ایک ڈرامہ جس کی ریٹنگ انتہا کو چھو رہی ہے لیکن عورت پاکستان کی بدنام ہو رہی ہے۔۔۔۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون صحافی نے پورے معاشرے کو آئینہ دکھا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) آج پورا کالم کسی ایک سیاسی موضوع پر صرف کرنے کی بجائے سوچا اپنے لکھے ہوئے چند سبق آموز جملے تحریر کردوں۔میرے یہ جملے اکثر اوقات سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔مرد کا پہلا اور آخری رومانس اس کی ماں ہے،عورت سمجھ جائے تو محبوبہ نہ سمجھے تو بیوی۔۔۔

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔۔مرد کو رب نے مضبوط بنایا ہے لیکن باپ کمزور ہوتا ہے ،مرد نہیں روتا لیکن باپ رو دیتا ہے اور بیٹی کا باپ تو کانچ ہوتا ہے۔۔۔ ماں کی یاد اچھی بات ہے پر کوئی ہسپتال سکول مدرسہ باپ کے نام بھی صدقہ کر جائو ،آج جہاں تو کھڑا ہے تیرے باپ کی دن رات کی محنت و مشقت کا صدقہ ہے۔ ضروری نہیں دراز قد ‘‘قد آور ‘‘بھی ہو اور دلکش ‘‘دلفریب ‘‘بھی ،دل پر حکمرانی ‘‘کردار’’ کر تا ہے اداکار نہیں۔ حسن اور شباب کو عمر کی تھکاوٹ نہیں دکھاوے کی بناوٹ بوڑھا کر دیتی ہے۔ میاں بیوی ایک دوجے کا لباس ہیں ،میاں بیوی میں ذاتی معاملات کوخداکے علاوہ کسی اورکے علم میں لانا رشتے کی کمزوری کی بنیاد اور سبب بنتا ہے ، دو میں تیسرا خدا شامل نہ کیا جائے تو تیسرا شیطان داخل ہوجاتا ہے۔۔ کم ظرف پر احسان کرو تو اس کے شر سے بھی بچو کہ کم ظرف اپنے محسن کو ڈنگ مارنے، حسد ،بہتان اور نقصان پہنچانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔کم ظرف نے سانپ کا دودھ پی رکھا ہے۔۔۔ جس نکاح کی نیت طلاق پر ہو کہ کچھ عرصہ بعد چھوڑ دوں گا اس فعل کو خواہ حلالہ کا نام دو یا متعہ ، وہ نکاح نہیں بلکہ توہین اسلام ہے ،شرعی نکاح عمر بھر ساتھ رہنے کی نیت کا نام ہے۔۔۔ کسی بھی مذہبی کتاب کے مطالعہ سے پہلے قرآن پاک کا بغور مطالعہ ضروری ہے تا کہ گمراہی سے بچا جا سکے۔۔۔

تمہیں دکھ رنج پہنچانے والے کے لئے تمہارارب کافی ہے پھر تم کیوں غلاظت میں اپنے ہاتھ بدبودار کرتے ہو، پاکستانی ٹی وی ڈرامے لوگوں میں احساس کمتری پیدا کر رہے ہیں۔مسلسل ڈرامے دیکھنے سے نہ اپنا گھر خوبصورت لگتا ہے اور نہ گھر والی۔۔۔ ڈراموں میں کھلم کھلا شراب نوشی دکھائی جاتی ہے اور ساتھ لکھ دیا جاتا ہے’’شراب پینا منع ہے’’کل کو فحش مناظر کے ساتھ لکھ دیں گے کہ ‘‘ایسا کرنا حرام ہے ‘‘۔۔۔پاکستانی معاشرہ کی تباہی میں میڈیا کاشرمناک کردار نسلوں کونگل رہا ہے۔۔۔ فارغ خواتین اور ریٹائر بزرگ وقت گزارنے کی بجائے اصلاحی و فلاحی کاموں کووقت دیں،وقت تیزی سے نکل رہاہے، بیماری معذوری موت سے پہلے پہلے اگلے جہان کے لئے بھی کچھ جوڑ لو۔ایک ڈرامے میں ایک عورت بغیر نکاح کے ایک غیر مرد کے ساتھ رہنے چلی جاتی ہے۔ ایسا مغربی معاشروں میں تو ہوتا ہے مگر پاکستا ن کی عورت اگر عارضی طور پر گمراہ ہو بھی جائے ابھی اتنی مادر پدر آزاد اور بے حیا نہیں ہوئی کہ بغیر نکاح غیر مرد کے ساتھ مستقل طور پر اس کے گھر قیام پذیر ہو جائے اور اس کا ضمیر خاموش رہ سکے یا خاندان معاشرہ خاموش رہے؟ محبت کرنے والے شوہر کی بیوی اور اس کے بچوں کی ماں دوسری شادی کرتی ہے تو اس فعل کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے کہ بلا جواز طلاق یا خلع لینے والی عورت پر اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشبو حرام قرار دی ہے۔ کجا بغیر شادی غیر مرد کے ساتھ رہنا شروع کر دے ؟ہرکنواری لڑکی بیوی بننا چاہتی ہے خواہ گھر سے بھاگ جائے۔

چند ایک بیہودہ واقعات سے پاکستانی عورت مراد ہر گز نہیں ہے۔ہاں جو عورتیں مستقل ذلالت قبول کرتی ہیں یا تو ان کا خاندان نہیں ہوتا یا خاندان پیشہ ور دلال ہو گا۔ غیر مردکے پاس مستقل رہنے والی پاکستانی مشرقی مسلم معاشرے کی عورت کی کہانی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک ڈرامہ ہے جس کی ریٹنگ انتہا کو چھو رہی ہے لیکن عورت پاکستان کی بدنام ہو رہی ہے۔ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔گڈ ٹائم گزارنے والے دوست نہیں ‘‘کمپنی’’ ہوتے ہیں، نوسر باز ریاکار مفاد پرست کی صحبت تمہاری سوچ اور شخصیت کا پتہ دیتی ہے۔ہر اچھی بات قول نصیحت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب نہ کر دیا کرو کاپی پیسٹ سے پہلے تحقیق و مطالعہ کر لیا کرو ورنہ ثواب کی بجائے گناہ کر بیٹھو گے۔ اپنے خالق سے خالص تعلق مانگو، تعلق جڑ گیا تو بے فکر بے غم بے نیاز ہو جائو گے پھر چلتے پھرتے قیام و سجود ہوتے ہیں دنیا تماشہ لگنے لگتی ہے۔۔۔عورت کے چہرے پر تمام رنگ مرد کے دئیے ہیں چاہے خوشی کے ہوں یا غم کے۔۔۔اپنی ذات کے لئے سب ہی حساس ہوتے ہیں ، حساس وہ ہے جو دوسروں کی تکلیف محسوس کرنے کی حس رکھتا ہو۔۔۔بچپن کی غریبی تو نکالی جا سکتی ہے لیکن سوچ کی مفلسی ڈگریوں سے بھی نہیں نکالی جا سکتی۔۔۔ ٹوٹا ہوا یقین اور گزرا ہوا بچپن لوٹ کر نہیں آتے۔۔۔ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جن پر معاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن دوبارہ تعلق نہیں جوڑا جا سکتا۔۔۔ تم نے جو کھا پی پہن اوڑھ لیا بس وہی تمہارا ہے

باقی تم پر مٹی ڈالنے والوں کا۔۔۔ کسی کا دل اتنا نہ دکھائو کہ خدا کے سامنے وہ تمہارا نام لے کر رو دے۔زندگی ہے کہ منہ زور گھوڑے کی مانند دوڑے چلی جا رہی ہے اور انسان ہے کہ اس کے پاس اپنے ساتھ وقت گزارنے کی فرصت ہی نہیں،خالص چند گھڑیاں صرف اپنے ساتھ گزار کر دیکھو ،خود پر رحم نہ آئے تو کہنا۔۔۔ پردہ اور حیا دومختلف چیزیں ہیں۔ایک فاحشہ بھی منہ چھپا کر بازار جانے پر مجبور ہوتی ہے لیکن ‘‘حیا’’بہت عظیم اور بلند مقام ہے۔’’حیااور وفا ‘‘عطائے خداوندی ہے۔حیادار اور وفادار مرد و خواتین عام لوگ نہیں ہوتے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کے والدین کو بھی شرم اور ہوش آنا چاہئے جو اپنے بچوں کو قرآن یا ٹیوشن پڑھانے کے لئے غیر مردوں پر اعتبار کرتے ہیں ، اپنی نظروں سے اوجھل کرتے ہیں ، اپنے ہاتھوں سے بھیڑیوں کے حوالے کرتے ہیں۔۔۔جس مقام پر بے بسی دم توڑ جاتی ہے ،رضاکا سفر وہاں سے شروع ہوتا ہے۔عورت صبر کا مظاہرہ نہ کرے تو مرد سگی ماں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے محروم ہو جاتا ہے۔استخاروں اور خوابوں میں خدا نہیں ، خدا کو ٹوٹے ہوئے دلوں میں تلاش کر و۔۔۔عیسائیوں کو آسیہ مل گئی، سکھوں کوکرتار پورمل گیا، ہندوؤں کومندر مل گیا کشمیریوں کو “تقریر” مل گئی اور پاکستانیوں کو “مہنگائی’’۔۔۔ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی مظاہرے ، آدھ گھنٹہ گھروں سے باہر کھڑے ہونا ، جلسہ جلوس اجتماع خطاب جذبات ، حکومت کچھ تو شغل جاری رکھتی کہ شہہ رگ کا بھرم ہی رہ جاتا۔ادھر ظلم ادھر ستم۔۔۔