خان صاحب : تم کیسے وزیراعظم ہو جب کہ تمہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔ صف اول کی پاکستانی ادیبہ ، شاعرہ اور کالم نگار نے عمران خان کو براہ راست پیغام بھجوا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) شاید میں آج بھی کالم نہ لکھ پاتی اور مجھے یقین بھی نہیں کہ میں پورا کالم لکھ سکوں گی کہ نہیں۔ میں پچھلے ایک ماہ سے کالم کیا، کچھ بھی نہیں لکھ رہی کیونکہ 9 مئی کی رات سونے کے دوران میرا بی پی شوٹ کر گیا۔ صبح میری حالت بگڑ چکی تھی

نامور خاتون کالم نگار ڈاکٹر عارفہ صبح خان اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تب سے آج تک میں بیمار ہوں لیکن اتنی بیماری کے باوجود آج مجھے ڈاکٹر انور سجاد کی موت نے کالم لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اگرچہ میرے آئی سپیشلسٹ کی طرف سے مجھے ابھی لکھنے پڑھنے، ٹی وی ، موبائل دیکھنے کی اجازت نہیں ہے لیکن ڈاکٹر انور سجاد کی موت پر مجھ سے رہا نہیں گیا۔ وہ ایک ذہین بلکہ نابغۂ روزگار انسان تھے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ڈاکٹریٹ کیا تھا۔ اُن میں بے پناہ صلاحیتیں تھیں جن کا اظہار طالبعلمی کی زندگی سے ہونے لگا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہونے کے علاوہ وہ باکمال اداکاری کرتے تھے۔ ادیب تھے، بہترین افسانہ نگار اور اعلیٰ پائے کے ڈرامہ رائٹر تھے۔ اُن میں بے پناہ صلاحیتیں تھیں۔ اپنی اعلیٰ کارکردگی اور فنونِ لطیفہ میں مہارت پر انہیں تمغۂ حسن کارکردگی بھی ملا۔2018ء میں ڈاکٹر انور سجاد کے بیمار ہونے کی خبر آئی۔ تقریباً سوا سال وہ مسلسل بیمار رہے۔ اُن کی ایک بیٹی اور اہلیہ ہیں۔ مسلسل بیماری اور شدید ترین مہنگی ادویات کے بعد آخرکار تھک ہار کر ان کی اہلیہ نے کسی کے مشورے پر وزیراعظم سے علاج کے لیے اپیل کی لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ بات باہر نکلی تو بیت المال سے جو آدمی زکوۃ خیرات کی مد میں یتیم مساکین بیوائوں کو جو امداد دیتے ہیں۔ اُس سے شاید ایک ڈیڑھ لاکھ روپیہ زکوۃ خیرات کا ایک سال گزرنے کے بعد ڈاکٹر انور سجاد کو دینے آئے کہ جی وزیر اعظم کی ہدایت پر مدد کرنے آئے ہیں۔

کوئی اُن سے پوچھے کہ مریض کو روزانہ ہسپتال لانے لے جانے میں صرف دو لاکھ روپے کا پٹرول لگ جاتا ہے۔ ایک سال میں ڈاکٹر انور سجاد نے بھی اپنی حق حلال کی کمائی سے ڈیڑھ دو لاکھ پٹرول پر خرچ کر ڈالے تھے۔ کسی کو خدا کا خوف نہیں آیا کہ ملک کے عظیم دانشور ادیب کو آپ بیت المال سے یہ ’’جھونگا‘‘ بھیج رہے ہیں۔ پچھلے 72 سالوں سے پاکستان جاہل، عیاش اور خود غرض، حریص حکمرانوں کو برداشت کر رہا ہے۔ ملک کاایک لیجنڈ سِک سِک کر مر گیا لیکن اس ملک کے وزیراعظم کو صرف ٹیکس بڑھانے، ایمنسٹی سکیم لاگو کرنے، لوگوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ روزانہ جھوٹ بولنے، مہنگائی کرنے، لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے، ہیلی کاپٹر پر سیر سپاٹے کرنے، غیر ملکی دورے کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ ادیب شاعر دانشور ملک و قوم کا مغز اور دل و دماغ ہوتے ہیں۔ان کے علاج کے لیے بہترین انتظامات کرنے چاہئیں تھے لیکن حیف کہ ہم کہاں پیدا ہو گئے۔ 9 مئی کو میرا بی پی شوٹ ہوا۔ جس کے نتیجے میں میرا آدھا چہرہ Paralyse ہو گیا۔ میری آنکھ کی پُتلی اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔ میری حالت شدید ترین بگڑ گئی۔ 24 دن تک آنکھ میں حرکت نہیں ہوئی۔ آدھے چہرے میں کسی قسم کی حرکت نہیں ہوئی۔ ہم سب سے پہلے صدر ڈاکٹر ذیشان میر کے پاس گئے۔ پھرجناح ہاسپٹل لیجایا گیا جہاں نیورو فزیشن ڈاکٹر شہزاد میرے معالج تھے۔ روز مجھے چوبیس گولیاں کھانی پڑتی تھیں۔ میں کھانے پینے سے قاصر تھی۔ بولنے سے قاصر تھی۔ چلنے پھرنے سے قاصر تھی۔ شدید درد، اذیت اور تکلیف میں مبتلا تھی۔ میرے لیے فزیوتھراپی تجویز کی گئی۔ بحریہ ہاسپٹل سے ہم نے فزیوتھراپی کرائی لیکن تیسرے دن چھوڑ دی ۔ پھر واپڈا ٹائون میں ظہیر الدین نامی فزیو تھراپسٹ سے ایک ہزار روپے روز پر فزیو تھراپی شروع ہوئی۔ اس نے پندرہ دن تک ہمیں لوٹا کھسوٹا۔ پھرہم نے نیوروفزیشن کو چیک اپ کرایا۔ اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ تو ایک فیصد بھی ٹھیک نہیں ہوئیں۔ یہ ایک ماہ ہم مسلسل چار ہاسپٹلز کے چکر کاٹتے رہے۔ جماعت اسلامی اور ق لیگ نے رابطے کیے۔ ن لیگ کے ورکرز نے دعائیں کیں۔ صرف تحریک انصاف غافل رہی۔ پریس کلب سویا رہا۔ جس ملک میں اتنی بے حسی ،جہالت ، خود غرضی ہو بھلا وہاں ترقی کیسے ہو سکتی ہے۔ شایدکچھ لوگ تو اس انتظارمیںتھے کہ میرے مرنے کی خبر آئے اور کہیںکونے یا بقیوں میںمیرے مرنے کی یک سطری خبر لگا کر سرخرو ہو جائیں گے مگر مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے۔ جس ملک کے وزیراعظم کو یہ نہیں پتہ کہ اس ملک کی ادیبہ شاعرہ صحافی استاد نقاد دانشور ڈرامہ رائٹر موت سے جنگ لڑ رہی ہے۔ میں نے بھی ڈاکٹر انور سجاد کی موت سے سبق سیکھ لیا ہے۔(ش س م)