عمران خان ،زر داری یا شریف برادران کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرنے کا ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوا نہ ہو گا کیونکہ ۔۔۔۔۔ اتوار کے روز بزرگ پاکستانی صحافی نے قوم کو انوکھا مشورہ دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) آج اتوار ہے۔ اپنوں سےملنے ملانے، آپس کی سننے سنانے کا دن۔ اہل مغرب جن کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ وہاں مشترکہ خاندان کا رواج ختم ہورہا ہے۔ وہ بھی ہفتہ اتوار صرف اپنے اور اپنوں کے لئے رکھتے ہیں۔ وہ تو ان دنوں میں اپنوں کے علاوہ کسی کا فون بھی نہیں سنتے۔

نامور کالم نگار محمود شام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں جانا ہوتا ہے تو وہاں شیڈول میں لکھا ہوتا ہے کہ ہفتہ اتوار وہ فون بھی نہیں سنیں گے۔ میں تو آج اپنوں میں نہیں ہوں۔ نوشکی میں ایک ثقافتی اور ادبی میلے میں ہوں۔ مشاعرہ ہوچکا ہے۔ آج پاکستانی زبانوں پر سیمینار ہے۔ مجھے پاکستانی زبانوں میں عشق اور مزاحمت پر گفتگو کرنا ہے یہ سب بھی اپنے ہیں۔ بلوچستان تو ہمارا سب سے پیارا علاقہ ہے۔ جہاں ہمارا روشن مستقبل اپنے طلوع کا منتظر ہے۔ اس میلے کی روداد تو پھر سنائیں گے۔ اتوار ملن تحریک بہت پسند کی جارہی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ مجھ سے یہ نیک کام لیا جارہا ہے۔ ٹوٹے دل مل رہے ہیں۔ بچھڑے ہوئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ بہت سے احباب بتارہے ہیں کہ آپ نے یہ اچھا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ہم بہن بھائی اب ہر اتوار کسی نہ کسی کے گھر اکٹھے ہوتے ہیں۔ میں پہلے دوپہر کے کھانے کی بات کررہا تھا۔ اب یہ گزارش بھی کہ کبھی کبھار ناشتہ بھی ایک جگہ کرلیا کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ حلوہ پوری کے شوق میں کسی بیکری کے باہر قطار میں انتظار میں کھڑے ہوں۔ گھر پر بھی پوریاں بن سکتی ہیں۔ ایک احتیاط کریں کہ اس اکٹھ میں بھی عمران خان، زرداری، شریف صاحبان اور مولانا فضل الرحمن پر تنقید یا توصیف نہ شروع کردیں۔ یہ لاحاصل بحث ہے۔ کیونکہ ہم ان حضرات میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے۔ ان سب کی عادتیں پکی ہوچکی ہیں۔

یہ اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو صدیوں سے ایک ہی سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ ان کا جو بھی ایجنڈا ہے وہ اسے پورا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اندر تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ہمارا اپنے اوپر بس چلتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو بہتری کی طرف مائل کرسکتے ہیں۔ یہ ہمارا فطری عمل بھی ہے۔ شرعی فرض بھی کیوں نہ ہم اپنے بیٹوں بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسوں نواسیوں میں اپنے رشتے داروں میں وہی خوبیاں اور رجحانات لانے کی کوشش شروع کریں۔ جن کی توقع ہم بلاول، زرداری، عمران، شریف برادران سے رکھتے ہیں۔ اپنے محلے میں کوشش کریں کہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے میں ساتھ دیں۔ بزرگوں کو سہارا دیں۔ بچوں کی انگلی پکڑیں۔ ناداروں کی ضروریات پوری کریں ،ان اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں بھی جائیں جہاں بچے بچیاں پڑھتے ہیں۔ وائس چانسلر، پرنسپل، ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس سے ملیں۔ اپنے بچوں کا بھی پوچھیں۔ ان درسگاہوں کو جو مسائل درپیش ہوں ان میں بھی اگر آپ کی مدد درکار ہے تو اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔ جہاں آپ کام کرتے ہیں، رزق حلال کماتے ہیں۔ دفتر ہے یا کارخانہ، دکان ہے یا کوئی درسگاہ۔ وہاں وہ تبدیلیاں لائیں جو آپ حکومت میں لانا چاہتے ہیں۔جمہوریت تو اسی وقت آئے گی جب جمہور بدلے گی۔ کیا آپ اپنے دفتر میں رشوت لینا دینا بند کرواچکے ہیں۔ آپ تو رشوت نہیں لیتے ہوں گے۔ مگر آپ کے آس پاس تو چائے پانی کا خرچہ مانگا جاتا ہوگا۔ پنشن والے بزرگوں کو تنگ کیا جاتا ہوگا۔

فائلیں چلانے کے لئے پہیے مانگے جاتے ہوں گے۔ آپ نے کبھی ان کی مزاحمت کی۔ آپ کے گھر میں کیا ناجائز آمدنی کا داخلہ بند ہے۔ کیا مائیں بیٹوں سے سوال کرتی ہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی یا آپ چپ چاپ اس سے ٹین کی چھت کو کنکریٹ کی چھت میں بدل لیتے ہیں یا چھوٹا مکان بیچ کر بڑا مکان خرید لیتے ہیں۔ آپ جن بڑے ہوٹلوں میں دوستوں اور اہل خانہ کو کھانے پر لے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے بل ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی اپنی ماہانہ آمدنی میں ممکن ہے۔ نئے نئے برانڈز کے ملبوسات، جوتے، شاپنگ مالوں میں آپ اور بہت سے ہم وطن آتے ہیں۔ کیا ہم اپنی محدود آمدنی میں یہ سب کچھ خرید سکتے ہیں رہائشی علاقے تجارتی علاقوں میں بدل رہے ہیں۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کچھ لئے بغیر اسکی اجازت دیتا ہے۔ آپ خود بھی دیکھتے ہوں گے کہ یہ بلاک تو پرسکون رہائش کے لئے بنائے گئے تھے۔ جہاں اب بازار ابھر آئے ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں کمرشل ایریا میں پلنے والی نسلیں رشتوں کی قیمت نہیں جانتیں۔ وہ صرف گاہک کی جیب سے کریڈٹ کارڈ سے پیسے نکلوانا جانتی ہیں۔ ہم اور آپ میں سے بہت سے جو سرکاری کوارٹرز میں اس لئے رہتے ہیں کہ آپ کے بزرگ سرکاری ملازم تھے۔ اس خدمت پر انہیں یہ الاٹ ہوا تھا۔ وہ ریٹائر ہوگئے پھر بھی آپ نے کوارٹر خالی نہیں کیا۔ ملازمت پر آنے والی نئی نسلیں بے گھر ہیں۔ ان کا حق تھا کہ یہ سرکاری کوارٹر انہیں ملتا۔

وہ اسٹیٹ آفس کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اپنی اس ذہنی بے چینی کے ساتھ وہ سرکاری امور انجام دیتے ہیں۔ کوارٹر خالی کرنے کی بجائے اس کے پورشن آپ نے کرایے پر چڑھا دیئے آپ کے پڑوسیوں نے تو بعض حصے بیچ بھی ڈالے۔ جن کے اپنے گھر ہیں۔ انہوں نے بھی اجازت یافتہ نقشوں کی خلاف ورزی کی۔ مزید پورشن بنالئے۔ محلے میں آبادی بڑھ گئی۔ پینے کا پانی اور نکاسی آب کی گنجائش جتنے انسانوں کے لئے ہے۔ اس سے کہیں زیادہ انسان ہوگئے۔ سہولتیں عاجز ہوگئیں۔ پانی کم پڑگیا۔ گٹر ابل پڑے۔ اس کے لئے آپ نے سرکار پر لعن طعن شروع کردی معاف کیجئے میں کہاں سے کہاں نکل گیا۔ بات محبت اور آپس میں یگانگت کی ہورہی تھی کہ اتوار صرف اور صرف ایک دوسرے کے قریب آنے کے لئے ہونا چاہئے۔ ہم آپس میں خیالات کا تبادلہ کریں۔ ہفتے بھر جن مشکلات اور مسائل کا سامنا کیا یا جو ملک کے آگے بڑھنے کی بشارتیں ملیں یا اپنے اردگرد جو برکتیں ملاحظہ کیں۔ کسی ہم وطن کی اپنے مشن میں سرخروئی کا نظارہ کیا۔ اس کے حوالے سے باتیں کریں۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے پھول کھل رہے ہیں۔ زندگی میں آسانیاں لائی جارہی ہیں۔ علاج معالجے میں پیش رفت ہورہی ہے۔ اخبارات کے سنڈے میگزین میں بھی یہی جذبہ کارفرما ہوتا ہے کہ ان میں سب کے لئے آسودگی کا پہلو ہو۔ پہلے سینمائوں میں اتوار کے دن کچھ اضافی شو ہوتے تھے۔ اب یہ جدید طرز کے وی آئی پی سینمائوں کا پتہ نہیں ہے۔ چھوٹے ہیں مگر مہنگے ہیں۔ 12 آنے والی کلاس ہی نہیں ہے۔ ہیرو ہیروئن کی ملاقات ہونے پر بے اختیار سیٹیاں بجتی ہیں یا نہیں۔ انٹرول میں سوڈے کی بوتلوں کی کھنکھناہٹ ہے یا نہیں۔ منو بھائی یاد آتے ہیں۔ وہ عبوری حکومت کے وزرا کو سینما کے انٹرول میں ٹن ٹناتی بوتلیں لے کر آنے والوں سے تشبیہ دیتے تھے۔آپ سے جو باتیں ہوتی ہیں۔ انہیں اپنے تک نہ رکھیں۔ دوسروں میں بھی بانٹیں۔ اتوار کو یوم محبت اور یوم عزم بنالیں۔ پھر دیکھئے آپ کا ہفتہ کتنا پرجوش اور بھرپور گزرتا ہے۔( ش س م)