ہندوستان کے کچھ لوگوں نے صرف اپنے عشق کے شوق پر کروڑوں روپے انویسٹ کر رکھے ہیں ، مگر کیسے ؟ مستنصر حسین تارڑ کا انوکھا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پچھلے کچھ عرصے سے ’’کتاب‘‘ باقاعدہ زندہ ہو گئی ہے۔ سانس لینے لگی ہے اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور مجھے تو لگتا ہے کہ کتاب کے اندر ایک ایسی روح بھی موجود ہے جسے زوال نہیں۔ کتاب ان تمام لوگوں کو غلط ثابت کرنے کے

نامور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیے زندہ ہوئی ہے جو اس کی موت کی پیش گوئیاں مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اشفاق صاحب نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ آئندہ کتاب صرف کیسٹ کی صورت میں ہو گی جسے سنا جائے گا۔ ان دنوں نہ صرف میڈیا پر بلکہ ادبی محفلوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ہر شے ڈیجیٹل ہو رہی ہے۔ کمپیوٹر پر منتقل ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ پورے کے پورے عجائب گھر، لائبریریاں اور آرٹ گیلریاں کمپیوٹر پر انتقال کر رہی ہیں۔ اس لیے کتاب اپنی روایتی شکل میں کاغذ پر چھپے ہوئے حرف کی صورت ایک سرورق سے مزین نابود ہو جائے گی۔ کتاب ان سب مفروضوں کو باطل ثابت کرنے کے لیے زندہ ہو گئی ہے۔ میرا استدلال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اگر تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود کتاب مغرب میں متروک نہیں ہوئی تو مشرق میں کیسے نابود ہو سکتی ہے جہاں ہم ذہنی طور پر اپنی روایتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ میں یہاں پاکستان کے مختلف اشاعت گھروں کے حوالے دے سکتا ہوں جو ماضی کی نسبت کہیں کثیر تعداد میں کتابیں دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں۔ کراچی اور خاص طور پر لاہور کے کتاب میلوں میں کروڑوں کی کتابیں دنوں میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ آخر یہ کتابیں کہاں جاتی ہیں۔ ان کے اوراق پھاڑ کر ان میں جامن تو نہیں کھائے جاتے۔ انہیں پڑھا جاتا ہے حضور…بس یہ ہے کہ ہم اپنے روایتی قنوطی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے شغل کے

طور پر کتاب کے نابود ہو جانے کے بارے میں آہ و زاری کرتے رہتے ہیں۔ بے شک بہت سے لوگ کچھ پڑھنے کے لیے کمپیوٹر سے رجوع کرتے ہیں،ڈیجیٹل تکنیک کا سہارا لیتے ہیں اور میرا تجربہ ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ جب کسی کتاب سے مسحور ہوتے ہیں تو وہ اسے روایتی گیٹ اپ میں ملبوس، کاغذ اور چھپے ہوئے حرفوں کی صورت میں خرید لاتے ہیں کہ خریدی ہوئی کتاب آپ کی جائیداد میں شامل ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کے چند اردو عشاق نے ایک ویب سائٹ ’’ریختہ‘‘ نام کی شروع کر رکھی ہے۔ کروڑوں روپے کی صرف عشق کی انویسٹمنٹ ہے جس میں کچھ نفع نہیں، سینکڑوں لوگوں کا سٹاف دن رات اسے اپ ٹو ڈیٹ کرنے میں مشغول ہے۔ آپ کسی بھی غزل کا پہلا مصرعہ ٹائپ کر دیجیے۔ پوری غزل آپ کے سامنے آ جائے گی۔ اردو کلاسیک کے علاوہ جدید ادب کی سینکڑوں کتابیں آپ ایک کلک کر کے سکرین پر پڑھ سکتے ہیں لیکن یہ ’’ریختہ‘‘ والوں کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی کتاب پڑھنے والے کے ذوق جمال کے معیار پر پوری اترتی ہے، وہ شخص اسے روایتی شکل میں ضرور خرید کر لے آتا ہے۔ ڈیجیٹل اور روایتی شکل کی کتاب میں وہی فرق ہوتا ہے جو ایک جیتے جاگتے محبوب اور اس کی شکل کے روبوٹ میں ہوتا ہے اور آپ روبوٹ سے عشق تو نہیں کر سکتے۔ ہاں کر سکتے ہیں اگر آپ بھی ایک عدد روبوٹ ہوں تو… اور ہم روبوٹ نہیں ہیں۔ چنانچہ کتاب، روایتی مہاندرے کی کتاب، جس میں کاغذ اور

روشنائی کی مہک کی آمیزش آپ پر جادو کر دیتی ہے، زندہ ہے۔ چلیے چند زندہ کتابوں کے عشق میں مبتلا ہو کر انہیں اپنا رفیق بناتے ہیں۔ دراصل میں نے ابراہیم نصراللہ کے ناول ’’غزہ ویڈنگ‘‘ سے اپنے روایتی کتابی کالم کا آغاز کیا تھا لیکن اس ناول کا موضوع ایسا اندوہناک تھا کہ وہ پورے کالم کا متقاضی ہو گیا۔ اس سے پیشتر میں اپنی جہالت کا اقرار کر چکا ہوں کہ میں نے حال ہی میں عظیم افریقی ناول نگار بن اوکری کو اس کی شاہکار کتاب ’’دے فیمشڈ روڈ‘‘ یعنی ’’بھوک کی شاہراہ‘‘ کے حوالے سے دریافت کیا، میں نے بن اوکری کا نام تو سن رکھا تھا لیکن اس کی ادبی عظمت سے ناواقف تھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر میں بن اوکری کو نہ پڑھتا تو میرا ادبی ذوق نامکمل رہتا۔ پچھلے دنوں میں اس کے دو ناولوں ’’اِن آرکیڈیا‘‘ اور ’’ڈینجرس لَو‘‘ کے سحر میں مبتلا رہا کہ بن اوکری دراصل ناول نگار کے روپ میں ایک جادو گر ہے۔ وہ ادب نہیں لکھتا کرامات کرتا ہے۔ گارسیا مارکینر اگر جادوئی حقیقت نگاری کا راہب اعظم ہے تو بن اوکری جادوئی جادوگری کا بادشاہ ہے۔ وہ کسی بھی کردار یا منظر کو حیرت کے ایسے جہانوں میں لے جانے پر قادر ہے جن کے وجود سے ہم واقف ہی نہیں ہوتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اسے نوبل ادب انعام ابھی تک کیوں نہیں ملا۔ ’’ڈینجرس لَو‘‘ ایک افریقی نوجوان مصور اور ایک دھان پان سی شادی شدہ لڑکی کے جذباتی رشتے کی کہانی ہے۔ ’’میں تب ایک سیاہ جنگل میں چل رہا تھا

جب میں نے دیکھا کہ شجر دھند میں تبدیل ہو گئے ہیں اور جب میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں ایک مردہ لڑکی تھی، وہ لڑ کھڑائے بغیر میری جانب چلی آ رہی تھی، نہ اس کی ناک تھی اور نہ ہی منہ، صرف دو روشن آنکھیں تھیں، میں جہاں جاتا وہ میرے پیچھے چلی آتی تھی۔ میں نے جنگل کے آخر میں ایک روشنی دیکھی، لیکن میں اس تک پہنچ نہ سکا۔‘‘ بن اوکری کہتا ہے ’’ہم وہ کتاب کبھی نہیں لکھتے جو ہم سوچتے ہیں کہ ہم لکھ رہے ہیں اور ہم کبھی وہ کتاب نہیں پڑھ رہے ہوتے جو ہم سوچتے ہیں کہ ہم پڑھ رہے ہیں‘‘ ناول ’’اِن آرکیڈیا‘‘ میں کچھ کردار ایک ڈاکومنٹری بنانے کی خاطر لندن کے واٹر لوسٹیشن سے یورپ کے سفر پر نکلتے ہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کی ذات میں سفر کر جاتے ہیں۔ ’’ہر مسافر کے ساتھ ایسے لوگ چلے آتے تھے جو نظر نہیں آتے تھے۔ وہ انہیں جان بوجھ کر ساتھ لا سکتے، وہ اپنے مردے گھسیٹتے چلے آ رہے تھے، اپنے بھوت اپنے درندے اور ان کا سامان ساتھ لائے تھے۔ اسی لیے پلیٹ فارم پر ہجوم بہت ہو گیا تھا اور جگہ کم پڑ گئی تھی۔ ہر شخص کے ساتھ کم از کم پانچ ایسے ساتھی تھے۔ کچھ لوگ اپنے مردے اور بھوت پلیٹ فارم پر چھوڑ جاتے ہیں، دوسرے انہیں سفر پر ساتھ لے جاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم میرے ساتھ کتنے مردے اور بھوت سفر کر رہے تھے۔‘‘ ’’اور تب بے چینی آ گئی۔ خوف چلا آیا، مسرت اور خوشی کے عارضی ہونے کا احساس ہوا۔ آزادی رخصت ہو گئی۔ پھر عشق کی قوت نے موت کو پچھاڑ دیا۔ پھر یہ احساس رخصت ہو گیا کہ ہم لافانی ہیں اور ہم جان گئے کہ ہم ستاروں کی راکھ اور جادو سے تخلیق کردہ ہیں اور تب ہم نے جنت کا خواب دیکھا، جو ہم سے کھو گئی تھی‘‘ (ش س م)