عمران خان کامیاب ہو گا یا ناکام ۔۔۔؟ جب ان لوگوں کو کپتان کے ساتھ دیکھتا ہوں تو وہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے ، مگر یہ چہرے اسکے ساتھ کھڑے نظر آئیں تو وہ مجھے ناکام دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔ صف اول کے صحافی کی جاندار تحریر

”لاہور (ویب ڈیسک) نئے بلدیاتی نظام میں ہر شہر کے میئر اور ہر تحصیل کے سربراہ کا انتخاب براہ راست ہو گا اور یوں جو بالواسطہ الیکشن میں کونسلر اور یونین کونسل کے چیئرمینوں کی خریداری ہوتی ہے، وہ مکمل طور پر رک جائے گی۔ ہم میئر اور ناظم کو اتنا طاقتور بنا دیں گے

نامور کالم نگار حبیب اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ وہ اپنے شہر یا اپنی تحصیل کو سنوار سکے اور پھر لوگ اس کا احتساب بھی کر سکیں‘‘ وزیر اعظم کے دفتر کی چھٹی منزل پر دیگر صحافیوں کے ساتھ بیٹھ کر میں وزیر اعظم عمران خان کی گفتگو سن رہا تھا جو وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو کا ایک خاص انداز ہے۔ وہ عام سی بات میں بھی ایک جذبہ لے آتے ہیں یا یوں کہیے کہ جذبے کے تابع گفتگو کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس کوئی ایسا نکتہ ہو جس پر وہ خود مکمل طور پر یکسو ہوں اور مخاطب کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان کی گفتگو کا انداز بہت ہی دلچسپ ہو جاتا ہے۔ وہ بات کرنے کے ساتھ ہاتھ کے اشارے، جسم کی حرکت اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے بھی دلیل کا کام لیتے ہیں۔ لہٰذا وہ قائل کر لینے کے مکمل ہتھیاروں سے لیس ہو کر صحافیوں سے مل رہے تھے۔ ان کا جوش و خروش دیکھ کر مجھے جنرل پرویز مشرف یاد آئے۔ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو کچھ ہی عرصے بعد ایک ایسا بلدیاتی نظام متعارف کرایا جس میں میئر یا ضلع ناظم کا الیکشن براہ است ہونا تھا۔ براہ راست الیکشن کے بارے میں وہ بھی اتنے ہی پرجوش تھے جتنے عمران خان۔ افسوس! جب وہ نظام نافذ ہوا تو اس میں سے براہ راست الیکشن کی بجائے بالواسطہ انتخاب کا ڈھکوسلا شامل کر دیا گیا تھا

اور جہاں تک مجھے علم ہے اس وقت براہ راست الیکشن کی اس جمہوری شق کو جن لوگوں نے تبدیل کرایا تھا‘ ان میں سے ایک اس وقت خود عمران خان کی کابینہ میں بیٹھا ہے‘ اور دوسرا لاہور میں بیٹھ کر ہر وقت سازشیں کرتا رہتا ہے۔ان سازشوں اور سازشیوں سے بچ کر عمران خان کی حکومت اگر یہ نظام آئندہ ایک سال کے اندر اندر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو کم از کم ان دو صوبوں میں گورننس کا انقلاب آ جائے گا۔ عام آدمی کی شمولیت اور عام آدمی کے ذریعے چلنے والے یہ ادارے صحیح معنوں میں پاکستان میں تبدیلی لے آئیں گے۔ مجھے عمران خان کی اس بات سے بھی سو فیصد اتفاق ہے کہ یہ نظام ہی پاکستان میں گورننس کی کمزوریوں کو دور کر سکتا ہے۔ لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ اپنے والد کی تھپکی کے بعد ان کے فرزند مونس الٰہی‘ اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اس نظام کے خلاف متحرک ہو گئے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ عمران خان یہ نہیں کر پائیں گے۔ تحریک انصاف کا تجویز کردہ بلدیاتی نظام پاکستان بھر کی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے تبدیل کر کے رکھ دے گا۔ یہ بات نہ چودھری گوارا کر سکتے ہیں، نہ ہی کوئی اور سیاسی خاندان۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد ان کے علاقوں کی سیاست ان کے ہاتھوں سے نکل کر عام آدمی کے ہاتھوں میں جانے کا امکان پیدا ہو جائے گا

اور عام لوگ اٹھ کر محلہ کونسلوں اور پنچایتوں کے سربراہ بن جائیں گے، کیونکہ ان سیاسی خاندانوں کے پاس اتنے بھانجے، بھتیجے یا بھانجیاں اور بھتیجیاں ہیں ہی نہیں کہ ہر گاؤں، ہر محلے میں عوام کی قیادت کے لیے دستیاب ہوں۔ اس نظام کے تحت قیادت عام آدمی کے پاس جائے گی اور انہی میں سے کل کوئی امکانی طور پر لیڈر بھی بن جائے گا۔ اس لیے پہلا خطرہ تو یہ ہے کہ چودھری بیوروکریسی میں اپنی روایتی رشتہ داریوں کے ذریعے کوئی ایسی پخ لگائیں گے کہ میئر کے براہ راست الیکشن کا سلسلہ ہی ختم ہو جائے۔ اس طرح کی ایک پخ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے لگائی بھی جا رہی ہے کہ نئے بلدیاتی قانون کی نا معلوم شق سے الیکشن کے قانون کی نا معلوم شق پر زد پڑ رہی ہے‘ لہٰذا عمران خان کو اس قانون کے نفاذ تک اس کی چوکیداری کرنا پڑے گی کیونکہ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ اس قانون سے کتنے مافیاز ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ان مافیاز کو وہی نظام پسند ہے جس میں وہ پیسے کے ذریعے ووٹوں کی خرید و فروخت کے بعد اپنے مرضی کا میئر لگا سکیں۔ بلدیاتی اداروں میں بالواسطہ الیکشن یعنی کونسلروں یا یونین کونسل کے چیئرمینوں کے ذریعے سربراہ کا انتخاب دراصل غلاظت کا کاروبار ہے۔ عمران خان کو خود علم ہے کہ کس طرح خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے کونسلروں نے اپنے ہی امیدوار سے پیسے لے کر ووٹ دیے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے لیے

پنجاب میں ان کے ساتھ ملنے والوں نے اپنی سابقہ جماعتوں کے اندر رہتے ہوئے کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی ہارس ٹریڈنگ کر کے اپنے اپنے ضلعے کو اصل جمہوریت سے بچایا۔ چونکہ بلدیاتی اداروں کے براہ راست انتخابات کی صورت میں ہارس ٹریڈنگ ہونا ممکن نہیں رہتا اس لیے سب سے زیادہ اعتراض اسی شق پر کیا جائے گا۔ جب عمران خان یہ اعتراض قبول نہیں کریں گے تو جنرل پرویز مشرف کی طرح انہیں ڈرایا جائے گا کہ اگر مخالف سیاسی جماعتوں نے یہ ادارے جیت لیے تو طوفان آ جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ فیصلہ عمران خان صاحب نے کرنا ہے کہ انہیں پاکستان میں حقیقی تبدیلی لے کر آنی ہے یا محض ڈر ڈر کر حکومت کرنی ہے۔کسی بھی بلدیاتی نظام کو دو پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے، ایک اس کا طریقۂ انتخاب اور دوسرے اس کو ملنے والے پیسوں کا طریق کار۔ بلدیاتی ادارے کے سربراہ کا براہ راست الیکشن اور صوبے سے براہ راست گاؤں کی پنچایت تک فنڈز کی منتقلی کی وجہ سے نیا بلدیاتی نظام سابقہ نظاموں سے بہت بہتر ہے۔ اس کے علاوہ از خود مقامی ٹیکس لگانے اور اکٹھے کرنے کے جو اختیارات نئے قانون میں بلدیاتی اداروں کو دیے گئے ہیں‘ اگر انہیں اچھے طریقے سے استعمال کر لیا جائے تو دو چار سال میں پاکستان میں قریے قریے کی حالت بدلی جا سکتی ہے۔ لیکن ان سے بھی زیادہ ضروری یہ یقین دہانی ہے کہ کیا ملک میں بلدیاتی نظام کو چلانے کے لیے صاف نیتی بھی ہے؟ عمران خان کی حد تک یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ

وہ ایک تگڑے بلدیاتی نظام کو ملکی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان بھر کے سیاستدانوں میں نواز شریف کے علاوہ کوئی تیسرا نام نہیں جو بلدیاتی نظام پر یقین رکھتا ہو۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں میں سے صرف یہی دو حضرات ہیں جنہوں نے بلدیاتی نظام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ نواز شریف کی کوشش کو شہباز شریف نے تباہ کر ڈالا کہ دو ہزار پندرہ میں بلدیاتی الیکشن کرا کر اپنی ہی جماعت کے نمائندوں کو ایک سال تک حلف نہیں لینے دیا اور عمران خان صاحب کی کوشش کو تباہ کرنے والے بھی ان کے ارد گرد ہی موجود ہیں۔ یہ تمام لوگ وہی ہیں جنہوں نے مشرف کے بنائے ہوئے بہترین بلدیاتی نظام کو برباد کر دیا۔ اب یہی لوگ دوبارہ عمران خان کے ساتھ مل کر یہ کہیں کہ بلدیاتی نظام لایا جائے گا تو ان کی بات پر کون یقین کرے گا۔ ہمیں تو یہی ڈر رہے گا کہ آج نہیں تو کل یہ سب مل کر عوام کا یہ حق بھی چھیں لیں گے، جیسے یہ ہمیشہ سے چھینتے رہے ہیں۔ بس اس دفعہ نام عمران خان کا استعمال ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس اصل تبدیلی اور اصل جمہوریت کو عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔نواز شریف کی کوشش کو شہباز شریف نے تباہ کر ڈالا کہ دو ہزار پندرہ میں بلدیاتی الیکشن کرا کر اپنی ہی جماعت کے نمائندوں کو ایک سال تک حلف نہیں لینے دیا اور عمران خان صاحب کی کوشش کو تباہ کرنے والے بھی ان کے ارد گرد ہی موجود ہیں۔ یہ تمام لوگ وہی ہیں جنہوں نے مشرف کے بنائے ہوئے بہترین بلدیاتی نظام کو برباد کر دیا۔اب یہی لوگ دوبارہ عمران خان کے ساتھ مل کر یہ کہیں کہ بلدیاتی نظام لایا جائے گا تو ان کی بات پر کون یقین کرے گا۔(ش س م)