شہباز شریف کی پاکستان واپسی اور آصف زرداری کی گرفتاری عمران حکومت کے لیے کس طرح نقصان دہ ثابت ہونے والی ہے ؟ صف اول کے صحافی نے ایسے دلائل پیش کر دیے کہ آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ جولائی کے انتخابات سے پہلے میاں نواز شریف لندن سے واپس پہنچ کر جو انٹری دی تھی اس نے سیاست کا رخ ہی موڑ دیا تھا۔کہتے ہیں کہ اس آمد نے انتخابی نتائج بھی تبدیل کردیئے تھے۔ اب دو ماہ بعد شہباز شریف جو بغرض علاج بیرون ملک گئے تھے

نامور کالم نگار سہیل سانگی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لندن سے وطن لوٹے ہیں۔ شہباز شریف کی آمد ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب ملک میں شدید معاشی بحران ہے۔ مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ڈالرکی قیمت بڑھنے کی وجہ سے پاکستانی سکے اور مصنوعات کی بہت بے قدری ہو چکی۔ایک تجزیہ نگار نے کیا خوب حکومت کا زائچہ بنایاکہ بدترین گورننس، ناتجربہ کاری کی انتہا، معیشت کی بدحالی، عوام کی زندگی اجیرن، ترقیاتی منصوبے ٹھپ، ڈالر بے قابو، بے روزگاری میں اضافہ، صنعتیں بند، سرمایہ کار غائب، پارلیمان بے معنی۔ڈیپیوٹیشن پر آئے ہوئے افراد حکومتی معاملات چلا رہے ہیں۔سیاسی ماحول بھی گرم ہے۔ اپوزیشن جماعتیں متحد ہونے جارہی ہیں۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی گرفتاری کسی بھی وقت ممکن ہے۔ پیپلزپارٹی نے پارٹی قیادت کے خلاف نمٹنے کے لئے بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔ نیب کے چیئرمین کے حوالے سے مبینہ ویڈیو نے بہت سارے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، جن کے جوابات تاحال نہیں آئے ہیں۔ رہی سہی کسر سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف جڈیشل کونسل کو بھیجے گئے ریفرنس نے پوری کر دی ہے۔ وکلاء برادری اگلے تین روز بعد احتجاج شروع کرنے جارہی ہے۔ میاں نواز شریف نے جیل سے مریم نواز کو وکلاء کی تحریک کا مکمل ساتھ دینے کا پیغام بھیجا ہے۔پی ٹی آئی کے اندر اختلافات سر اٹھا رہے ہیں جن کا برملا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے وضاحتیں کی جارہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ہی رہیں گے۔ یہاں تک کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی وضاحت کرنی پڑی۔

حالیہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں حالات کوئی اچھے نہیں۔ سردار اختر مینگل بھی حکومت کی حمایت سے دستبردار ہونے جارہے ہیں، جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے کئی پہلو ہیں بلاشبہ اس کے اثرات بھی کثیر ہونگے۔ افسوسناک خبر یہ ہے کہ پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی نے کسی بھی قسم کی ہڑتال کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ کیاپنجاب ایک بار پھر جمہوری تحریک سے خود کو الگ رکھنا چاہ رہا ہے، جیسے اس نے ایم آرڈی تحریک کے موقع پر کیا تھا۔ یاد رہے کہ ایم آرڈی تحریک شروع ہونے سے پہلے فوجی عدالتوں اور ہائی کورٹ کا دائری اختیار کم کرنے کے خلاف وکلاء کی تحریک چلی تھی۔ اگر جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لئے تحریک چل سکتی ہے تو قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے خلاف تحریک کیوں نہیں چلائی جاسکتی؟ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت زیادہ وقت نہیں چل سکتی،حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کو متفق ہونا پڑے گا۔ انہوں نے عمران خان کو غیرمتعلقہ شخص قرار دیا ہے ۔ وہ جب کہتے ہیں کہ سیاستدان ہیں نہ زمیندار اور نہ ہی تاجر ہیں ، اس لیے مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس سے ان کی یہ مراد لی جارہی ہے کہ عمران خان اسٹیک ہولڈر ہی نہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کو اسٹیک ہولڈر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کو متفق ہونا پڑے گا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق آصف زرادری کی گرفتاری حکومت کی بڑی غلطی ہوگی۔ یہ صورتحال میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی دلیل دی جارہی ہے کہ ملک کو درپیش مسائل یقینا سنگین ہیں، لیکن کیا ان تمام مسائل کا حل سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا ہے؟ حکومت بجٹ میں سات سو ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کر نے اور حکومت خودآنے والے وقت میں معیشت کی مزید بری حالت ہونے کی نوید دے رہی ہے ۔ اس سارے منظر نامے میں آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے اور اسے گرانے کے لئے بھرپور وار کرنے کا فیصلہ آسانی سے ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس احتجاج کی حکمت عملی اور ٹائیمنگ کے حوالے سےفیصلہ کرے کی ۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ پہلے مرحلے میں اپوزیشن حکومت کے خلاف پارلیمان کے باہر بھی احتجاج کرے گی، دوسرے مرحلے میںملک بھر میں جلسے کئے جائیں گے، اس کے بعد اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا ۔ اس احتجاجی مہم کے دوران ملکی معیشت مزید دگرگوں ہوگی۔ جب احتجاجی تحریک کیمپ ڈالنے کے لئے اسلام آباد پہنچے گی تو یہ حکومت مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی۔ ایسے میں کیا درمیانی مدت کے انتخابات ہو جائیں گے جس کا مطالبہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کر چکے ہیں۔ ان انتخابات کے ہونے اور غیرجانبدارانہ انعقاد کو کون یقینی بنائے گا؟ آج بیک وقت چار سے زائد آپشن ہیں، ہر آپشن صورتحال کو مختلف سمت میں لے جائے گا۔ اس ضمن میں دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کو بعض اہم فیصلے کرنے ہیں۔نواز لیگ اس سے پہلے میاں نواز شریف کے ہی بیانیے پر کھڑی تھی اوراس کے مطابق پارٹی کے عہدوں پر بھی تبدیلیاں کی گئی تھی۔ سب معاملات میں لیڈنگ رول مریم نواز کا تھا۔ دیکھیں میاں شہباز شریف کی آمد ان حالات پر کیا اثر ڈالتی ہے؟ اور وہ خود کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں؟(ش س م)