کوے اور کلنگ کو بھی کبھی کبھی آپس میں محبت ہو جاتی ہے ، مگر ایسی انہونی کب ہوتی ہے ؟ مریم اور بلاول کی افطار ڈنر پر ملاقات پر طیبہ ضیاء کا خصوصی تبصرہ

لاہور(ویب ڈیسک)میاں نواز شریف کی جانشین گدی نشین سجادی نشین کو پہلی سیاسی روزہ کشائی کی ڈھیروں مبارک ہو۔ بلاول اور مریم میں مفاداتی دوستی پر حکیم صاحب کا مرض یاد آگیا۔ایک دن حکیم جالینوس گھبرایا ہوا اپنے شاگردوں کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’فوراً میرے لیے فلاں دوا ڈھونڈ کر لائو۔

نامور کالم نگار طیبہ ضیا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شدید ضرورت ہے۔‘‘ شاگردوں نے حیرت سے استاد کی طرف دیکھا اور کہنے لگے ’’آخر آپ کو اس دوا کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟ وہ تو سنتے ہیں پاگلوں اور فاترالعقل لوگوں کو دی جاتی ہے۔‘‘ حکیم جالینوس نے جواب دیا ’’بحث مباحثے میں وقت ضائع نہ کرو۔ جلد وہ دوا لائو۔ بات یہ ہے کہ ابھی ابھی ایک پاگل میری طرف متوجہ ہوا تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ مجھے پلک جھپکائے بغیر گھورتا رہا۔ پھر بدمعاشوں کی طرح آنکھ ماری۔ اس کے بعد بڑھ کر میرے کْرتے کی آستین تار تار کر دی۔ میں نے اس معاملے پر غور کیا تو معلوم ہو اکہ شاید وہ مجھے اپنا ہم جنس جان کر ہی ملتفت ہوا تھا، ورنہ میری طرف کیوں متوجہ ہوتا۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ جب دو آدمی آپس میں ملیں تو ان دونوں میں کوئی نہ کوئی صفت ضرور مشترک ہو گی۔ کْند ہم جنس باہم جنس پرواز کا قول درست ہے۔ کوئی پرندہ دوسرے غیر پرندوں کے غول کے ساتھ کبھی اْڑتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے ایک صحرا میں کوے اور کْلنگ کو بڑی محبت اور شوق سے پاس پاس یوں بیٹھے دیکھا جیسے وہ ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہوں۔ لیکن ان میں اس اعتبار سے بعد المشرقین تھا۔ بہت دماغ لڑایا، مگر کچھ معلوم نہ ہوا کہ ان میں وجہ اشتراک کیا ہے۔ اسی عالم حیرت میں آہستہ آہستہ جب ان کے

قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ دونوں لنگڑے ہیں… کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔ اب بات کرتے ہیں عوامی اور سمندری تیل نکالنے کی۔۔۔کچھ ہفتے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو یہ بتایا تھا کہ چند روز میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ملنے والے ہیں، جس سے ملک کی اقتصادی مشکلات دور ہو جائیں گی۔عمران خان کے اس بیان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پریشان لوگوں کو یہ ڈھارس بندھائی تھی کہ ان کے دن پھرنے والے ہیں اور جلد ہی ملک خوشحال ہو جائے گا۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر لوگ تیل اور گیس کے ذخائر کے تخمینے لگاتے رہے اور یہ دعوی بھی کہا گیا کہ اس کا شمار دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔پٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدے دار نے میڈیا کو بتایا کہ اس مقام پر ساڑھے پانچ ہزار میٹر سے زیادہ کھدائی کی گئی، لیکن تیل اور گیس کے ذخائر نہیں مل سکے۔ جس کے بعد تلاش کا کام ترک کر دیا گیا۔عہدے دار نے بتایا کہ اس منصوبے پر اب تک 15 ارب روپے کے لگ بھگ اخراجات آ چکے ہیں۔ماہرین معاشیات کے مطابق، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی بڑی وجہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والا معاہدہ ہے۔حکومت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس قرض کے حصول کے لیے جانا ہے اور آئی ایم ایف کا کہنا ہے

کہ پاکستان کا ایکسچینج ریٹ کافی خراب ہے اور قرضے کے حصول سے قبل اس کو درست کیا جانا ضروری ہے۔ لگاتار مہنگائی بڑھنے اور روپے کی قدر کم ہونا لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ طویل ہوتا یہ سلسلہ آئندہ جاری رہ سکتا ہے اور محفوظ طریقہ کار ڈالر کو بچا رکھنے میں ہی ہے۔’جب بھی ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے تو ایسا ہوتا ہے کیوں کہ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بینک میں ان کے پیسے پڑے پڑے کم ہو رہے ہیں اور ڈالر ہونے کی صورت میں وہ روپے کی قدر میں کمی سے محفوظ رہ پائیں گے۔ روپے کی قدر بے تحاشہ کم کرنے کا سب سے بڑا نقصان قرضوں اور سود کی شرح میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ایک سال میں شرح سود 5.75 فیصد سے بڑھ کر 10.75 فیصد ہو چکی ہے۔’اب ملک کا زیادہ پیسہ سود کی ادائیگی میں جائے گا اور ترقی صحت اور عوام پر لگانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا اور آپ مزید قرضے کی طرف جائیں گے اور اس صورتحال کو قرض کے دلدل میں مزید پھنسنا کہتے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر انوسٹرز کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے اور وہ انوئسٹمنٹ لانے سے گریزاں ہو جاتے ہیں۔حکومت کرنسی کی بیرون ملک منتقلی روک دے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا، جب کہ روپے کی قدر بھی بڑھ جائے گی۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے جب کہ درآمدی سامان کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف معاہدے کے تحت گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرنا پڑے گا۔۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک چلانے کیلئے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کرکے دکھائوں گا، ملک کو بحرانوں اور مشکلات سے نکالنا ہم سب کا امتحان ہے، نجکاری نہیں سرکاری ہسپتالوں کی اصلاح کر رہے ہیں، کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے۔ اللہ کرے ملک معاشی بحران سے نکل آئے کہ اب اس ملک میں کوئی نجات دہندہ دکھائی نہیں دیتا کہ یہ سیاسی مخلوق گیارہ مہینے ہی نہیں بلکہ رمضان میں بننے والا پاکستان افطار یوں میں بھی مزہ لے لے کر کھاتی ہیں۔