پچھلے دنوں میں نے لاہور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر سے ایک ناجائز سفارش کی ؟ پھر انہوں نے واقف اور دوست ہونے کے باوجود مجھے کیا جواب دیا ؟ نئے پاکستان کے مخالفوں کے لیے توفیق بٹ کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اپنے کالم ” لاتوں کے بھوت“ کی دوسری قسط میں ، میں کچھ ٹریفک وارڈنز کی شدید تنقید کا نشانہ بننے والے سی ٹی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کے وہ قصوریا ” جرائم “ بتا رہا تھا جِن کی وجہ سے اُنہوں نے اپنے اپنے دُشمن پیدا

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کرلئے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے اُن کا یہی وطیرہ رہا یا اپنے حصے کی شمع اِسی طرح وہ جلاتے رہے مستقبل میںسوائے اللہ کے کوئی اُن کا دوست نہیں رہے گا۔ اِن دِنوں جِس جذباتی انداز میں اپنے محکمہ کی اصلاح میں وہ لگے ہوئے ہیں، یا یوں کہہ لیں کچھ کی دُم سیدھی کرنے کی جو کوشش وہ کر رہے ہیں اُس کے نتیجے میں سوائے اُن کے ضمیر کے شاید ہی کوئی مطمئن ہوگا۔ البتہ وہ بتا رہے تھے اِس ضمن میں آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کا مکمل تعاون اور حمایت اُنہیں حاصل ہے۔ امجد جاوید سلیمی کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے وہ بہت ماتحت پرور ہیں۔ کِسی کے خلاف کسی قسم کا بغض اور کینہ اپنے دِل میں نہیںر کھتے۔ ممکن ہے وہ جب ریٹائرڈ ہوں محکمہ پولیس کی اصلاح کے حوالے سے کوئی کارنامہ اُن کے کھاتے میں ہم نہ ڈال سکیں، مگر اُن کے بارے میں یہ کوئی نہیں کہہ سکے گا، بلکہ اُن کے بدترین دُشمن یا اُن کے حاسدین بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ محض ذاتی پسند و نا پسند کی وجہ سے کسی سے کسی قسم کا اُنہوں نے انتقام لیا۔ بعض اوقات اپنے کچھ انتہائی نالائق ماتحتوں کی کچھ خامیوں پر پردہ ڈال کر اُنہیں بچانے کی وہ کوشش بھی کرتے ہیں مگر کچھ ماتحت اپنے نکمے پن کو اُس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں اُن کا بچنا یا اُنہیں بچانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

جہاں تک سی ٹی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کا تعلق ہے اُن کی کار کردگی سے بہت کم لوگ مطمئن ہیں، خود میں بھی اُن سے مطمئن نہیںہوں۔ اُن کی ایمانداری جہاں اُن کے کچھ ماتحتوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے اور وہ بے چارے اِن دِنوں سوچ کی اِس اذیت میں مبتلا ہیں یہی حالات رہے اُنہیں حلال کھانے کی عادت ہی نہ پڑ جائے، وہیں وہ جب ہمارا بھی کوئی غلط کام نہیں کرتے، بلکہ کوئی لگی پٹی رکھے بغیر صاف انکار کر دیتے ہیں تو ہم بھی سوچ میں پڑ جاتے ہیں اُن کی کون سے خرابی ہے جِس پر تنقید کر کے ہم اپنا غصہ یا بھڑاس نکال سکیں؟ جو ظاہر ہے ہم نہیں نکالیں گے۔ ہماری کچھ صحافتی روایتوں پر شدید زد پڑے گی اور کچھ ایماندار افسران جو پہلے ہی ہمیں بہت ” ایزی“ لیتے ہیں مزید ایزی لینا شروع کر دیںگے۔ جِس کے نتیجے میں خدشہ ہے ہمارا صحافتی دبدبا کہیں مکمل طور پر ہی دب کر نہ رہ جائے۔ کرپٹ افسر اِس حوالے سے بڑا ” عظیم “ ہوتا ہے وہ صحافیوں بلکہ کِسی کو بھی ناراض کرنے کی ہلکی سی کوشش بھی نہیں کرتا۔ سو میرا بس چلے یا حکومتی معاملات کبھی میرے ہاتھ میں آجائیں کم از کم اپنے کچھ صحافی بھائیوں کو خوش کرنے کے لئے میں ہر شعبے میں چُن چُن کر کرپٹ افسروں کو تعینات کروںگا تا کہ ہمیں اُن سے کوئی شکایت ہی پیدا نہ ہو۔ ابھی پچھلے دِنوں میں نے سی ٹی او لاہور سے ایک ناجائز سفارش کی اُنہوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔

بلکہ انتہائی بدلحاظی کا مظاہرہ کیا۔ اُس دِن بھی مجھے اُن کے کرپٹ نہ ہونے پر بڑا غصہ آیا۔ میں نے سوچا میں اُن سے انتقام لینے کے لئے زیادہ سے زیادہ اُنہیں ” بے دید“ یا بدلحاظ“ لکھ سکتا ہوں مگر اِس کا اُنہیں کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ سو میں اب اِس تاک اور کوشش میں ہوں اُن کی کوئی کرپشن یا مالی کمزوری میرے نوٹس میں آئے اور میں اُن سے بدلہ لے سکوں۔ اور اپنی اُس انا کو کچھ سکون پہنچا سکوں جسے میرا ایک چھوٹا سا غلط کام نہ کر کے انہوں نے شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں آئی جی پنجاب یا وزیر اعلیٰ بزدار سے کسی روز ملاقات ہو گئی میں ان سے شکایت کروں گا آپ نے لاہور میں ایسا سی ٹی او کیوں تعینات کیا ہوا ہے جو خود کھاتا ہے نہ کسی کو کھانے دیتا ہے؟۔ یہ پولیس افسر بددیانتی کی راہ میں ایسے ہی رکاوٹ بنا رہا اور اپنی اہلیت سے اپنے محکمے کے لئے ایسے ہی نیک نامی کا باعث بنتا رہا، اور اس کے دیکھا دیکھی دیگر افسران نے بھی لوٹ مار کم کر دی یا بالکل ہی ختم کر دی تو نیب اور اینٹی کرپشن جیسے اداروں کا کیا بنے گا؟۔ ان حالات میں تو یہ ادارے بند کرنے پڑ جائیں گے، جس کا نقصان یہ ہو گا اس ملک کی ”اصل قوتیں“ اپنے مخالف سیاستدانوں یا افسروں پر دباﺅ کیسے ڈال سکیں گی؟۔ لہٰذا نیب اور اینٹی کرپشن جیسے ”پاک صاف اداروں“ کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے

افسران کو خفیہ طور پر ہدایت جاری فرمائی جاوے چھوٹی موٹی کرپشن وہ کرتے رہا کریں۔ کچھ افسران تو اس ضمن میں ویسے ہی کسی ہدایت کے محتاج نہیں۔ ان کے لئے وزیر اعلیٰ بزدار کا رشتہ دار ہونا ہی کافی ہے۔ پنجاب میں ان کا ایک انکل ٹائپ کوئی عزیز ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہے۔ وہ کرپٹ پٹواریوں کی تقرریوں اور تبادلوں کے لئے اپنے کچھ ماتحتوں پر بذریعہ ”موبائل میسجز“ ایسے دباﺅ ڈالتا ہے جیسے وہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نہیں ”انجمن پٹواریاں“ کا سیکرٹری ہو۔ ڈی سی او خوشاب بھی سنا ہے ان دنوں اپنی ”غربت“ مٹانے کی ہر ممکن کوششیں اس لئے کر رہا ہے کہ کیا خبر کب اس کے نااہل و نکمے رشتہ دار وزیر اعلیٰ بزدار کی چھٹی ہو جائے (جس کے چانسز دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں) اور اس کی اپنی غربت مٹانے کی خصوصی مہم بیچ میں ہی کہیں رہ جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کا ایک المیہ یہ بھی ہے، یا یوں کہہ لیں کچھ انتظامی معاملات میں انہیں قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہو رہی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے وہ ”بیورو کریسی“ خصوصاً بیورو کریسی ”روایتی فنکاریوں“ سے زرا آشنا نہیں ہیں۔ کون سا افسر کتنا ایماندار ہے یا کتنا کرپٹ ہے؟ ذاتی طور پر اس بارے میں ان کی معلومات صفر ہیں۔ ”سونے پہ سہاگہ“ یہ اس حوالے سے جو ”خفیہ سول ایجنسیاں“ انہیں معلومات فراہم کرتی ہیں وہ ان ایجنسیوں کی ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق ہوتی ہیں۔ ان خفیہ سول ایجنسیوں پر زیادہ تر نون لیگی افسروں کا قبضہ یا غلبہ ہے۔خصوصاً ان کے سربراہان سابق نون لیگی حکمرانوں کے اچھے خاصے قریب رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان جب تک ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کریں گے ملک خصوصاً پنجاب کے انتظامی معاملات میں انہیں وہ کامیابی ہرگز حاصل نہیں ہو گی جو ان کے تبدیلی کے خواب کو تعبیر بخش سکے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے اس ملک کی ”اصل قوتوں“ نے اقتدار خان صاحب کے حوالے کرتے ہوئے حکومت سازی میں کچھ کرپٹ اور نااہل نون لیگی افسروں کا باقاعدہ کوٹہ مقرر کروا لیا تھا۔ خود وزیر اعلیٰ بزدار کے اندر نون لیگی محبت ابھی تک جاگ رہی ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کچھ ایسے نااہل اور بددیانت نون لیگی سول و پولیس افسران کی دھڑا دھڑ تقرریاں وہ کرتے جا رہے ہیں جن کا مشن سوائے اس کے کچھ نہیں ہو سکتا خان صاحب کی حکومت کو ہر حوالے سے ناکام بنانے کی کامیاب کوششیں کی جائیں۔اور دوسرا ثبوت یہ ہے وزیر اعلیٰ بزدار تقریباً ہر معاملے میں شہباز شریف بننے کی ناکام کوششیں کرنے میں بڑے کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے اس عمل سے پہلی بار ہمیں یہ محاورہ سمجھنے میں کافی مدد ملی ہے۔ ”کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا“!!(ش س م)