہوتے، مگر یہ روایت بڑی اچھی ہے کہ حکمران غیرملکی دوروں پر جائیں تو مہنگے ترین ہوٹلوں میں ٹھہرنے کے بجائے پاکستانی سفارتخانوں کے ”مہمان خانوں“ میں قیام کریں، حتیٰ کہ میزبان حکومتیں بھی اُنہیں مہنگے ترین ہوٹلوں میں ٹھہرانا چاہیں وہ اس سے معذرت کرکے دنیا کو پیغام دیں ہم واقعی آپ کے اُمتی ہیں اور قائداعظمؒ کے پیروکار ہیں جو ہمیشہ سادگی کو ترجیح دیتے تھے۔ (ش س م)