افغان جہاد کے دنوں میں ایک روسی سفیر جنرل ضیاء کے پاس آیا اور رعونت بھرے لہجے میں بولا ، جنرل : ہم جہاں آتے ہیں وہاں سے واپس خالی ہاتھ لوٹ کر نہیں جاتے۔۔۔۔ اس جملے کا مرحوم جنرل ضیاء نے کیا جواب دیا تھا ؟ لہو گرما دینے والی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک )روس کے خلاف افغان جہاد میجر عامر کیلئے ایک جذباتی موضوع ہے۔ جہاد کے اُن برسوں میں وہ آئی ایس آئی اسلام آباد کے چیف تھے او رجہاد کا اساطیری کردار ۔14مئی کے جمہور نامہ پر ان کا خط موصول ہوا‘ لیکن اس سے پہلے ایک ضروری پیغام کہ دسمبر2013ء میں

نامور کالم نگار رؤف طاہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او آئی سی نے 15رمضان المبارک کو ”یوم یتامیٰ ‘‘ قرار دیا(اور پاکستانی پارلیمنٹ نے اس کی تائیدمیں قرار داد بھی منظورکی) اس روز کی مناسبت سے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ میںاس موضوع پر خصوصی گفتگو کی جائے۔آج اینکر پرسنز اپنے پروگراموں کا آغاز یوم یتامیٰ سے کریں‘کالم نویس بھی اسے موضوع بنائیں‘ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اس پرکمنٹ کریں‘ سیاستدان اور بیورکریٹ یتیم خانوں کا رخ کریں۔ دیگر اہلِ خیر اپنے گھروں پر یتیم بچوں کو مدعو کریں…اور اب میجر عامر کا خط:۔ ”آپ نے بجا طور پر اس تابناک تاریخ کا ذکر چھیڑ ا ہے‘ جسے بدقسمتی سے ہمارے کچھ اپنوں نے دشنام بنا دیا۔ وہ جنگ یقینا پاکستان کی سلامتی ‘افغانوں کی آزادی اور ان کی تاریخ کی سربلندی کی جنگ تھی۔ 1971ء میں روس انڈیا کے ساتھ مل کر ہمیں توڑچکا تھا‘ اس کے بعد پختونستان‘ گریٹربلوچستان اور سندھو دیش کی تحریکیں روسی سرپرستی میں افغان سرزمین سے سرگرم عمل رہیں۔ اس سلسلے میں خودگھر کے بھیدی بھی کئی کتابیں لکھ چکے ہیں ‘مثلاً ”فریبِ ناتمام ‘‘،”The Trrorist prince‘‘،”کئی سولیاں سرِ راہ تھیں‘‘ اور شاہ محمد شاہ کی سندھی میں کتاب ”بات مشکل سفر کی‘‘۔روس صرف گوادر تک رسائی نہیں ‘پاکستان کا قصہ ہی تمام کردینا چاہتا تھا ‘اگر ہم اسے روکنے میں ناکام رہتے تو آج اگر میں زندہ رہتا بھی تو میرا نام عامر نہیں ‘عامروف ہوتا۔ افغانستان میں روسیوںکی آمد کے دودن بعد جنرل ضیا الحق کے دیرینہ دوست محمد یاسین عشا ئیے پر مدعو تھے‘

سینیٹرطارق چوہدری اور ڈاکٹر بشارت الٰہی بھی ساتھ تھے۔ جنرل صاحب جی ایچ کیو سے رات ایک بجے کے قریب واپس آئے اورمعذرت کی کہ افغانستان کی صورتحال پر اجلاس قدرے طویل ہوگیا۔یٰسین صاحب کے استفسار پر جنرل ضیا الحق کا کہنا تھا: افغانستان کی موجودہ صورتحال میں روس ایک لاکھ سے زیادہ فوج نہیں لاسکتا۔ چند سال میں وہ صورتحال کو اس سطح پر لے آئے گا کہ دس لاکھ تک فوج لاسکے‘ لیکن اس سے پہلے ہم نے افغانوں کے ساتھ مل کر روس کو پسپا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس افغانستان کے پہاڑوں کی سیر کے لیے نہیں‘ہمارا ہی بندوبست کرنے آیا ہے۔ اگلے دن جنرل ضیا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ ڈی جی آئی ایس آئی بریفنگ دینے لگے تو افغانستان کے نقشے پورے نہیں تھے۔ ضیا الحق نے کہا :میں روسیوں کے خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ کرچکا ہوں اور اس وقت تک لڑوں گا جب تک انہیں دریا آموکے اس پار دھکیل نہ دوں۔ اس جنگ کو جنرل مشرف کی جنگ سے جوڑنا‘ نا صرف تاریخ سے بدترین زیادتی‘ بلکہ جنرل مشرف کا بوجھ اتارنے کے مترادف ہے۔ دونوں جنگوں کا تقابل کرتے ہیں۔1:”وہ‘‘ جنگ ہم نے شروع کی امریکی دوسال بعد آئے اور وہ بھی جنرل ضیا نے چارلی ولسن کے ذریعے ان کو پاکستان کے مفاد میں Involveکیا اور” یہ‘‘ جنگ کولن پاول کے ایک ٹیلی فون پر شروع ہوئی۔2:اُس جنگ کا کنٹرول اور کمان مکمل طو رپر ہمارے پاس تھی۔ امریکی اسلحہ اور پیسہ ہم استعمال کرتے تھے۔اُس جنگ میں کوئی امریکی کسی افغان سے مل نہیں سکتا تھا۔

اس جنگ کی کمان امریکیوں کے پاس تھی ۔3:ایک بھی امریکی فوجی اُس جنگ میں شامل نہیں ہوا۔اس جنگ میں لاکھوںامریکی فوج (مع نیٹو کے) ہمارے ساحلوں پر اتری اور افغانستان جا پہنچی۔4:کوئی امریکی جہاز‘ ہیلی کاپٹر یا ٹینک اُس جنگ میں نہیں آیا۔ یہاں ستاون ہزار امریکی بمبار ہمارے ہوائی اڈوں سے اڑے۔ کئی ہوائی اڈے امریکی تحویل میں دے دیئے گئے۔ ”بموں کی ماں‘‘ تک استعمال ہوئے۔5:اُس جنگ میں کوئیDo moreنہیں تھا۔ اس جنگ میں روز یہی تکرار تھی۔6:اُس جنگ میں کسی کو پکڑ کے حوالے کرنے کا مطالبہ امریکہ نے نہیں کیا تھا۔ یہاں روز یہی حکم تھا۔ یہاں تک کہ افغان سفیر کو بھی پکڑ کر حوالے کیا گیا۔7:اُس جنگ میں ہمارا ایک بھی فوجی یا سکیورٹی اہلکار شہید نہیں ہوا۔ یہاں جنرل اور آئی جی پولیس سے لے کر سپاہی تک 10ہزار شہید ہوئے۔ 8:اُس جنگ میں سویلین شہادتیں نہ ہونے کے برابر تھیں‘ اس جنگ میں70ہزار جان سے گئے۔9:اُس جنگ نے افغان سرزمین سے سوویت انڈیا گٹھ جوڑختم کیا۔ اس جنگ نے یوایس انڈیا گٹھ جوڑ قائم کیا۔10:اُس جنگ نے عالمی فورم پر پاکستان کو عزت اور نیک نامی دی۔ اس جنگ نے رسوائی دی۔ دہشت گردی کا لیبل لگوادیا۔ 11:اُس جنگ نے افغانستان سے انڈیا کا اثرورسوخ ختم کیا ۔ اس جنگ نے بحال کردیا۔ 12:اُس جنگ کے نتیجے میں پاکستان اورافغان عوام قریب آئے۔ اس جنگ نے دوریاں اور نفرتیں پیدا کیں۔ 13:اُس جنگ میں انڈیا امریکہ کا محبوب نہیں تھا۔ اس جنگ میں یہ شیر وشکر تھے۔14:اُس جنگ نے الذوالفقار کی دہشت گردی ختم کردی‘

اس جنگ نے دہشت گردی کیمپ بحال کردیئے۔15:اُس جنگ نے پاکستان سے علیحدگی کی تحریکیں ختم کردیں ۔اجمل خٹک‘ خیر بخش مری ‘ اعظم ہوتی اورشاہ محمدشاہ سمیت وہ سارے لوگ جو کابل میں بیٹھے ہوئے تھے‘ واپس آگئے اور یہاں کی اسمبلیوں میں بیٹھ گئے۔ اس جنگ نے علیحدگی کی تحریکوں کو پھر جنم دیا۔ ہربیار اوربرہمداغ کے کیمپ بن گئے۔ بلوچستان ایک بار پھر insurgency سے دوچار ہوگیا۔ 16:اُس جنگ نے کشمیر کی تحریک ِآزادی کو تقویت دی ۔ اس جنگ نے اسے دہشت گردی سے جوڑ دیا۔17:اُس جنگ نے ہمیں دفاعی طور پر مضبوط کیا۔F-16تک ملے‘ معاشی بہتری ملی۔ اس جنگ نے بربادی اور معاشی ابتری دی۔18:اُس جنگ نے ہمیں ”گھیرائو‘‘ سے نکالا ‘ اس جنگ نے واپس گھیرائو میں ڈالا۔19:اُس جنگ نے ہمیں ایٹمی ملک بنا دیا۔ جس کی آڑ میں ہم نے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کرلیا۔ 20:اُس جنگ نے آئی ایس آئی کی صورت میں ہمیں تیسری دنیا کی سب سے موثرانٹیلی جینس سروس دی۔ یہ تقابل بہت طویل بھی ہے اور چشم کشا بھی لیکن طوالت کا احساس ہے۔ صدر کارٹر جنرل ضیا کو کہتا رہا کہ روس کو مشتعل نہ کرو صبر اور احتیاط سے کام لو ‘ مگر آئی ایس آئی اور افغانوں نے اپنے بوسیدہ ہتھیاروں کے ساتھ روس کو گھیر کر بے بس کردیا توریگن کے دور میں امریکہ کو حوصلہ ہوا۔ اور پھر وہی ہوا کہ اپنے اپنے بے وفائوں نے ہمیں یکجا کیا ۔ ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا۔ دوضیا الحق تھے‘ ایک آمر ضیا الحق اور

اس کے آمرانہ اقدامات ‘اِس ضیا الحق کے لیے میرے ہاں ذرہ برابر پسندیدگی نہیں اور دوسرا پاک فوج کا سربراہ جنرل ضیاالحق تھا‘ جو جی ایچ کیواور آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں نصف شب تک بیٹھا‘ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ جنگ اور وہ بھی انتہائی سفاک سپر پاور کے خلاف‘ پاکستان بچانے کی خاطر لڑتا رہا۔ حیرت ہے‘ خواجہ آصف کے نشانے پر بھی جنرل ضیا کا آمرانہ کردار نہیں‘ وہ جنگ ہے جس نے پاکستان کو نا صرف بچایا‘ بلکہ بہت کچھ دیا۔ دورانِ جہاد روسی سفیر جنرل ضیا سے ملنے آیا‘ ایک فائل تھماتے ہوئے بڑی رعونت سے کہنے لگا:مسٹر پریزیڈنٹ ! یہ ہماری پالیسی ڈاکیومنٹ ہے کہ ہم جہاںآئے ‘واپس نہیں گئے۔ جنرل ضیا نے روایتی قہقہ لگاتے ہوئے کہا ”ایکسیلنسی‘‘افغانوں کی بھی ایک پالیسی ہے؛ اگرچہ یہ تحریری نہیں کہ جو بھی وہاں آیا واپس ضرور گیا۔ پچھلے سال مجھ پر بیماری کا شدید حملہ ہوا۔ جنرل حمید گل مرحوم کی اہلیہ مجھے دیکھنے آئیں اور کہنے لگیں: جنرل صاحب کی خواہش تھی کہ عامر کتاب ضرور لکھے ۔ میں انہیں کیسے بتاتا کہ جو گھائو اور زخم انتہائی رازداری اور خاموشی کے ساتھ ہم نے پاکستان کے دشمنوں کو لگائے ‘وہ کیسے لکھیں ؟ ہمارا تعلق میدانِ کارزار میں اتر کر خاموشی سے کچھ کرگزرنے اور پھر منظر سے اوجھل ہوجانے والے لوگوں سے ہے ۔ جنہیں کبھی خراج نہیں ملا۔ بس اتنی سی گزارش ہے کہ ہم تو مجبورِوفا ہیں مگر اے جانِ جہاں اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے